Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بنارس کا ٹھگ

خواجہ احمد عباس

بنارس کا ٹھگ

خواجہ احمد عباس

MORE BYخواجہ احمد عباس

    کہانی کی کہانی

    ایک ایسے فرد کی کہانی ہے جو بنارس سیر کے لیے آتا ہے تو اسے ہر جگہ وارانسی لکھا دکھائی دیتا ہے۔ شہر میں گھومتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر میں جہاں ایک طرف بہت امیر لوگ ہیں وہیں دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن کے تن پر کپڑے تک نہیں ہیں۔ سیر کرتے ہوئے وہ سارناتھ جاتا ہے، وہاں گوتم بدھ کی سونے کی مورتی دیکھتا ہے۔ سونے کی مورتی دیکھ کر اسے بہت غصہ آتا ہے اور وہ مورتی کو توڑ دیتا ہے۔ وہ شہر میں اسی طرح کے اور بھی تخریبی کام کرتا ہے۔ آخر میں اسے پولس پکڑ لیتی ہے اور پاگل خانے کو سونپتے وقت جب اسکا نام پوچھا جاتا ہے تو وہ اپنا نام کبیر بتاتا ہے۔

    (۱)

    ریل کے اسٹیشن پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی

    پولیس کے تھانے کے باہر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی

    ہسپتال کے دروازے پر بورڈ لگا تھا۔۔۔ وارانسی

    شراب کی دکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی

    افیون، گانجہ اور چرس کی دوکان پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی

    کتابوں کی دوکان، جہاں کوک شاستر کھلے عام بک رہی تھی، لکھا تھا وارانسی۔۔۔ اوشدھالیہ پر، جہاں سدھ مکردھوج خریدنے کے لیے بھیڑ لگی تھی، لکھا تھا۔۔۔ وارانسی۔۔۔ حکیم حاذق الملک کے دارالشفا پر لکھاتھا۔۔۔ وارانسی

    پنجراپول پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی

    گئوشالہ پر لکھا تھا۔۔۔ وارانسی

    پاگل خانہ پر بورڈ لگا تھا۔۔۔ وارانسی

    اور ڈاک خانہ میں چٹھیوں پر کھٹاکھٹ مہریں لگائی جارہی تھیں۔۔۔ وارنسی۔۔۔ وارانسی۔۔۔ وارانسی۔۔۔ جیسے ہتھوڑے کی چوٹ پڑتی ہے۔ جیسے طبلے پر تھاپ پڑتی ہے وارانسی۔ وارانسی۔ وارانسی۔ وارانسی۔

    مگر جب مسافر نےراہ گیر سے پوچھا، ’’بھائی یہ کون سا شہر ہے؟‘‘ تو جواب ملا، ’’بنارس۔‘‘

    اور مسافر جو اب تک حیران و پریشان، کھویا کھویا ہوا گھوم رہا تھا، یک بیک اس کےچہرے پر ایک عجیب خوشی اور اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں نہ جانےکتنی پرانی یادیں جاگ اٹھیں۔ اس کے سوکھے ہوئے ہونٹوں پر ایک عجیب معصوم مسکراہٹ پھیل گئی۔ جیسے بچہ گھر آکر ماں سے کہہ رہا ہو۔۔۔ ’’ ماں، میں آگیا۔‘‘

    مسافر بہت دور سےآیاتھا۔۔۔ مگر اس کے چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اس کے گھر کے دھلے گاڑھے کے کپڑوں پر راستے کی کوئی گرد نہیں تھی۔ اس کے پاس نہ بستر تھا، نہ ٹرنک، نہ ناشتہ دان، نہ صراحی، نہ پانی کا لوٹا، نہ پانی کی لٹیا۔ پھر بھی نہ جانے کیوں ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنے کندھوں پر بہت بڑابوجھ اٹھاکر چل رہاہے۔ مسافر کو ٹھہرنے کےلے جگہ چاہیے تھی۔ راستے میں اس نےکسی راہ چلتے سے پوچھا، ’’بھائی یہاں بھولی بھٹیارن کی ایک سرائے ہواکرتی تھی۔‘‘

