aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "guluu"
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
ذرہ ذرہ دہر کا زندانیٔ تقدیر ہےپردۂ مجبوری و بے چارگی تدبیر ہےآسماں مجبور ہے شمس و قمر مجبور ہیںانجم سیماب پا رفتار پر مجبور ہیںہے شکست انجام غنچے کا سبو گلزار میںسبزہ و گل بھی ہیں مجبور نمو گلزار میںنغمۂ بلبل ہو یا آواز خاموش ضمیرہے اسی زنجیر عالمگیر میں ہر شے اسیرآنکھ پر ہوتا ہے جب یہ سر مجبوری عیاںخشک ہو جاتا ہے دل میں اشک کا سیل رواںقلب انسانی میں رقص عیش و غم رہتا نہیںنغمہ رہ جاتا ہے لطف زیر و بم رہتا نہیںعلم و حکمت رہزن سامان اشک و آہ ہےیعنی اک الماس کا ٹکڑا دل آگاہ ہےگرچہ میرے باغ میں شبنم کی شادابی نہیںآنکھ میری مایہ دار اشک عنابی نہیںجانتا ہوں آہ میں آلام انسانی کا رازہے نوائے شکوہ سے خالی مری فطرت کا سازمیرے لب پر قصۂ نیرنگی دوراں نہیںدل مرا حیراں نہیں خندہ نہیں گریاں نہیںپر تری تصویر قاصد گریۂ پیہم کی ہےآہ یہ تردید میری حکمت محکم کی ہےگریۂ سرشار سے بنیاد جاں پایندہ ہےدرد کے عرفاں سے عقل سنگدل شرمندہ ہےموج دود آہ سے آئینہ ہے روشن مراگنج آب آورد سے معمور ہے دامن مراحیرتی ہوں میں تری تصویر کے اعجاز کارخ بدل ڈالا ہے جس نے وقت کی پرواز کارفتہ و حاضر کو گویا پا بہ پا اس نے کیاعہد طفلی سے مجھے پھر آشنا اس نے کیاجب ترے دامن میں پلتی تھی وہ جان ناتواںبات سے اچھی طرح محرم نہ تھی جس کی زباںاور اب چرچے ہیں جس کی شوخئ گفتار کےبے بہا موتی ہیں جس کی چشم گوہر بار کےعلم کی سنجیدہ گفتاری بڑھاپے کا شعوردنیوی اعزاز کی شوکت جوانی کا غرورزندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہمصحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہمبے تکلف خندہ زن ہیں فکر سے آزاد ہیںپھر اسی کھوئے ہوئے فردوس میں آباد ہیںکس کو اب ہوگا وطن میں آہ میرا انتظارکون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرارخاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گااب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گاتربیت سے تیری میں انجم کا ہم قسمت ہواگھر مرے اجداد کا سرمایۂ عزت ہوادفتر ہستی میں تھی زریں ورق تیری حیاتتھی سراپا دین و دنیا کا سبق تیری حیاتعمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہیمیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تو چل بسیوہ جواں قامت میں ہے جو صورت سرو بلندتیری خدمت سے ہوا جو مجھ سے بڑھ کر بہرہ مندکاروبار زندگانی میں وہ ہم پہلو مراوہ محبت میں تری تصویر وہ بازو مراتجھ کو مثل طفلک بے دست و پا روتا ہے وہصبر سے نا آشنا صبح و مسا روتا ہے وہتخم جس کا تو ہماری کشت جاں میں بو گئیشرکت غم سے وہ الفت اور محکم ہو گئیآہ یہ دنیا یہ ماتم خانۂ برنا و پیرآدمی ہے کس طلسم دوش و فردا میں اسیرکتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موتگلشن ہستی میں مانند نسیم ارزاں ہے موتزلزلے ہیں بجلیاں ہیں قحط ہیں آلام ہیںکیسی کیسی دختران مادر ایام ہیںکلبۂ افلاس میں دولت کے کاشانے میں موتدشت و در میں شہر میں گلشن میں ویرانے میں موتموت ہے ہنگامہ آرا قلزم خاموش میںڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میںنے مجال شکوہ ہے نے طاقت گفتار ہےزندگانی کیا ہے اک طوق گلو افشار ہےقافلے میں غیر فریاد درا کچھ بھی نہیںاک متاع دیدۂ تر کے سوا کچھ بھی نہیںختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھیہیں پس نہ پردۂ گردوں