aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raho"
ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میںتم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تممیں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میںتم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
تم مرے پاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہوجس گھڑی رات چلے،آسمانوں کا لہو پی کے سیہ رات چلےمرہم مشک لیے، نشتر الماس لیےبین کرتی ہوئی ہنستی ہوئی، گاتی نکلےدرد کے کاسنی پازیب بجاتی نکلےجس گھڑی سینوں میں ڈوبے ہوئے دلآستینوں میں نہاں ہاتھوں کی رہ تکنے لگےآس لیےاور بچوں کے بلکنے کی طرح قلقل مےبہر نا سودگی مچلے تو منائے نہ منےجب کوئی بات بنائے نہ بنےجب نہ کوئی بات چلےجس گھڑی رات چلےجس گھڑی ماتمی سنسان سیہ رات چلےپاس رہومرے قاتل، مرے دل دار مرے پاس رہو
القصہ مآل غم الفت پہ ہنسو تمیا اشک بہاتی رہو فریاد کرو تمماضی پہ ندامت ہو تمہیں یا کہ مسرتخاموش پڑا سوئے گا واماندۂ الفت
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےناخداؤں میں اب پیچھے کتنے بچے ہیںروشنی اور اندھیرے کی تفریق میں کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیںکتنی صدیاں سفر میں گزاریںمگر آج پھر اس جگہ ہیں جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نےرخصت کیا تھااپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئےدیکھنے سے برا کچھ نہیں ہےتیری قربت میں یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاریتیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہےکہنیوں سے ہمیں اپنا منہ ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھاتو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہےلیکن ہمیں یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ وہ آفات ٹوٹی ہیںجن کا ہمیں اک صدی بعد پھر سامنا ہےوبا کے دنوں میں کسے ہوش رہتا ہےکس ہاتھ کو چھوڑنا ہے کسے تھامنا ہےاک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں میں پرکار لے کریہ دنیا نہیں دائرہ کھینچنا تھاخیر جو بھی ہوا تم بھی پرکھوں کے نقش قدم پر چلواور اپنی حفاظت کروکچھ مہینے تمہیں اپنے تسمے نہیں باندھنےاس سے آگے تو تم پہ ہے تم اپنی منزل پہ پہنچو یا پھر راستوں میں رہواس سے پہلے کہ تم اپنے محبوب کو وینٹیلیٹر پہ دیکھوگھروں میں رہو
زندگی نام ہے کچھ لمحوں کااور ان میں بھی وہی اک لمحہجس میں دو بولتی آنکھیںچائے کی پیالی سے جب اٹھیںتو دل میں ڈوبیںڈوب کے دل میں کہیںآج تم کچھ نہ کہوآج میں کچھ نہ کہوںبس یوں ہی بیٹھے رہوہاتھ میں ہاتھ لیےغم کی سوغات لیےگرمئ جذبات لیےکون جانے کہ اسی لمحے میںدور پربت پہ کہیںبرف پگھلنے ہی لگے
