aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saaya-e-baal-e-humaa-e-ra.nj"
اسی کے سایہ میں پاتا ہے پرورش اقبالمثال سایۂ بال ہما سدیشی ہے
نہ تو قدموں کے تلے فرش گہر مانگا ہےاور نہ سر پر کلہ بال ہما مانگی ہے
جوانی کیا ہے تم سے کیا کہیں ہمجوانی کا ہے اب پیری میں ماتمجوانی شعلۂ آتش فشاں ہےجوانی زیست کا راز نہاں ہےجوانی ہے جواب خندۂ گلجوانی اہتمام ساغر و ملجوانی اضطراب زندگی ہےجوانی پیچ و تاب زندگی ہےجوانی زندگی کا اک تبسمجوانی زندگی کا اک ترنمجوانی مطلع نور سحر ہےجوانی رشک خورشید و قمر ہےجوانی زندگی کا خون تازہجوانی چہرۂ انساں کا غازہجوانی کیا شراب زندگی ہےجوانی التہاب زندگی ہےجوانی گرمیٔ بازار عالمجوانی گیسوئے خم دار عالمجوانی خامشی کی گفتگو ہےجوانی خوبصورت خوب رو ہےجوانی ہے بہار زندگانیجوانی لالہ زار زندگانیجوانی میں عجب اک دل کشی ہےجوانی میں عجب اک مہ وشی ہےجوانی زندگی کا نقش اولجوانی ایک شورش ایک ہلچلجوانی سایۂ بال ہما ہےجوانی میں جہاں بھی زیر پا ہےجوانی جیسے پانی کی روانیجوانی میں ہر اک غم پانی پانیجوانی میں نہاں اک بانکپن ہےجوانی زندگانی کی دلہن ہےجوانی ابتدائے ذوق پروازجوانی انتہائے شوق پروازجوانی ایک حرف دل نشیں ہےجوانی زیست کا تاج و نگیں ہےجوانی زندگانی کا ہے دم خمجوانی طاقت سہراب و رستمجوانی آسمان زندگی ہےجوانی ہی نشان زندگی ہےجوانی کوہکن کا زور بازوجوانی ایک افسوں ایک جادوجوانی جوشش کردار پیہمجوانی گرمیٔ رفتار پیہمجوانی مخزن حرف و حکایاتجوانی مرکز کشف و کراماتجوانی چشمۂ تسنیم و کوثرجوانی آب رحمت کا سمندرجوانی لغزش مستانۂ عشقجوانی بازیٔ طفلانۂ عشقجوانی داستان قیس و لیلیٰجوانی قصۂ یوسف زلیخاجوانی کیا ہے برق طور گویاجوانی کیا جمال حور گویاجوانی سوزش روز قیامتجوانی ایک حدت اک حرارتجوانی خودستائی خود نمائیجوانی جنگ جوئی کج ادائیجوانی زندگی کا زمزمہ ہےجوانی زندگی کا طنطنہ ہےمگر اب زندگی کو ساتھ لے کرجوانی جا چکی پیری کو دے کرجوانی کو نہ پوچھو اب کہاں ہےجوانی شمع کشتہ کا دھواں ہے
اے باد صبامحبوب سے ملنے جانا ہےپیغام مرا پہنچانا ہےپر حد ادب لازم رکھناوہ شوخ جواں گر خواب میں ہودھیرے سے زلفیں سہلانابیدار اگر وہ ہو جائےتو کہنا سلام شوق مراپھر کہنا کہ دیوانی میںپلکوں کو بچھائے بیٹھی ہوںملنے کو بہت بیتاب ہوں میںاور نیند اگر کچھ گہری ہوپلکوں کو ہولے سے چھونارخسار تھپک دینا ان کےدیوار و در پر لکھ دینااے جان غزل میں زندہ ہوںبس آپ کی دید کی خاطر اب
آ باد صبا آ کہ نیا سال مبارکلا جلد خبر لا کہ نیا سال مبارک
