aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bahan"
مخاطب ہے بندے سے پروردگارتو حسن چمن تو ہی رنگ بہار
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
یہ ڈھلکے بدن اور یہ مدقوق چہرےثناخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
یوںہی دیکھوں جو راکھی کو تو یہ رنگین ڈورا ہےجو دیکھوں غور سے اس کو تو ہے زنجیر لوہے کیجو بڑھ کر قید کر لیتی ہے آفت اپنے بھائی کیمصیبت کی حقیقت کیامصیبت آ نہیں سکتیمصیبت کانپ جاتی ہےجو راکھی دیکھ لیتی ہےکسی بھائی کے ہاتھ میںراکھی کے دھاگے میںبہن نے پیار باندھا ہےاتہاس میں راکھی ہے رشتہ بھائی بہنوں کاحوالہ اس میں پوشیدہ ہے صدیوں کے رشتوں کابندھا ہے پیار اس میں بہن کااور اس کے پرکھوں کاراکھینبھانا لاج راکھی کی مرے بھیابہن کا مان رکھ لینابندھا کر ہاتھ میں راکھی بہن سےہر کوئی بھائیبہن کے سکھ کے واسطےتیار ہو جاتا ہے مرنے کومگر بھیاتمہاری زندگی توبہن کو دل سے پیاری ہےسلامت تم رہوبھگوان سے بنتی ہماری ہےجو چاہو نیگ تم دیناتو مجھ کو یہ وچن دے دونہ اٹھے پھر کوئی دیوار نفرت کیبہن بھائی کے آنگن میںنہیں بیوپار کچھ اس میںیہ اک ویہوار ہے بھیانہیں ہے کچا یہ ڈوراترا اعتبار ہے بھیا
یزید نقشۂ جور و جفا بناتا ہےحسین اس میں خط کربلا بناتا ہےیزید موسم عصیاں کا لا علاج مرضحسین خاک سے خاک شفا بناتا ہےیزید کاخ کثافت کی ڈولتی بنیادحسین حسن کی حیرت سرا بناتا ہےیزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گمحسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہےیزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھرحسین شام سے پہلے دیا بناتا ہےیزید آج بھی بنتے ہیں لوگ کوشش سےحسین خود نہیں بنتا خدا بناتا ہے
مگر کھلی فضا میں بھی کبھی گڑھے کبھی ستادہ پیڑ کہہ رہے ہیں دیکھیےیہ گفتگو فضول ہےفضول ہےنگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیںچلو چلیںجو گود ماں کی تھی وہ ماں کی گود تھیوہاں ہر ایک بات جو فضول تھی وہ ایک بھول تھینگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیںچلو چلیںبہن یہ کہہ رہی تھی اب تو آپ گھر بسا ہی لیںمیں سوچتا تھا کس کا گھر ہمارا گھر تمہارا گھراور اس پہ بھائی بول اٹھا فضول ہے یہ گفتگو فضول ہےنگاہ دیکھتی ہے طاق میں رکھی ہیں چند بوتلیں
ماں بہن ہوں کبھی بیوی تو کبھی بیٹی ہوںکوئی کردار ہو مردوں سے وفا کرتی ہوں
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں کہہ دویہ پھیلا آسماں اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھاہر اک سمت اب انوکھے لوگ ہیں اور ان کی باتیں ہیںکوئی دل سے پھسل جاتی کوئی سینہ میں چبھ جاتیانہی باتوں کی لہروں پر بہا جاتا ہے یہ بجراجسے ساحل نہیں ملتامیں جس کے سامنے آؤں مجھے لازم ہے ہلکی مسکراہٹ میں کہیں یہ ہونٹ تم کوجانتا ہوں دل کہے 'کب چاہتا ہوں میں'انہی لہروں پہ بہتا ہوں مجھے ساحل نہیں ملتا