ابھی دور اور بھیسینہ چاک اس گلستاں میں لالہ و گل ہیں تو کیانالہ و فریاد پر مجبور بلبل ہیں تو کیاجھاڑیاں جن کے قفس میں قید ہے آہ خزاںسبز کر دے گی انہیں باد بہار جاوداںخفتہ خاک پے سپر میں ہے شرار اپنا تو کیاعارضی محمل ہے یہ مشت غبار اپنا تو کیازندگی کی آگ کا انجام خاکستر نہیںٹوٹنا جس کا مقدر ہو یہ وہ گوہر نہیںزندگی محبوب ایسی دیدۂ قدرت میں ہےذوق حفظ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہےموت کے ہاتھوں سے مٹ سکتا اگر نقش حیاتعام یوں اس کو نہ کر دیتا نظام کائناتہے اگر ارزاں تو یہ سمجھو اجل کچھ بھی نہیںجس طرح سونے سے جینے میں خلل کچھ بھی نہیںآہ غافل موت کا راز نہاں کچھ اور ہےنقش کی ناپائیداری سے عیاں کچھ اور ہےجنت نظارہ ہے نقش ہوا بالائے آبموج مضطر توڑ کر تعمیر کرتی ہے حبابموج کے دامن میں پھر اس کو چھپا دیتی ہے یہکتنی بے دردی سے نقش اپنا مٹا دیتی ہے یہپھر نہ کر سکتی حباب اپنا اگر پیدا ہواتوڑنے میں اس کے یوں ہوتی نہ بے پروا ہوااس روش کا کیا اثر ہے ہیئت تعمیر پریہ تو حجت ہے ہوا کی قوت تعمیر پرفطرت ہستی شہید آرزو رہتی نہ ہوخوب تر پیکر کی اس کو جستجو رہتی نہ ہوآہ سیماب پریشاں انجم گردوں فروزشوخ یہ چنگاریاں ممنون شب ہے جن کا سوزعقل جس سے سر بہ زانو ہے وہ مدت ان کی ہےسر گزشت نوع انساں ایک ساعت ان کی ہےپھر یہ انساں آں سوئے افلاک ہے جس کی نظرقدسیوں سے بھی مقاصد میں ہے جو پاکیزہ ترجو مثال شمع روشن محفل قدرت میں ہےآسماں اک نقطہ جس کی وسعت فطرت میں ہےجس کی نادانی صداقت کے لیے بیتاب ہےجس کا ناخن ساز ہستی کے لیے مضراب ہےشعلہ یہ کم تر ہے گردوں کے شراروں سے بھی کیاکم بہا ہے آفتاب اپنا ستاروں سے بھی کیاتخم گل کی آنکھ زیر خاک بھی بے خواب ہےکس قدر نشوونما کے واسطے بیتاب ہےزندگی کا شعلہ اس دانے میں جو مستور ہےخود نمائی خود فزائی کے لیے مجبور ہےسردی مرقد سے بھی افسردہ ہو سکتا نہیںخاک میں دب کر بھی اپنا سوز کھو سکتا نہیںپھول بن کر اپنی تربت سے نکل آتا ہے یہموت سے گویا قبائے زندگی پاتا ہے یہہے لحد اس قوت آشفتہ کی شیرازہ بندڈالتی ہے گردن گردوں میں جو اپنی کمندموت تجدید مذاق زندگی کا نام ہےخواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہےخوگر پرواز کو پرواز میں ڈر کچھ نہیںموت اس گلشن میں جز سنجیدن پر کچھ نہیںکہتے ہیں اہل جہاں درد اجل ہے لا دوازخم فرقت وقت کے مرہم سے پاتا ہے شفادل مگر غم مرنے والوں کا جہاں آباد ہےحلقۂ زنجیر صبح و شام سے آزاد ہےوقت کے افسوں سے تھمتا نالۂ ماتم نہیںوقت زخم تیغ فرقت کا کوئی مرہم نہیںسر پہ آ جاتی ہے جب کوئی مصیبت ناگہاںاشک پیہم دیدۂ انساں سے ہوتے ہیں رواںربط ہو جاتا ہے دل کو نالہ و فریاد سےخون دل بہتا ہے آنکھوں کی سرشک آباد سےآدمی تاب شکیبائی سے گو محروم ہےاس کی فطرت میں یہ اک احساس نامعلوم ہےجوہر انساں عدم سے آشنا ہوتا نہیںآنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا نہیںرخت ہستی خاک غم کی شعلہ افشانی سے ہےسرد یہ آگ اس لطیف احساس کے پانی سے ہےآہ یہ ضبط فغاں غفلت کی خاموشی نہیںآگہی ہے یہ دلاسائی فراموشی نہیںپردۂ مشرق سے جس دم جلوہ گر ہوتی ہے صبحداغ شب کا دامن آفاق سے دھوتی ہے صبحلالۂ افسردہ کو آتش قبا کرتی ہے یہبے زباں طائر کو سرمست نوا کرتی ہے یہسینۂ بلبل کے زنداں سے سرود آزاد ہےسیکڑوں نغموں سے باد صبح دم آباد ہےخفتہ گان لالہ زار و کوہسار و رود بارہوتے ہیں آخر عروس زندگی سے ہمکناریہ اگر آئین ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبحمرقد انساں کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبحدام سیمین تخیل ہے مرا آفاق گیرکر لیا ہے جس سے تیری یاد کو میں نے اسیریاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہےجیسے کعبے میں دعاؤں سے فضا معمور ہےوہ فرائض کا تسلسل نام ہے جس کا حیاتجلوہ گاہیں اس کی ہیں لاکھوں جہان بے ثباتمختلف ہر منزل ہستی کو رسم و راہ ہےآخرت بھی زندگی کی ایک جولاں گاہ ہےہے وہاں بے حاصلی کشت اجل کے واسطےسازگار آب و ہوا تخم عمل کے واسطےنور فطرت ظلمت پیکر کا زندانی نہیںتنگ ایسا حلقۂ افکار انسانی نہیںزندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ ترخوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفرمثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترانور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تراآسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرےسبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
کئی تار ساز سے کٹ گئےکسی مطربہ کی رگ گلومئے آتشیں میں وہ زہر تھاکہ تڑخ گئے قدح و سبو
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکنسبا آلام کا انبار بے پایاں!گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالیہوائیں تشنۂ باراں،طیور اس دشت کے منقار زیر پرتو سرمہ ور گلو انساںسلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں!سلیماں سر بہ زانو ترش رو، غمگیں، پریشاں موجہانگیری، جہانبانی، فقط طرارۂ آہو،محبت شعلۂ پراں، ہوس بوئے گل بے بوز راز دہر کمتر گو!سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیںکسی عیار کے غارت گروں کے نقش پا باقیسبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!سلیماں سر بہ زانواب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟
جگر دریدہ ہوں چاک جگر کی بات سنوالم رسیدہ ہوں دامان تر کی بات سنوزباں بریدہ ہوں زخم گلو سے حرف کروشکستہ پا ہوں ملال سفر کی بات سنومسافر رہ صحرائے ظلمت شب سےاب التفات نگار سحر کی بات سنوسحر کی بات امید سحر کی بات سنو
مری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کوابھی تک دل میں تیرے عشق کی قندیل روشن ہےترے جلووں سے بزم زندگی جنت بدامن ہےمری روح اب بھی تنہائی میں تجھ کو یاد کرتی ہےہر اک تار نفس میں آرزو بیدار ہے اب بھیہر اک بے رنگ ساعت منتظر ہے تیری آمد کینگاہیں بچھ رہی ہیں راستہ زر کار ہے اب بھیمگر جان حزیں صدمے سہے گی آخرش کب تکتری بے مہریوں پر جان دے گی آخرش کب تکتری آواز میں سوئی ہوئی شیرینیاں آخرمرے دل کی فسردہ خلوتوں میں جا نہ پائیں گییہ اشکوں کی فراوانی سے دھندلائی ہوئی آنکھیںتری رعنائیوں کی تمکنت کو بھول جائیں گیپکاریں گے تجھے تو لب کوئی لذت نہ پائیں گےگلو میں تیری الفت کے ترانے سوکھ جائیں گےمبادا یاد ہائے عہد ماضی محو ہو جائیںیہ پارینہ فسانے موج ہائے غم میں کھو جائیںمرے دل کی تہوں سے تیری صورت دھل کے بہہ جائےحریم عشق کی شمع درخشاں بجھ کے رہ جائےمبادا اجنبی دنیا کی ظلمت گھیر لے تجھ کومری جاں اب بھی اپنا حسن واپس پھیر دے مجھ کو
یہاں سے شہر کو دیکھو تو ساری خلقت میںنہ کوئی صاحب تمکیں نہ کوئی والئ ہوشہر ایک مرد جواں مجرم رسن بہ گلوہر اک حسینۂ رعنا، کنیز حلقہ بگوش
حیات بخش ترانے اسیر ہیں کب سےگلوئے زہرہ میں پیوست تیر ہیں کب سے ہےقفس میں بند ترے ہم صفیر ہیں کب سےگزر بھی جا کہ ترا انتظار کب سے ہے
دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئےگانے والے ہر اک روز گاتے رہےپائلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئےناچنے والے دھومیں مچاتے رہےہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اس صف میں تھےراستے میں کھڑے ان کو تکتے رہےرشک کرتے رہےاور چپ چاپ آنسو بہاتے رہے
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامصوت انسانی کی روح جاوداںآسمانوں کی ندائے بیکراںآج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤآؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیںآرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاسجیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسےریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپاپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہےاس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریشکیسے خاک آلودہ ہیںتھے کبھی جن کی تہیں بود و نبودکیسے اس کا صور اس کے لب سے دوراپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گمجھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زودمرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہوہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاںمرگ اسرافیل سےحلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گرابن آدم زلف در خاک و نزارحضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تارآسمانوں کی صفیر آتی نہیںعالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیںمرگ اسرافیل سےاس جہاں پر بند آوازوں کا رزقمطربوں کا رزق اور سازوں کا رزقاب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیاسننے والوں کے دلوں کے تار چپاب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیابزم کے فرش و در و دیوار چپاب خطیب شہر فرمائے گا کیامسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپفکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیاطائران منزل و کہسار چپمرگ اسرافیل ہےگوش شنوا کی لب گویا کی موتچشم بینا کی دل دانا کی موتتھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہواہل دل کی اہل دل سے گفتگواہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلواب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گماب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گممرگ اسرافیل سےاس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیاجیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیاایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیںایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیںمرگ اسرافیل سےدیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھیزباں بندی کے خوابجس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہواس خداوندی کے خواب
آسماں پر رواں سرمئی بادلوہاں تمہیں کیا اڑو اور اونچے اڑوباغ عالم کے تازہ شگفتہ گلوبے نیازانہ مہکا کرو خوش رہولیکن اتنا بھی سوچا، کبھی ظالمو!ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر میں
آوارہ و سرگرداں کفنی بہ گلو پیچاںداماں بھی دریدہ ہے گدڑی بھی سنبھالی ہے
