aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "taiba"
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقلب ماحول میں لرزاں شرر جنگ ہیں آجحوصلے وقت کے اور زیست کے یک رنگ ہیں آجآبگینوں میں تپاں ولولۂ سنگ ہیں آجحسن اور عشق ہم آواز و ہم آہنگ ہیں آججس میں جلتا ہوں اسی آگ میں جلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتیرے قدموں میں ہے فردوس تمدن کی بہارتیری نظروں پہ ہے تہذیب و ترقی کا مدارتیری آغوش ہے گہوارۂ نفس و کردارتا بہ کے گرد ترے وہم و تعین کا حصارکوند کر مجلس خلوت سے نکلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو کہ بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہےتپتی سانسوں کی حرارت سے پگھل جاتی ہےپاؤں جس راہ میں رکھتی ہے پھسل جاتی ہےبن کے سیماب ہر اک ظرف میں ڈھل جاتی ہےزیست کے آہنی سانچے میں بھی ڈھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےزندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیںنبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیںاڑنے کھلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیںجنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیںاس کی آزاد روش پر بھی مچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےگوشہ گوشہ میں سلگتی ہے چتا تیرے لیےفرض کا بھیس بدلتی ہے قضا تیرے لیےقہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیےزہر ہی زہر ہے دنیا کی ہوا تیرے لیےرت بدل ڈال اگر پھولنا پھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےقدر اب تک تری تاریخ نے جانی ہی نہیںتجھ میں شعلے بھی ہیں بس اشک فشانی ہی نہیںتو حقیقت بھی ہے دلچسپ کہانی ہی نہیںتیری ہستی بھی ہے اک چیز جوانی ہی نہیںاپنی تاریخ کا عنوان بدلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ کر رسم کا بت بند قدامت سے نکلضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکلنفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکلقید بن جائے محبت تو محبت سے نکلراہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتوڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑتیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑطوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑتوڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑبن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھےتو فلاطون و ارسطو ہے تو زہرا پرویںتیرے قبضہ میں ہے گردوں تری ٹھوکر میں زمیںہاں اٹھا جلد اٹھا پائے مقدر سے جبیںمیں بھی رکنے کا نہیں وقت بھی رکنے کا نہیںلڑکھڑائے گی کہاں تک کہ سنبھلنا ہے تجھےاٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
جو مٹی کے سکوروں کی طرح بکھری پڑی ہیںگلاسوں نے انہیں متروک کر ڈالازباں پر ذائقہ آتا تھا جو صفحے پلٹنے کااب انگلی کلک کرنے سے بس اکجھپکی گزرتی ہےبہت کچھ تہہ بہ تہہ کھلتا چلا جاتا ہے پردے پر
وہ کتاب حسن وہ علم و ادب کی طالبہوہ مہذب وہ مؤدب وہ مقدس راہبہکس قدر پیرایہ پرور اور کتنی سادہ کارکس قدر سنجیدہ و خاموش کتنی با وقارگیسوئے پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئےاور کچھ بکھرے ہوئے الجھے ہوئے سمٹے ہوئےرنگ میں اس کے عذاب خیرگی شامل نہیںکیف احساسات کی افسردگی شامل نہیںوہ مرے آتے ہی اس کی نکتہ پرور خامشیجیسے کوئی حور بن جائے یکایک فلسفیمجھ پہ کیا خود اپنی فطرت پر بھی وہ کھلتی نہیںایسی پر اسرار لڑکی میں نے دیکھی ہی نہیںدختران شہر کی ہوتی ہے جب محفل کہیںوہ تعارف کے لیے آگے کبھی بڑھتی نہیں