دنیا کے لئے تحفۂ نایاب ہے عورتافسانۂ ہستی کا حسیں باب ہے عورتدیکھا تھا جو آدم نے وہی خواب ہے عورتبے مثل ہے آئینہ آداب ہے عورتقائم اسی عورت سے محبت کی فضا ہےعورت کی عطا اصل میں احسان خدا ہےہے ماں تو دل و جاں سے لٹاتی ہے سدا پیارممتا کے لئے پھرتی ہے دولت سر بازارآسان بناتی ہے دعا سے رہ دشواراپنے غم و آلام کا کرتی نہیں اظہارقدموں میں لئے رہتی ہے جنت کا خزانہعورت کے تصور میں ہے تعمیر زمانہبیوی ہے تو غم خوار ہے پیکر ہے وفا کاآنچل کو بنا لیتی ہے فانوس حیا کارخ دیکھ کے رکھتی ہے قدم اپنا ہوا کاگرویدہ بناتی ہے تبسم کی ادا کاخواب نگہ عشق کی تعبیر ہے عورتمردوں کے لئے حسن کی زنجیر ہے عورتہے شکل میں بیٹی کی بہار سحر و شامقدرت کا عطیہ ہے یہ قدرت کا ہے انعامدیتی ہے مسرت کا دل زار کو پیغامہے روح کو تسکین جگر کا ہے یہ آرامدختر ہے تو انمول گہر کہتے ہیں اس کواللہ کی رحمت کا ثمر کہتے ہیں اس کوصورت میں بہن کی ہے چمن کا یہ حسیں پھولایثار و محبت ہے شب و روز کا معمولبے کار کی رنجش کو کبھی دیتی نہیں طولاحساس مروت میں رہا کرتی ہے مشغوللکھی ہے ہر اک رنگ میں عورت کی کہانیکہتے ہیں اسے عظمت انساں کی نشانیمریم ہے تو پاکیزہ و شفاف ہیں اعمالبن جائے زلیخا تو حیا کو کرے پامالگر ہے قلو بطرہ تو سیاست کی چلے چاللیلیٰ ہے تو کرتی ہے یہ دیوانہ و بدحالڈھل جانا ہر اک روپ میں آسان ہے اس کوبدلے ہوئے حالات کی پہچان ہے اس کوہندہؔ ہے تو سالاری کا دکھلاتی ہے جوہرہے رابعہؔ بصری تو یہ ولیوں کی ہے ہمسربیٹھی ہے اگر حسن کا بازار سجا کرغیرت کو بناتی ہے اسیر ہوس زرواقف ہے بہر طور یہ جینے کے ہنر سےبے خوف گزر جاتی ہے ہر راہ گزر سےاک پل میں یہ شعلہ ہے تو اک پل میں ہے شبنمیعنی ہے کبھی گل تو کبھی خار مجسمہو صبر پہ آمادہ تو سہہ جائے ہر اک غمہو جائے مخالف تو پلٹ دے صف عالمپابند وفا ہو تو دل و جان لٹا دےآ جائے بغاوت پہ تو دنیا کو ہلا دے
سنو بنت حوابہن بھی ہو بیٹی بھی ہو ماں بھی ہو تممرے سارے دردوں کا درماں بھی ہو تممگر یہ بھی سچ ہےتمہارے لیے میں شریک حیات و شریک سفر ہوںشریک غم جاں شریک شب غم شریک سحر ہوںتمہارا ہر اک اشک ہے میرا آنسوتمہاری ہنسی میری اپنی ہنسی ہے
لکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنتیرے گہوارۂ آغوش میں اے جان بہاراپنی دنیائے حسیں دفن کیے جاتا ہوںتو نے جس دل کو دھڑکنے کی ادا بخشی تھیآج وہ دل بھی یہیں دفن کیے جاتا ہوںدفن ہے دیکھ مرا عہد بہاراں تجھ میںدفن ہے دیکھ مری روح گلستاں تجھ میںمیری گل پوش جواں سال امنگوں کا سہاگمیری شاداب تمنا کے مہکتے ہوئے خوابمیری بیدار جوانی کے فروزاں مہ و سالمیری شاموں کی ملاحت مری صبحوں کا جمالمیری محفل کا فسانہ مری خلوت کا فسوںمیری دیوانگئ شوق مرا ناز جنوںمیرے مرنے کا سلیقہ مرے جینے کا شعورمیرا ناموس وفا میری محبت کا غرورمیری نبضوں کا ترنم مرے نغموں کی پکارمیرے شعروں کی سجاوٹ مرے گیتوں کا سنگارلکھنؤ اپنا جہاں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا ہر خواب جواں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا سرمایۂ جاں سونپ چلا ہوں تجھ کولکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادفن ہیں اس میں محبت کے خزانے کتنےایک عنوان میں مضمر ہیں فسانے کتنےاک بہن اپنی رفاقت کی قسم کھائے ہوئےایک ماں مر کے بھی سینے میں لیے ماں کا گدازاپنے