مجھے معلوم تھایہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہےمیری ماتمی چادرنہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھیجو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میںیوں ہی آشفتہ رہے گیاور اداسی کی یہی صورت رہے گیمیں اپنے سوگ میں ماتم کناںیوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گیاور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے گامگر یہ کون ہےجو یوں مجھے باہر بلاتا ہےبڑی نرمی سے کہتا ہےکہ اپنے حجرہ غم سے نکل کر باغ میں آؤذرا باہر تو دیکھودور تک سبزہ بچھا ہےاور ہری شاخوں پہ نارنجی شگوفے مسکراتے ہیںملائم سبز پتوں پر پڑی شبنمسنہری دھوپ میں ہیرے کی صورت جگمگاتی ہےدرختوں میں چھپی ندیبہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہےچمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میںنقرئی چشمہ خوشی سے کھلکھلاتا ہےپرند خوش گلوشاخ شگفتہ پر چہکتا ہےگھنے جنگل میں بارش کا غبار سبزسطح شیشۂ دل پرملائم انگلیوں سے مرحبا کے لفظ لکھتا ہےکوئی آتا ہےآ کر چادر غم کو بڑی آہستگی سےمیرے شانوں سے ہٹا کرسات رنگوں کا دوپٹہ کھول کر مجھ کو اڑاتا ہےمیں کھل کر سانس لیتی ہوںمرے اندرکوئی پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہےرقص کا آغاز کرتا ہےمرے کانوں کے آویزوں کو یہ کس نے چھواجس سے لویں پھر سے گلابی ہو گئی ہیںکوئی سرگوشیوں میں پھر سے میرا نام لیتا ہےفضا کی نغمگی آواز دیتی ہےہوا جام صحت تجویز کرتی ہے
یہ کچھ رینگتا کچھ گھسٹتا ہواپرانے شوالے کی جانب چلاجہاں دودھ اس کو پلایا گیاپڑھے پنڈتوں نے کئی منتر ایسےیہ کم بخت پھر سے جلایا گیاشوالے سے نکلا وہ پھنکارتارگ ارض پر ڈنک سا مارتابڑھا میں کہ اک بار پھر سر کچل دوںاسے بھاری قدموں سے اپنے مسل دوںقریب ایک ویران مسجد تھی، مسجد میںیہ جا چھپاجہاں اس کو پٹرول سے غسل دے کرحسین ایک تعویذ گردن میں ڈالا گیاہوا جتنا صدیوں میں انساں بلندیہ کچھ اس سے اونچا اچھالا گیااچھل کے یہ گرجا کی دہلیز پر جا گراجہاں اس کو سونے کی کیچل پہنائی گئیصلیب ایک چاندی کی سینے پہ اس کے سجائی گئیدیا جس نے دنیا کو پیغام امناسی کے حیات آفریں نام پراسے جنگ بازی سکھائی گئیبموں کا گلوبند گردن میں ڈالااور اس دھج سے میداں میں اس کو نکالاپڑا اس کا دھرتی پہ سایہتو دھرتی کی رفتار رکنے لگیاندھیرا اندھیرا زمیں سےفلک تک اندھیراجبیں چاند تاروں کی جھکنے لگی
وادئ کشمیر کی نزہت گلوں کا رنگ و بوسرو کا قد کبک کی رفتار قمری کا گلو
زمیں کے سینے سے اور آستین قاتل سےگلوئے کشتہ سے بے حس زبان خنجر سےصدا لپکتی ہے ہر سمت حرف حق کی طرحمگر وہ کان جو بہرے ہیں سن نہیں سکتےمگر وہ قلب جو سنگیں ہیں ہل نہیں سکتےکہ ان میں اہل ہوس کی صدا کا سیسہ ہےوہ جھکتے رہتے ہیں لب ہائے اقتدار کی سمتوہ سنتے رہتے ہیں بس حکم حاکمان جہاںطواف کرتے ہیں ارباب گیر و دار کے گرد
آج انہوں نے اعلان کر ہی دیادیکھو!ہم نے تمہاری سب کی سب قوتوں کا فیصلہ کیا تھاقیل و قال کی گنجائش باقی نہیں ہےتمہارے اقرار نامے ہمارے پاس محفوظ ہیںتم سے پہلے والوں کی خطا یہی تھیکہ انہیں،اپنی ناف کے نیچے سرسراہٹ کا احساسکچھ زیادہ ہی ہو چلا تھاانہیں شہر بدر کر دیا گیاان کے پچھتاوے اور گڑگڑاہٹیںآج بھی ہمارے کانوں میں محفوظ ہیںتمہیں اتنی چھوٹ دی ہی کیوں جائےکہ تمکل ہمارے مقابلے پر اتر آؤہم تمہیں ہوشیار کیے دیتے ہیںدیواریں پھلانگنے والےعتاب سے بچ نہیں سکتےعقد ناموں پر تمہارے دستخطتمہاری نا مرادی کا کھلا اعتراف ہیںاس کے بغیرہماری حرم سرا میںداخل ہونے کے اجازت نامےتمہیں مل بھی کیسے سکتے تھےاس سے پہلے کہ ہمارے نجیب الطرفین شجرے مشکوک ہو جائیںاور ہمارے حسب نسب پر آنچ آ جائےہم!تم سے پہلے گلو خلاصی کا راستہ ڈھونڈ نکالیں گے!!