دنیا میں پادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمیاور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمیزردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمینعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمیابدال، قطب و غوث، ولی آدمی ہوئےمنکر بھی آدمی ہوئے اور کفر کے بھرےکیا کیا کرشمے کشف و کرامات کے لیےحتٰی کہ اپنے زہد و ریاضت کے زور سےخالق سے جا ملا ہے سو ہے وہ بھی آدمیفرعون نے کیا تھا جو دعویٰ خدائی کاشداد بھی بہشت بنا کر ہوا خدانمرود بھی خدا ہی کہاتا تھا برملایہ بات ہے سمجھنے کی آگے کہوں میں کیایاں تک جو ہو چکا ہے سو ہے وہ بھی آدمیکل آدمی کا حسن و قبح میں ہے یاں ظہورشیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکر و زوراور ہادی رہنما ہے سو ہے وہ بھی آدمیمسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاںبنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواںپڑھتے ہیں آدمی ہی قرآن اور نمازیاںاور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاںجو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی پہ جان کو وارے ہے آدمیاور آدمی پہ تیغ کو مارے ہے آدمیپگڑی بھی آدمی کی اتارے ہے آدمیچلا کے آدمی کو پکارے ہے آدمیاور سن کے دوڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمیچلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو لے کے مالاور آدمی ہی مارے ہے پھانسی گلے میں ڈالیاں آدمی ہی صید ہے اور آدمی ہی جالسچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لالاور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی شادی ہے اور آدمی بیاہقاضی وکیل آدمی اور آدمی گواہتاشے بجاتے آدمی چلتے ہیں خواہ مخواہدوڑے ہیں آدمی ہی تو مشعل جلا کے راہاور بیاہنے چڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی نقیب ہو بولے ہے بار باراور آدمی ہی پیادے ہیں اور آدمی سوارحقہ صراحی جوتیاں دوڑیں بغل میں مارکاندھے پہ رکھ کے پالکی ہیں دوڑتے کہاراور اس میں جو پڑا ہے سو ہے وہ بھی آدمیبیٹھے ہیں آدمی ہی دکانیں لگا لگااور آدمی ہی پھرتے ہیں رکھ سر پہ خونچاکہتا ہے کوئی لو کوئی کہتا ہے لا رے لاکس کس طرح کی بیچیں ہیں چیزیں بنا بنااور مول لے رہا ہے سو ہے وہ آدمیطبلے مجیرے دائرے سارنگیاں بجاگاتے ہیں آدمی ہی ہر اک طرح جا بجارنڈی بھی آدمی ہی نچاتے ہیں گت لگااور آدمی ہی ناچے ہیں اور دیکھ پھر مزاجو ناچ دیکھتا ہے سو ہے وہ بھی آدمییاں آدمی ہی لعل و جواہر میں بے بہااور آدمی ہی خاک سے بد تر ہے ہو گیاکالا بھی آدمی ہے کہ الٹا ہے جوں تواگورا بھی آدمی ہے کہ ٹکڑا ہے چاند سابد شکل بد نما ہے سو ہے وہ بھی آدمیاک آدمی ہیں جن کے یہ کچھ زرق برق ہیںروپے کے جن کے پاؤں ہیں سونے کے فرق ہیںجھمکے تمام غرب سے لے تا بہ شرق ہیںکم خواب تاش شال دو شالوں میں غرق ہیںاور چیتھڑوں لگا ہے سو ہے وہ بھی آدمیحیراں ہوں یارو دیکھو تو کیا یہ سوانگ ہےاور آدمی ہی چور ہے اور آپی تھانگ ہےہے چھینا جھپٹی اور بانگ تانگ ہےدیکھا تو آدمی ہی یہاں مثل رانگ ہےفولاد سے گڑھا ہے سو ہے وہ بھی آدمیمرنے میں آدمی ہی کفن کرتے ہیں تیارنہلا دھلا اٹھاتے ہیں کاندھے پہ کر سوارکلمہ بھی پڑھتے جاتے ہیں روتے ہیں زارزارسب آدمی ہی کرتے ہیں مردے کے کاروباراور وہ جو مر گیا ہے سو ہے وہ بھی آدمیاشراف اور کمینے سے لے شاہ تا وزیریہ آدمی ہی کرتے ہیں سب کار دل پذیریاں آدمی مرید ہے اور آدمی ہی پیراچھا بھی آدمی ہی کہاتا ہے اے نظیرؔاور سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاںمجھ سے کچھ پنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و سازلے گئے تثلیث کے فرزند ميراث خليلخشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجازہو گئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگجو سراپا ناز تھے ہیں آج مجبور نيازلے رہا ہے مے فروشان فرنگستاں سے پارسوہ مے سرکش حرارت جس کی ہے مينا گدازحکمت مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئیٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گازہو گیا مانند آب ارزاں مسلماں کا لہومضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے رازگفت رومی ہر بنائے کہنہ کآباداں کنندمی نداني اول آں بنیاد را ویراں کنندملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیںحق ترا چشمے عطا کر دست غافل در نگرمومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکستمور بے پر حاجتے پیش سلیمانے مبرربط و ضبط ملت بيضا ہے مشرق کی نجاتایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبرپھر سیاست چھوڑ کر داخل حصار ديں میں ہوملک و دولت ہے فقط حفظ حرم کا اک ثمرایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئےنیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغرجو کرے گا امتياز رنگ و خوں مٹ جائے گاترک خرگاہی ہو یا اعرابیٔ والا گہرنسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئیاڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزرتا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوارلا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگراے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باشاے گرفتار ابوبکر و علي ہشيار باشعشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکیاب ذرا دل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھتو نے دیکھا سطوت رفتار دريا کا عروجموج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھعام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نےاے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھاپنی خاکستر سمندر کو ہے سامان وجودمر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہان پیر دیکھکھول کر آنکھیں مرے آئينۂ گفتار میںآنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھآزمودہ فتنہ ہے اک اور بھی گردوں کے پاسسامنے تقدیر کے رسوائی تدبير دیکھمسلم استی سینہ را از آرزو آباد دارہر زماں پیش نظر لایخلف المیعاد دار
اپنا موضوع سخن ان کے سوا اور نہیںطبع شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیالہروں سے کھیلتا ہوا لہرا کے پی گیابے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیاتوبہ کو توڑ تاڑ کے تھرا کے پی گیازاہد! یہ تیری شوخئ رندانہ دیکھنارحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیاسر مستئ ازل مجھے جب یاد آ گئیدنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیاآزردگئ خاطر ساقی کو دیکھ کرمجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیااے رحمت تمام مری ہر خطا معافمیں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیاپیتا بغیر اذن یہ کب تھی مری مجالدر پردہ چشم یار کی شہ پا کے پی گیااس جان مے کدہ کی قسم بارہا جگرؔکل عالم بسیط پہ میں چھا کے پی گیا
یہ صحرا بھوک کا صحرا ہےیہ صحرا موت کا صحرا ہے۳یہ بچہ کیسے بیٹھا ہےیہ بچہ کب سے بیٹھا ہےیہ بچہ کیا کچھ پوچھتا ہےیہ بچہ کیا کچھ کہتا ہےیہ دنیا کیسی دنیا ہےیہ دنیا کس کی دنیا ہے۴اس دنیا کے کچھ ٹکڑوں میںکہیں پھول کھلے کہیں سبزہ ہےکہیں بادل گھر گھر آتے ہیںکہیں چشمہ ہے کہیں دریا ہےکہیں اونچے محل اٹاریاں ہیںکہیں محفل ہے کہیں میلا ہےکہیں کپڑوں کے بازار سجےیہ ریشم ہے یہ دیبا ہےکہیں غلے کے انبار لگےسب گیہوں دھان مہیا ہےکہیں دولت کے صندوق بھرےہاں تانبا سونا روپا ہےتم جو مانگو سو حاضر ہےتم جو چاہو سو ملتا ہے
وارث اسرار فطرت فاتح امید و بیممحرم آثار باراں واقف طبع نسیم
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
سبزوں کی لہلہاہٹ کچھ ابر کی سیاہیاور چھا رہی گھٹائیں سرخ اور سفید کاہیسب بھیگتے ہیں گھر گھر لے ماہ تا بماہییہ رنگ کون رنگے تیرے سوا الٰہیکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
خوب حق کے آستاں پر اور جھکے اپنی جبیںجائیے رہنے بھی دیجے ناصح گردوں نشیںتوبہ توبہ ہم بھڑی میں آ کے اور دیکھیں زمیںآنکھ کے اندھے نہیں ہیں گانٹھ کے پورے نہیں
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
رہگزر، سائے، شجر، منزل و در، حلقۂ بامبام پر سینۂ مہتاب کھلا، آہستہجس طرح کھولے کوئی بند قبا، آہستہحلقۂ بام تلے، سایوں کا ٹھہرا ہوا نیلنیل کی جھیلجھیل میں چپکے سے تیرا، کسی پتے کا حبابایک پل تیرا، چلا ،پھوٹ گیا، آہستہبہت آہستہ، بہت ہلکا، خنک رنگ شرابمیرے شیشے میں ڈھلا، آہستہشیشہ و جام ،صرا،حی ترے ہاتھوں کے گلابجس طرح دور کسی خواب کا نقشآپ ہی آپ بنا اور مٹا آہستہ
کرے دشمنی کوئی تم سے اگرجہاں تک بنے تم کرو درگزرکرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غورجلے جو کوئی اس کو جلنے دو اوراگر تم سے ہو جائے سرزد قصورتو اقرار و توبہ کرو بالضروربدی کی ہو جس نے تمہارے خلافجو چاہے معافی تو کر دو معافنہیں، بلکہ تم اور احساں کروبھلائی سے اس کو پشیماں کروہے شرمندگی اس کے دل کا علاجسزا اور ملامت کی کیا احتیاجبھلائی کرو تو کرو بے غرضغرض کی بھلائی تو ہے اک مرضجو محتاج مانگے تو دو تم ادھاررہو واپسی کے نہ امیدوارجو تم کو خدا نے دیا ہے تو دونہ خست کرو اس میں جو ہو سو ہو
کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گیشاید اس طرح کہ جس طور تہہ نوک سناںکوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگےاور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہاز کراں تا بہ کراں دہر پہ منڈلانے لگےکس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گیخواہ قاتل کی طرح آئے کہ محبوب صفتدل سے بس ہوگی یہی حرف وداع کی صورتللہ الحمد بہ انجام دل دل زدگاںکلمۂ شکر بہ نام لب شیریں دہناں
ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہمزہر پیتے رہے، گیت گاتے رہےجان دیتے رہے زندگی کے لیےساعت وصل کی سر خوشی کے لیےدین و دنیا کی دولت لٹاتے رہےفقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئےجو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہےمال والے حقارت سے تکتے رہےطعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہےہم نے ان پر کیا حرف حق سنگ زنجن کی ہیبت سے دنیا لرزتی رہیجن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھااپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہیسب سے اوجھل ہوئے حکم حاکم پہ ہمقید خانے سہے، تازیانے سہےلوگ سنتے رہے ساز دل کی صدااپنے نغمے سلاخوں سے چھنتے رہےخونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہدکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہمطبع شاعر ہے جنگاہ عدل و ستممنصف خیر و شر حق و باطل ہیں ہم
ہم نے بکری کے بچوں کو کمروں میں نچانا چھوڑ دیاناراض نہ ہو امی ہم نے ہر شوق پرانا چھوڑ دیاڈیڈی کے سوٹ پہن کر ہم صوفوں پر ڈانس نہیں کرتےسارے گھر کی بنیادوں کو اب ہم نے ہلانا چھوڑ دیادادا ابا کا اب چشمہ بکرے کو نہیں پہناتے ہمنانا ابا کی لٹھیا اب ہم نے چھپانا چھوڑ دیابندر کو سہرا باندھ کے ہم دولہا نہ بنائیں گے امیاب گھونگھٹ کاڑھ بندریا کو ڈولی میں بٹھانا چھوڑ دیاندیا کے گہرے پانی میں کھائے نہ کئی دن سے غوطےگھر ہی میں پڑے اب سڑتے ہیں ندیا پہ نہانا چھوڑ دیااب صبر کے میٹھے پھل آہیں بھر بھر کر کھاتے ہیںمالن کو بنا بیٹھے خالہ مالی کو رلانا چھوڑ دیاگھر میں بیٹھے سادھو بن کر اب علم کی مالا جپتے ہیںخرگوشوں کے پیچھے جنگل میں کتوں کو بھگانا چھوڑ دیاپنجروں میں بند جو رہتی تھیں وہ پھر سے اڑا دیں سب چڑیاںمرغوں میں صلح کراتے ہیں مرغوں کو لڑانا چھوڑ دیااب ہم نے کبھی کھانا کھا کر کپڑوں سے ہاتھ نہیں پونچھےدیکھو کئی دن سے دھوبی نے رونا چلانا چھوڑ دیاہر ایک بغاوت چھوڑی ہے ہر ایک شرارت رخصت ہےاب گھر میں فرشتے آتے ہیں شیطان نے آنا چھوڑ دیاہم سے پھر بھی ناراض ہو کیوں کیا تم سوتیلی امی ہواپنے ان پیارے بچوں کو اب منہ بھی لگانا چھوڑ دیاجن آنکھوں میں روز شرارت تھی ان آنکھوں میں آنسو اب دیکھوان آپ کی پیاری آنکھوں کو اب ہم نے رلانا چھوڑ دیاہے گھر کی فضا سہمی سہمی غمگین ہیں بچوں کے چہرےکب ہنس کے کہوں گی اے بچو کیوں ہم کو ستانا چھوڑ دیا
روشنائی میں کہیں گھلتی ہے موج ماہتابکیا کوئی اوراق گل پر طبع کرتا ہے کتاب
میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھیمجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملاچند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملاجگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھیمیں نے موہوم امیدوں کی پناہیں ڈھونڈیںشدت یاس میں مبہم سا اشارہ نہ ملاڈگمگاتے ہوئے قدموں کو سہارا نہ ملاہائے کس دشت بلا خیز میں راہیں ڈھونڈیںاب فسوں ساز بہاروں سے مجھے کیا مطلبآج ہی میری نگاہوں میں وہ منظر توبہمیں نے دیکھے ہیں لپکتے ہوئے نشتر توبہخلد بر دوش نظاروں سے مجھے کیا مطلبآسماں نور کے نغمات سے معمور سہیمیں نے گھٹتی ہوئی چیخوں کے سنے ہیں نوحےہائے وہ اشک جو پلکوں سے ڈھلک بھی نہ سکےزندگی حسن و جوانی سے ابھی چور سہیکبھی ضو پاش ستاروں کی تمنا تھی مجھےآج ذروں کو بھی مقصود بنا رکھا ہےآج کانٹوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہےکبھی گل ریز بہاروں کی تمنا تھی مجھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books