بے ثباتی پر اشعار
زندگی کی بے ثباتی کا
موضوع شاعروں کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ یہی وہ واحد سچ ہےجس سے انکار کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ گزرتا ہوا ہرلمحہ ہمیں بے ثباتی کے اسی احساس سے بھرتا ہے ۔ زندگی کی تمام چمک دمک فنا پذیری کی طرف رواں دواں ہے ۔ یہ شاعری پڑھئے اوراس احساس کو تازہ کیجئے ۔
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی
کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے
-
موضوع : زندگی
بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی
ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ہیں
بے ثباتی زمانے کی ناچار
کرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے
اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت
کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
-
موضوعات : جسماور 1 مزید
پل میں منش ہے رام پجاری پل میں چیلا راون کا
پاپ اور پن کے بیچ کا دھاگا دیکھو کتنا کچا ہے
-
موضوع : گناہ