بچوں کے لڑکپن کو کلیجے سے لگائےاپنے کھلتے ہوئے معصوم شگوفوں کے لیےبند آنکھوں میں بہاروں کے جواں خواب بسائےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہاایک ساتھی بھی تہ خاک یہاں سوتی ہےعرصۂ دہر کی بے رحم کشاکش کا شکارجان دے کر بھی زمانے سے نہ مانے ہوئے ہاراپنے تیور میں وہی عزم جواں سال لیےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادیکھ اک شمع سر راہ گزر چلتی ہےجگمگاتا ہے اگر کوئی نشان منزلزندگی اور بھی کچھ تیز قدم چلتی ہےلکھنؤ میرے وطن مرے چمن زار وطندیکھ اس خواب گہ ناز پہ کل موج صبالے کے نو روز بہاراں کی خبر آئے گیسرخ پھولوں کا بڑے ناز سے گوندھے ہوئے ہارکل اسی خاک پہ گل رنگ سحر آئے گیکل اسی خاک کے ذروں میں سما جائے گا رنگکل مرے پیار کی تصویر ابھر آئے گیاے مری روح چمن خاک لحد سے تیریآج بھی مجھ کو ترے پیار کی بو آتی ہےزخم سینے کے مہکتے ہیں تری خوشبو سےوہ مہک ہے کہ مری سانس گھٹی جاتی ہےمجھ سے کیا بات بنائے گی زمانے کی جفاموت خود آنکھ ملاتے ہوئے شرماتی ہےمیں اور ان آنکھوں سے دیکھوں تجھے پیوند زمیںاس قدر ظلم نہیں ہائے نہیں ہائے نہیںکوئی اے کاش بجھا دے مری آنکھوں کے دیےچھین لے مجھ سے کوئی کاش نگاہیں میریاے مری شمع وفا اے مری منزل کے چراغآج تاریک ہوئی جاتی ہیں راہیں میریتجھ کو روؤں بھی تو کیا روؤں کہ ان آنکھوں میںاشک پتھر کی طرح جم سے گئے ہیں میرےزندگی عرصہ گہ جہد مسلسل ہی سہیایک لمحے کو قدم تھم سے گئے ہیں میرےپھر بھی اس عرصہ گہ جہد مسلسل سے مجھےکوئی آواز پہ آواز دئیے جاتا ہےآج سوتا ہی تجھے چھوڑ کے جانا ہوگاناز یہ بھی غم دوراں کا اٹھانا ہوگازندگی دیکھ مجھے حکم سفر دیتی ہےاک دل شعلہ بجاں ساتھ لیے جاتا ہوںہر قدم تو نے کبھی عزم جواں بخشا تھا!میں وہی عزم جواں ساتھ لیے جاتا ہوںچوم کر آج تری خاک لحد کے ذرےان گنت پھول محبت کے چڑھاتا جاؤںجانے اس سمت کبھی میرا گزر ہو کہ نہ ہوآخری بار گلے تجھ کو لگاتا جاؤںلکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطندیکھ اس خاک کو آنکھوں میں بسا کر رکھنااس امانت کو کلیجے سے لگا کر رکھنا
وہ ماں ہو بہن بیوی یا کہ بیٹی ہو سنو لوگوہر اک کردار میں رکھا گیا غم خوار عورت کو
آؤ کر دیں ختم لڑائیمیں ہوں بہن تم میرے بھائی
زہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہےحالانکہ در ایں اثنا کیا کچھ نہیں دیکھا ہےپر لکھے تو کیا لکھے؟ اور سوچے تو کیا سوچے؟کچھ فکر بھی مبہم ہے کچھ ہاتھ لرزتا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوانی نہیں اتنی جو منہ میں ہو بک جائےچپ شاہ کا روزہ بھی یوں ہی نہیں رکھا ہےبوڑھی بھی نہیں اتنی اس طرح وہ تھک جائےاب جان کے اس نے یہ انداز بنایا ہےہر چیز بھلاوے کے صندوق میں رکھ دی ہےآسانی سے جینے کا اچھا یہ طریقہ ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!گھر بار، سمجھتی تھی، قلعہ ہے حفاظت کادیکھا کہ گرہستی بھی مٹی کا کھلونا ہےمٹی ہو کہ پتھر ہو ہیرا ہو کہ موتی ہوگھر بار کے مالک کا گھر بار پہ قبضہ ہےاحساس حکومت کے اظہار کا کیا کہنا!