سب کہ سنتے رہوپیار کرتے رہواور کچھ نہ کہو
میں سوچتا ہوں اک نظم لکھوںلیکن اس میں کیا بات کہوںاک بات میں بھی سو باتیں ہیںکہیں جیتیں ہیں کہیں ماتیں ہیںدل کہتا ہے میں سنتا ہوںمن مانے پھول یوں چنتا ہوںجب مات ہو مجھ کو چپ نہ رہوںاور جیت جو ہو درانہ کہوںپل کے پل میں اک نظم لکھوںلیکن اس میں کیا بات کہوںجب یوں الجھن بڑھ جاتی ہےتب دھیان کی دیوی آتی ہےاکثر تو وہ چپ ہی رہتی ہےکہتی ہے تو اتنا کہتی ہےکیوں سوچتے ہو اک نظم لکھوکیوں اپنے دل کی بات کہوبہتر تو یہی ہے چپ ہی رہو
یوںہی دیکھوں جو راکھی کو تو یہ رنگین ڈورا ہےجو دیکھوں غور سے اس کو تو ہے زنجیر لوہے کیجو بڑھ کر قید کر لیتی ہے آفت اپنے بھائی کیمصیبت کی حقیقت کیامصیبت آ نہیں سکتیمصیبت کانپ جاتی ہےجو راکھی دیکھ لیتی ہےکسی بھائی کے ہاتھ میںراکھی کے دھاگے میںبہن نے پیار باندھا ہےاتہاس میں راکھی ہے رشتہ بھائی بہنوں کاحوالہ اس میں پوشیدہ ہے صدیوں کے رشتوں کابندھا ہے پیار اس میں بہن کااور اس کے پرکھوں کاراکھینبھانا لاج راکھی کی مرے بھیابہن کا مان رکھ لینابندھا کر ہاتھ میں راکھی بہن سےہر کوئی بھائیبہن کے سکھ کے واسطےتیار ہو جاتا ہے مرنے کومگر بھیاتمہاری زندگی توبہن کو دل سے پیاری ہےسلامت تم رہوبھگوان سے بنتی ہماری ہےجو چاہو نیگ تم دیناتو مجھ کو یہ وچن دے دونہ اٹھے پھر کوئی دیوار نفرت کیبہن بھائی کے آنگن میںنہیں بیوپار کچھ اس میںیہ اک ویہوار ہے بھیانہیں ہے کچا یہ ڈوراترا اعتبار ہے بھیا
اسیران قفس سے کاش یہ صیاد کہہ دیتارہو آزاد ہو کر ہم تمہیں آزاد کرتے ہیں
تمہیں پیار ہے، تو یقین دو،مجھے نہ کہو، تمہیں پیار ہے، مجھے دیکھنے کی نہ ضد کرو،تمہیں فکر ہو، مرے حال کی،کوئی گفتگو ہو ملال کی،جو خیال ہو، نہ کیا کرو،نہ کہا کرو مری فکر ہےمیں عزیز تر ہوں جہان سےیا ایمان سے، نہ کہا کرو،نہ لکھا کرو مجھے ورق پر، کسی فرش پر،نہ اداس ہو، نہ ہی خوش رہومجھے سوچ کر، یا کھروچ کر، میری یاد کو نہ آواز دو،مجھے خط میں لکھ کے خداؤں کا نہ دو واسطہتمہیں پیار میں نہ قرار ہے، مجھے اس زباں کا یقین نہیںکچھ اور ہو، جو سنا نہ ہو، جو کہا نہ ہو، جو لکھا نہ ہوتو یقین ہو!رکو اور تھوڑا سا ضبط لو، مجھے سوچ لینے کو وقت دو،چلو یوں کرو مرے واسطے کہ بلند و بالا عمارتوں کا لو جائزہجو فلک کو بوسہ لگا رہی ہوں عمارتیں،جو تمہارے پیار سے لے رہی ہوں مشابہتیںجو ہو سب سے زیادہ بلند و بالا الگ تھلگاسے سر کرو،اسے چھت تلک، ہاں یہیں رکو، یہ وہ ہی ہے چھت،ذرا سانس لینے کو قیام لو، مرا نام لو،تو سفر کی ساری تھکن یہیں پہ اتار لو،اب! مرے تمہارے جو درمیاں میں ہے فاصلہ، وہ ذرا سا ہے،وہ مٹا سکو، تو غرور ڈھاتی بلندیوں کو پھلانگ دو!تمہیں پیار ہے تو یقین دو!!