سرگزشت نوحہ گر ہے زندگیداستان اشک تر ہے زندگیکیا اڑے گی وادیٔ امید میںطائر بے بال و پر ہے زندگیآنکھ جھپکی ہو گیا قصہ تمامآہ کتنی مختصر ہے زندگیپی کے بہکے کیوں نہ احساس وجودساغر جادو اثر ہے زندگیابتدائے زندگانی ہے اجلانتہائے درد سر ہے زندگیزندگی ہے رنج و غم کی داستاںدرد دل سوز جگر ہے زندگیزیب گلشن منحصر ہے خار پردرد دل پر منحصر ہے زندگیجی رہا ہے تو بھی اے منظرؔ مگرایک ہی انداز پر ہے زندگی
تو آئے تو گلشن کا حسیں چہرہ نکھر جائےہر غنچہ مہک جائے ہر ایک پتا سنور جائےکمہلائے سے پھولوں کا بھی کچھ حال سدھر جائےباقی رہے قسمت میں کوئی خم نہ کوئی بلاے باد صبا باد صبا باد صبا چل
گلشن یاد میں گر آج دم باد صباپھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو تو ہو جانے دوعمر رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا دردپھر سے چاہے کہ فروزاں ہو تو ہو جانے دوجیسے بیگانے سے اب ملتے ہو ویسے ہی سہیآؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھوگرچہ مل بیٹھیں گے ہم تم تو ملاقات کے بعداپنا احساس زیاں اور زیادہ ہوگاہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں تو ہر بات کے بیچان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہوگاکوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا نہ تمکوئی مضمون وفا کا نہ جفا کا ہوگاگرد ایام کی تحریر کو دھونے کے لیےتم سے گویا ہوں دم دید جو میری پلکیںتم جو چاہو تو سنو اور جو نہ چاہو نہ سنواور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیںتم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو
وہ چمن میں جس نے کلی کلی کو مزاج باد صبا دیاوہ ہر ایک غنچے کے لب کو جس نے ہے اک شعور نوا دیاوہ ہر ایک حال میں بستہ لب نہ کسی سے شکوہ نہ کچھ طلبغم عاشقی تری خیر ہو تجھے یادگار بنا دیاوہ شریک بزم سمن براں وہ سہیم کلفت بے کساںدل ریزہ ریزہ کو جس نے اپنے روش روش پہ لٹا دیارہا کج جبیں پہ سر کفن وہی حوصلہ وہی بانکپنپس مرگ میلا نہیں کفن یہ اجل کو صاف بتا دیاجسے قید و بند کے مرحلے نہ رہ وفا سے ہٹا سکےبہ ہمہ شقاوت دشمناں بھی پیام صدق و صفا دیاوہ جو چارہ ساز جہاں رہا جو شریک درد نہاں رہاجو وطن کی روح رواں رہا اسے ہم نے کتنا بھلا دیاوہ شہید شیوۂ دلبری وہ قتیل ناوک دوستیوہ خطیب منبر آشتی اسے اپنی قوم نے کیا دیا
رہے گا رنج زمانہ میں یادگار تراوہ کون دل ہے کہ جس میں نہیں مزار تراجو کل رقیب تھا ہے آج سوگوار تراخدا کے سامنے ہے ملک شرمسار تراپلی ہے قوم ترے سایۂ کرم کے تلےہمیں نصیب تھی جنت ترے قدم کے تلے
ہم کہیں ساعت بے بال و پریکھول کے دم لیتے ہیںریگ زاروں سے نکلتے ہیںروانی لے کراور اتر جاتے ہیںگدرائے ہوئے پانی میںبس اسی پانی میں ہےاپنی ہوساپنے چلن کا قصہیہ چلنخواب گہ ہست سے ہوتا ہواکاشانے تلک جاتا ہےجس کی درزوں سے دعا جھانکتی ہےاور خلقت ہےکہ غفلت بھرے پہروں میں ہوا مانگتی ہے