انعام ہے مذہب کا جو ہاتھ میں کوڑا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دیوار پہ ٹانگا تھا فرمان رفاقت کاکیا وقت کے دریا نے دیوار کو ڈھایا ہےفرمان رفاقت کی تقدیس بس اتنی ہےاک جنبش لب پر ہے، رشتہ جو ازل کا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!دو بیٹوں کو کیا پالا ناداں یہ سمجھتی تھیاس دولت دنیا کی مالک وہی تنہا ہےپر وقت نے آئینہ کچھ ایسا دکھایا ہےتصویر کا یہ پہلو اب سامنے آیا ہےبڑھتے ہوئے بچوں پر کھلتی ہوئی دنیا ہےکھلتی ہوئی دنیا کا ہر باب تماشہ ہےماں باپ کی صورت تو دیکھا ہوا نقشہ ہےدیکھے ہوئے نقشے کا ہر رنگ پرانا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے!سوچا تھا بہن بھائی دریا ہیں محبت کےدیکھا کہ کبھی دریا رستہ بھی بدلتا ہےبھائی بھی گرفتار مجبوریٔ خدمت ہیںبہنوں پہ بھی طاری ہے قسمت کا جو لکھا ہےاک ماں ہے جو پیڑوں سے باتیں کیے جاتی ہےکہنے کو ہیں دس بچے اور پھر بھی وہ تنہا ہےزہراؔ نے بہت دن سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے
اگر قبرستان میںالگ الگ کتبے نہ ہوںتو ہر قبر میںایک ہی غم سویا ہوا رہتا ہےکسی ماں کا بیٹاکسی بھائی کی بہنکسی عاشق کی محبوبہتم!کسی قبر پر بھی فاتحہ پڑھ کے چلے جاؤ
وہ چاند چہرہ سی ایک لڑکیمحبتوں کی مثال جیسےذہن میں شاعر کے جیسے آئےحسیں غزل کا خیال کوئیوہ چاند چہرہ سی ایک لڑکیکسی جنم میں وہ ماں تھی میریکسی جنم میں بہن بنی تھیمگر وہ اب کے بنی ہے ہمدمتمام رشتے نبھا رہی ہےمجھے بھی جینا سکھا رہی ہےوہ چاند چہرہ سی ایک لڑکی
رخصت ہوتے وقتاس نے کچھ نہیں کہالیکن ایئرپورٹ پر اٹیچی کھولتے ہوئےمیں نے دیکھامیرے کپڑے کے نیچےاس نےاپنے دونوں بچوں کی تصویر چھپا دی ہےتعجب ہےچھوٹی بہن ہو کر بھیاس نے مجھے ماں کی طرح دعا دی ہے
اتنی پی جاؤکہ کمرے کی سیہ خاموشیاس سے پہلے کہ کوئی بات کرےتیز نوکیلے سوالات کرےاتنی پی جاؤ کہ دیواروں کے بے رنگ نشاناس سے پہلے کہکوئی روپ بھریںماں بہن بھائی کو تصویر کریںملک تقسیم کریںاس سے پہلے کہ اٹھیں دیواریںخون سے مانگ بھریں تلواریںیوں گرو ٹوٹ کے بستر پہ اندھیرا ہو جائےجب کھلے آنکھ سویرا ہو جائےاتنی پی جاؤ!
باپ کا نام زر تاج گلعمر بتیس برسوہ مجاہد شہادت کا طالب راہ حق کا مسافر ہوااور جام شہادت بھی اس نےاپنے بھائی کے ہاتھوں پیاجو شمالی مجاہد تھااور پنج وقتہ نمازی بھی تھامسئلہ اس شہادت کا پیچیدہ ہےاس کو بہتر یہی ہے یہیں چھوڑ دیںاب بہرحال بابا تو جنت میں ہےاس کے ہاتھوں میں جام طہوراس کی بانہوں میں حور و قصورمیری تقدیر میں بم دھماکے دھواںپگھلتی ہوئی یہ زمینبکھرتا ہوا آسماںبعد از مرگ وہ زندہ ہےزندگی مجھ سے شرمندہ ہے
یہ عورت ہےاسے تم سات پردوں میں چھپاؤاسے تم باندھ کر رکھویہ بکری سے زیادہ قیمتی ہےکہ بکری دودھ دیتی ہےمگر جب کاٹ کر کھا لوتو پھر کچھ بھی نہیں رہتایہ عورت ہے اسے کچا چبا لوپھر بھی یہ زندہ رہے گیاور تمہارے کام آئے گیتم اس کے ذہن و دل پراور اس کے جسم کےایک ایک حصے پرخلا میں پلنے والے خوف کاپہرہ بٹھا دویہ ماں ہو یا بہنبیوی ہو محبوبہ ہو بیٹی ہوتمہاری خادمہ ہو یا طوائف ہوتمہارے کام آئے گی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books