پیر واماندہ کوئیکوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاںنوجواں بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوںاک رقابت کی سیہ لہر بہت تیزمرے سینۂ سوزاں سے گزر جاتی ہےجس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گل داں کیمس و سیم کے کاسوں کی چمکاور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہےکوئلے آگ میں جلتے ہوئےکن یادوں کی کس رات میںجل جاتے ہیںکیا انہی کانوں کی یادوں میں جہاںسالہا سال یہ آسودہ رہےانہی بے آب درختوں کے وہ جنگلجنہیں پیرانہ سری بار ہوئی جاتی تھیکوئلے لاکھوں برس دور کے خوابوں میں الجھ جاتے ہیں
حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلوممقامی چھوٹے سے خیراتی اسپتال میں وہکہیں سے لایا گیا تھا وہاں یہ ہے مرقوممریض راتوں کو چلاتا ہے ''مرے اندراسیر زخمی پرندہ ہے اک، نکالو اسےگلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہےستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''مریض چیختا ہے درد سے کراہتا ہےیہ وتنام، کبھی ڈومنیکن، کبھی کشمیرزر کثیر، سیہ قومیں، خام معدنیاتکثیف تیل کے چشمے، عوام، استحصالزمیں کی موت بہائم، فضائی جنگ، ستماجارہ داری، سبک گام، دل ربا، اطفالسرود و نغمہ، ادب، شعر، امن، بربادیجنازہ عشق کا، دف کی صدائیں، مردہ خیالترقی، علم کے گہوارے، روح کا مدفنخدا کا قتل، عیاں زیر ناف زہرہ جمالتمام رات یہ بے ربط باتیں کرتا ہےمریض سخت پریشانی کا سبب ہے یہاںغرض کہ جو تھا شکایت کا ایک دفتر تھانتیجہ یہ ہے اسی روز منتقل کرکےاسے اک اور شفا خانے کو روانہ کیاسنا گیا ہے وہاں نفسیات کے ماہرطبیب حاذق و نباض ڈاکٹر کتنےطلب کیے گئے اور سب نے اتفاق کیایہ کوئی ذہنی مرض ہے، مریض نے شایدکبھی پرندہ کوئی پالا ہوگا لیکن وہعدم توجہی یا اتفاق سے یونہیبچارہ مر گیا اس موت کا اثر ہے یہعجیب چیز ہے تحت شعور انساں کایہ اور کچھ نہیں احساس جرم ہے جس نےدل و دماغ پہ قبضہ کیا ہے اس درجہمریض قاتل و مجرم سمجھتا ہے خود کو!کسی کی رائے تھی پسماندہ قوم کا اک فردمریض ہوگا اسی واسطے سیہ قومیںغریب کے لیے اک ٹیبو بن گئیں افسوسکوئی یہ کہتا تھا یہ اصل میں ہے حب وطنمریض چاہتا تھا ہم کفیل ہوں اپنےکسی بھی قوم کے آگے نہ ہاتھ پھیلائیںیہیں پہ تیل کے چشمے ہیں، وہ کریں دریافت!گمان کچھ کو تھا یہ شخص کوئی شاعر ہےجو چاہتا تھا جہاں گردی میں گزارے وقتحسین عورتیں مائل ہوں لطف و عیش رہےقلم کے زور سے شہرت ملے زمانے میںزر کثیر بھی ہاتھ آئے اس بہانے سےمگر غریب کی سب کوششیں گئیں ناکامشکست پیہم و احساس نارسائی نےیہ حال کر دیا مجروح ہوگئے اعصابغرض کہ نکتہ رسی میں گزر گیا سب وقتوہ چیختا ہی رہا درد کی دوا نہ ملینشست بعد نشست اور معائنے شب و روزانہیں میں وقت گزرتا گیا شفا نہ ملیپھر ایک شام وہاں سرمہ در گلو آئیجو اس کے واسطے گویا طبیب حاذق تھیکسی نے پھر نہ سنی درد سے بھری آوازکراہتا تھا جو خاموش ہو گیا وہ ساز
دھیمی دھیمی بہنے والی ایک نہر دل نشیںآب جو چھوٹی سی اک نازک خرام و نازنیںتشنگیٔ شوق گنگا میں بجھانے کے لیےجا رہی ہے اپنی ہستی کو مٹانے کے لیےیہ وہ جمنا ہے کہ دل کش جس کا ہے انداز حسندیکھتے ہیں آہ عاشق جس کا خواب ناز حسنیہ وہ جمنا ہے کہ گاتی ہیں سخنور جس کے گیتمطربان خوش گلو کی ہیں زباں پر جس کے گیت
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books