بدلے گا رنگ شام الممیرے بعد آہوگا ذرا سا درد بھی کممیرے بعد آتنہائیاں بھی اپنی ہیںاپنی ہیں ساعتیںخود ساختہ ہیں سارے یہ غممیرے بعد آخوابوں کے اس منڈیر سے دیکھا کیے مجھےیہ اور بات ہے کہ ہوئی چشم میری نمنمناکیوں کی بات ختممیرے بعد آہریالیوں کی بھیڑمگر دکھ کی کاشت ہےبدلے گا رنگ چرخ کہنمیرے بعد آ
ہاں مگر تھا رکشا والا ایک سرگرم سفرجس کو غربت کر رہی تھی موت سے سینہ سپرجو نگاہ اہل ثروت میں حقیر و پائمالزندگانی وقف تھی جس کی برائے اہل زرجس کی دنیا فقر و فاقہ جس کی قسمت رنج و غمجبر قدرت ہی نے جس کو کر دیا بے بال و پرخون بن بن کر پسینہ ہر بن مو سے رواںچار پیسے کے لئے جو بن گیا تھا جانوربے نیاز عیش و عشرت آشنائے درد و غمایک مشت استخواں آشفتہ رو با چشم تراس گھڑی بھی مضطرب تھا رزق کوشی کے لئےآگ میں وہ جل رہا تھا اپنی روٹی کے لئے
چپ جو ہوا دریچہ تو گونجی صدائے باماب کر سکو گے سائے تلے میرے تم قیام
بے داغ وسعتوں کی آہوئے بے باکتیرے ایک ہی مشک بیز جھونکے نےیادوں کے دریچے کھول دیے ہیںجھلستی دوپہروں میںگھنے پیپل کی چھاؤں میںجھولا جھولتی ہم جولیاںخوش گلو چاڑھے کی آواز میںریگ زاروں کے گیتکن رس ہوئے جاتے ہیںبرسات کی آبنوسی رات کا منظرکھلے آسمان تلے بان کی ٹھنڈی چارپائی پرچادر تان کردھلے تاروں کی جھلملاہٹدید رس ہوئی جاتی ہےساون رت میں گیلی سوندھی مٹکی مہکارچڑھی نہروں کی سلونی ساونی تھی مشک بارسبحان تیری قدرت کیصدائیں بھی عجب تھیںڈال ڈال کو کئی کوئل کیادائیں بھی غضب تھیںمیں چشم تصور سےان چندھیا دینے والے روشنیوں سےنظریں بچا کراس بزم نشاط میں جھانک لیتی ہوںکہہر شے اپنے اصل کو ڈھونڈھتی ہے
مایۂ ہندوستاں تھا بال گنگا دھر تلکاس چمن کا باغباں تھا بال گنگا دھر تلکخوش کلام و خوش بیاں تھا بال گنگا دھر تلکمہرباں تھا راز داں تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدپارسا تھا پارسا تھا بال گنگا دھر تلکبے ریا تھا بے ریا تھا بال گنگا دھر تلکرہنما تھا رہنما تھا بال گنگا دھر تلکپیشوا تھا پیشوا تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدملک کی روح رواں تھا بال گنگا دھر تلکباعث آرام جاں تھا بال گنگا دھر تلکہر کسی کا قدرداں تھا بال گنگا دھر تلکاس زمیں پر آسماں تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدافتخار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکجاں نثار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکنو بہار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلکپاس دار ہند تھا وہ بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدمرد میدان سیاست بال گنگا دھر تلکبا مروت با محبت بال گنگا دھر تلکصاحب اقبال و شوکت بال گنگا دھر تلکپاک صورت پاک سیرت بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدہر گھڑی سینہ سپر تھا بال گنگا دھر تلککتنا بے خوف