    جواب ملا، ’’سرائے تو یہاں کو ئی نہیں۔۔۔ البتہ ایک مسلم مسافر خانہ ہے۔‘‘

    ’’اور جو مسلمان نہ ہوں وہ کہاں ٹھہرتے ہیں؟‘‘

    ’’ہندوؤں کے لیے کئی دھرم شالائیں ہیں۔‘‘

    ’’اور جو نہ ہندو ہوں، نہ مسلم ہوں؟‘‘

    راہ گیر نے ایک ہوٹل کی طرف اشارہ کردیا۔

    باہر بورڈ لگا تھا، جس پر لکھا تھا۔۔۔ ’’ہوٹل وارانسی۔۔۔ وارانسی‘‘ اور مسافر یہ سوچتا ہوا اندر داخل ہو ہی رہاتھا کہ آخریہ وارانسی دوبارہ کیوں لکھا گیا ہے، کہ اس نے دیکھا کہ ایک کالا ناگ پھن پھیلائے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ گھبراکر وہ ایک طرف کو ہوا تو یہ دیکھ کر پریشان ہوگیا کہ ایک اَدھ ننگی جوان فرنگی عورت کھڑی ہے اور اس کے گلے اور سینے اور کولہوں کے گرد ایک بھیانک اژدہا لپٹا ہوا ہےاور ایک داڑھی والامداری کھڑا کہہ رہا ہے، ’’پائی تھن میم صاحب۔ پائی تھن۔ نو میک فیر۔ میم صاحب۔ ٹیک پیکچر۔ اونلی ٹو روپی۔‘‘ اور مسافر جو یہ بھاشا نہیں سمجھتا تھا، سمجھا کہ یہ سپیرا اس فرنگی عورت کو اژدہے سے ڈسوارہا ہے۔ اور اس نے لپک کر اژدہے کو دونوں ہاتھوں سے کھینچا اور زور سےزمین پر پٹخ دیا۔

    فرنگی عورت اپنی بھاشا میں کچھ چلائی۔ سپیرے نے مسافر کو گردن سے پکڑ لیا، ’’اے بڈھے، یہ کیا کرتا ہے؟ میرا کام خراب کردیا۔‘‘ اور پھر اس کی آنکھوں میں ایک شبہ کی چمک آئی، ’’اے تو بھی سپیرا ہے کیا؟‘‘ مسافر نے کہا، ’’میں سپیرا نہیں ہوں۔ پر تو یہ کیا کر رہاتھا، وہ بے چاری فرنگی عورت مرجاتی تو؟‘‘

    ’’ارے مورکھ اژدہے کے دانت نہیں ہیں۔ اس کو گلے میں ڈال کر میم صاحب تو صرف تصویر کھنچوا رہی تھی۔ چل اپنا راستہ لے۔ پاگل کہیں کا۔‘‘ اور پھر اس نے فرنگی عورت کی طرف دیکھ کر انگلی سے اپنی کھوپڑی کی طرف اشارہ کیا اور بولا، ’’میم صاحب، اولڈ مین، اسکرولوز، نومائنڈ، پاگل مین ناؤ پائی تھین میک لو میم صاحب۔ صاحب ٹیک پکچر۔ اونلی ٹو روپی۔‘‘

    اور اب مسافر ہوٹل کے منیجر سے بات کر رہا تھا۔

    ’’کیا میں اس سرائے میں ٹھہر سکتا ہوں؟‘‘

    ’’یہ سرائے نہیں ہوٹل ہے!‘‘

    ’’اچھا تو اب سرائے کو ہوٹل کہتےہیں۔ میں یہاں ٹھہرنا چاہتا ہوں۔‘‘

    ’’آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘

    ’’جی میں تو یہیں رہتا ہوں، اور یہاں سے اتنی دور بھی رہتاہوں کہ کوئی اِس فاصلہ کااندازہ بھی نہیں لگاسکتا۔‘‘ منیجر کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی۔ پھر اس نے اپنے رجسٹر میں لکھے ہوئے سوالوں پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا، ’’ آپ نے سفر کیسے کیا؟ مطلب یہ کہ آپ یہاں آئے کیسے؟ ریل سے؟‘‘

    ’’جی نہیں!‘‘

    ’’بس سے؟‘‘

    ’’جی نہیں!‘‘

    ’’ہوائی جہاز سے؟‘‘

    ’’جی نہیں۔۔۔ یا یوں سمجھیے، جی ہاں۔۔۔ آپ میرے سفر کو ہوائی جہاز کا سفر کہہ سکتے ہیں!‘‘

    ’’آپ کا سامان کہاں ہے؟‘‘

    ’’جی۔ سامان۔ جہاں میں رہتا ہوں وہاں کسی سامان کی ضرورت نہیں ہوتی!‘‘

    ’’توآپ یہاں نہیں ٹھہر سکتے!‘‘

    ’’تم اس سرائے کے یعنی ہوٹل کے مالک ہو کیا؟‘‘

    ’’نہیں منیجر ہوں!‘‘

    ’’تو مالک کون ہے؟‘‘

    ’’اس کے مالک ہیں بھگوان کاشی دوارکاناتھ بھنجم۔‘‘

    ’’تو اس کو ہوٹل ووٹل کیا کہتے ہیں۔۔۔ یہ تو بھگوان کامندر ہوا۔ اور مندر میں کوئی بھی مسافر بھگوان کا