بس یونہی جیتے رہوکچھ نہ کہوصبح جب سو کے اٹھوگھر کے افراد کی گنتی کر لوٹانگ پر ٹانگ رکھے روز کا اخبار پڑھواس جگہ قحط گراجنگ وہاں پر برسیکتنے محفوظ ہو تم شکر کروریڈیو کھول کے فلموں کے نئے گیت سنوگھر سے جب نکلو توشام تک کے لیے ہونٹوں میں تبسم سی لودونوں ہاتھوں میں مصافحے بھر لومنہ میں کچھ کھوکھلے بے معنی سے جملے رکھ لومختلف ہاتھوں میں سکوں کی طرح گھستے رہوکچھ نہ کہواجلی پوشاکسماجی عزتاور کیا چاہیئے جینے کے لیےروز مل جاتی ہے پینے کے لیےبس یونہی جیتے رہوکچھ نہ کہو
کرے دشمنی کوئی تم سے اگرجہاں تک بنے تم کرو درگزرکرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غورجلے جو کوئی اس کو جلنے دو اوراگر تم سے ہو جائے سرزد قصورتو اقرار و توبہ کرو بالضروربدی کی ہو جس نے تمہارے خلافجو چاہے معافی تو کر دو معافنہیں، بلکہ تم اور احساں کروبھلائی سے اس کو پشیماں کروہے شرمندگی اس کے دل کا علاجسزا اور ملامت کی کیا احتیاجبھلائی کرو تو کرو بے غرضغرض کی بھلائی تو ہے اک مرضجو محتاج مانگے تو دو تم ادھاررہو واپسی کے نہ امیدوارجو تم کو خدا نے دیا ہے تو دونہ خست کرو اس میں جو ہو سو ہو
دل پیت کی آگ میں جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دواس آگ سے لوگو دور رہو ٹھنڈی نہ کرو پنکھا نہ جھلوہم رات دنا یوں ہی گھلتے رہیں کوئی پوچھے کہ ہم کو نا پوچھےکوئی ساجن ہو یا دشمن ہو تم ذکر کسی کا مت چھیڑوسب جان کے سپنے دیکھتے ہیں سب جان کے دھوکے کھاتے ہیںیہ دیوانے سادہ ہی سہی پر اتنے بھی سادہ نہیں یاروکس بیٹھی تپش کے مالک ہیں ٹھٹھری ہوئی آگ کے انگیارےتم نے کبھی سینکا ہی نہیں تم کیا سمجھو تم کیا جانو
آسماں پر رواں سرمئی بادلوہاں تمہیں کیا اڑو اور اونچے اڑوباغ عالم کے تازہ شگفتہ گلوبے نیازانہ مہکا کرو خوش رہولیکن اتنا بھی سوچا، کبھی ظالمو!ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر میں
رات سناٹے کی چادر میں پڑی ہے لپٹیپتیاں سڑکوں کی سب جاگ رہی ہیں جیسےدیکھنا چاہتی ہیں شہر میں کیا ہوتا ہےمیں ہمیشہ کی طرح ہونٹوں میں سگریٹ کو دبائےسونے سے پہلے خیالات میں کھویا ہوا ہوںدن میں کیا کچھ کیا اک جائزہ لیتا ہے ضمیرایک سادہ سا ورق نامۂ اعمال ہے سبکچھ نہیں لکھا بجز اس کے پسے جاؤ یوں ہیکچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ انساں کا نصیبگیلی گوندھی ہوئی مٹی کا ہے اک تودہ سادن میں سو شکلیں بنا کرتی ہیں اس مٹی سےکچھ نہیں لکھا بس اک اتنا کہ چیونٹی دل ہےجوق در جوق جو انسان نظر آتے ہیںدانہ لے کر کسی دیوار پہ چڑھنا گرنااور پھر چڑھنا چڑھے جانا یوں ہی شام و سحرکچھ نہیں لکھا بس اتنا کہ پسے جاؤ یوں ہیاور اندوہ تأسف خوشی آلام نشاطخود کو سو ناموں سے بہلاتے رہو چلتے رہوسانس رک جائے جہاں سمجھو وہیں منزل ہےاور اس دوڑ سے تھک جاؤ تو سگریٹ پی لو