و خطر تھا بال گنگا دھر تلکدل جلوں سے با خبر تھا بال گنگا دھر تلکسب کا منظور نظر تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدزینت باغ وطن تھا بال گنگا دھر تلکاک پھلا پھولا چمن تھا بال گنگا دھر تلکنوحہ خوان و نعرہ زن تھا بال گنگا دھر تلکواقف رنج و محن تھا بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدرہنمائی کر گیا وہ بال گنگا دھر تلکسر پر احساں دھر گیا وہ بال گنگا دھر تلککب کسی سے ڈر گیا وہ بال گنگا دھر تلکمرنے والا مر گیا وہ بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعدکاش پھر دنیا میں آئے بال گنگا دھر تلکشکل پھر اپنی دکھائے بال گنگا دھر تلکاور پھر گیتا سنائے بال گنگا دھر تلکبسملؔ آ کر پھر نہ جائے بال گنگا دھر تلککون بھارت کی خبر لے اس کے مر جانے کے بعد
دیکھو وہ جاتی ہے رشوت سے خریدی ہوئی کارصحن گلشن میں ہو جیسے گزراں موج بہارپاک دامن پہ نہیں اس کے ذرا گرد و غبارچور بازار میں پھرتی ہے بصد عز و وقارکیا ہو اس کار کے نیچے جو کوئی آ جائےبے وسیلہ ہو تو لمبی سی سزا پا جائے
گھر کی عزت کا بھرم رکھتی رہی وہ عورتزندگی جیتی رہی اپنی سنبھالے حرمتاپنے بچوں کے لئے جیتی رہی تھی اب تکزہر حالات کا خود پیتی رہی تھی اب تکعمر بھر ظلم و ستم ہنستے ہوئے سہتی رہیاپنے ہی آپ سے گزری جو اسے کہتی رہیصرف اک چھت ہی ملی پیار کا سایہ نہ ملامطمئن زیست کا غنچہ نہ کبھی دل کا کھلابال بچے بھی جواں ہو کے ہوئے بیگانےماں پہ کیا بیت گئی اس سے رہے انجانے
اور یوں کہیں بھی رنج و بلا سے مفر نہیںکیا ہوگا دو گھڑی میں کسی کو خبر نہیںاکثر ریاض کرتے ہیں پھولوں پہ باغباںہے دن کی دھوپ رات کی شبنم انہیں گراںلیکن جو رنگ باغ بدلتا ہے ناگہاںوہ گل ہزار پردوں میں جاتے ہیں رائیگاںرکھتے ہیں جو عزیز انہیں اپنی جاں کی طرحملتے ہیں دست یاس وہ برگ خزاں کی طرحلیکن جو پھول کھلتے ہیں صحرا میں بے شمارموقوف کچھ ریاض پہ ان کی نہیں بہاردیکھو یہ قدرت چمن آرائے روزگاروہ ابر و باد و برف میں رہتے ہیں برقرارہوتا ہے ان پہ فضل جو رب کریم کاموج سموم بنتی ہے جھونکا نسیم کااپنی نگاہ ہے کرم کارساز پرصحرا چمن بنے گا وہ ہے مہرباں اگرجنگل ہو یا پہاڑ سفر ہو کہ ہو حضررہتا نہیں وہ حال سے بندے کے بے خبراس کا کرم شریک اگر ہے تو غم نہیںدامان دشت دامن مادر سے کم نہیں
وہ شخص جس کو ہنستے ہوئے گھر پسند تھےوہ شخص جس کو بولتے منظر پسند تھےوہ شخص جس کے ساتھ سمے خوش گوار تھاوہ شخص جانے کتنے دلوں کا قرار تھاکچھ وقت سے وہ حالت دنیا سے ہے خفاخوشبو سے رنج کوہ سے دریا سے ہے خفاآنکھیں اداس ایسی کہ ماتھے پہ بل پڑیںافسردگان شہر کے آنسو نکل پڑیںدنیا میں گم نہیں ہے غم ذات میں ہے گمکیسے بتاؤں تم کو وہ کس بات میں ہے گم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books