اپنے ٹیچر کو نچائیں تو مزہ آ جائےان کی عینک کو چرائیں تو مزہ آ جائےان کے ڈنڈے کو چھپائیں تو مزہ آ جائےآج جی بھر کے ستائیں تو مزہ آ جائےکون سا دن ہے جو ٹیچر نے نہیں مارا ہےہم نے ہر کام کیا پھر بھی تو پھٹکارا ہےان کا غصہ ہے کہ دہکا ہوا انگارا ہےآگ میں آگ لگائیں تو مزہ آ جائےمنہ پہ چانٹے بھی دئے ہم نے بنایا مرغاہم نے اسکول سے ہر روز یہ تمغہ پایاکتنے جلاد ہیں ٹیچر ارے اللہ اللہہم بھی منہ ان کا چڑھائیں تو مزہ آ جائےوہ پڑھاتے ہیں تو اوسان خطا ہوتے ہیںحق پڑھائی کے یہ دشوار ادا ہوتے ہیںہم اگر روتے ہیں پھر اور خفا ہوتے ہیںآج ان کو بھی رلائیں تو مزہ آ جائےان کی کرسی پہ چلو آؤ پٹاخے باندھیںجب وہ آئیں تو پٹاخوں کا تڑپنا دیکھیںہم بھی شاگرد ستم گار ہیں اتنا مانیںپیچھے پیچھے ہی بھگائیں تو مزا آ جائےان کی جو چیز ہے چپکے سے چھپا دیں آؤپان بیڑی کی جو ڈبیا ہے اڑا دیں آؤہم شرارت کے نئے جال بچھا دیں آؤوہ کسی جال میں آئیں تو مزا آ جائےوہ اگر سامنے آ جائیں تو مل کر چیخیںوہ کہیں چپ رہو ہم اور بھی ہنس کر چیخیںاور وہ آنکھیں دکھائیں تو اکڑ کر چیخیںان کو دیوانہ بنائیں تو مزہ آ جائے
کیا تم نے ایک عورت کو دیکھا ہےاس کی چھاتیوں کے درمیان ایک سانپ رینگ رہا ہےاس کی رانوں کے درمیان سفید پانی کا چشمہ ہےمیں پیاس سے مر رہا ہوںلیکن میں اسے ہاتھ نہیں لگا سکتامیں ایک درخت کے اندر قید ہوںکیا تم نے ایک عورت کو دیکھا ہےمیں اس کو دیکھ رہا ہوںوہ ایک سانپ کو کھا گئی ہےمیری خواہشیں اس کے پیٹ میں ہیںاس نے مجھے چھوڑ دیا ہےلوگ تالیاں بجا رہے ہیںیہ تماشا ازل سے جاری ہےمیں انتظار کر رہا ہوںجاؤ اسے ڈھونڈ کر لاؤموت میرے لیے نئی نہیں ہےمیں ہمیشہ مرتا رہا ہوںلیکن میری زندگی ختم نہیں ہوئیمیری خواہشیں اس کے اندر رقص کر رہی ہیںجاؤ مجھے ڈھونڈ کر لاؤدرخت کے پتے گر رہے ہیںہوا چیخ رہی ہےمیں نے ایک عورت کو آسمان پر اڑتے ہوئے دیکھا ہےکیا تم نے بھی کچھ دیکھا ہے
جنوری کا مہینہ جو آ کر گیاپھر نئے سال کی ابتدائی کر گیافروری کر رہا ہے جدا سردیاںہم اتاریں گے اب اون کی وردیاںمارچ ہے سال کا تیسرا ماہ نوسب کو کرتا ہے تلقین اب خوش رہوماہ اپریل میں امتحاں آئیں گےرات دن پڑھ کے ہم پاس ہو جائیں گےلو مئی آ گیا بند مکتب ہوئےگرمیوں سے پریشان ہم سب ہوئےجون بارش کی لائے خبر دوستوہے فلک کی طرف ہر نظر دوستوہے جولائی کے آنے کے اب سلسلےکھل گئے سارے اسکول مکتب کھلےسال میں جب بھی ماہ اگست آ چلااپنی آزادیوں کا بڑھا قافلہجب بھی ماہ ستمبر جناب آئے گاکھیتیوں پر غضب کا شباب آئے گالائے خوش حالیاں دیکھنا اکتوبرکھیت کھلیان کو ہو رہی ہے نظرکتنا پر کیف موسم نومبر میں ہےموتیوں جیسی شبنم نومبر میں ہےسال رخصت ہوا لو دسمبر چلاہو شروع اب نئے سال کا سلسلہ
1بچھی ہوئی ہے بساط کب سےزمانہ شاطر ہے اور ہماس بساط کے زشت و خوب خانوں میںدست نادیدہ کے اشاروں پہ چل رہے ہیںبچھی ہوئی ہے بساط ازل سےبچھی ہوئی ہے بساط جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا ہےبساط ایسا خلا ہے جو وسعت تصور سے ماورا ہےکرشمۂ کائنات کیا ہےبساط پر آتے جاتے مہروں کا سلسلہ ہےبساط ساکت ہے وقت مطلق
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books