Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بے ثباتی پر اشعار

زندگی کی بے ثباتی کا

موضوع شاعروں کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ اس لئے بھی کہ یہی وہ واحد سچ ہےجس سے انکار کی کوئی صورت ہی نہیں ۔ گزرتا ہوا ہرلمحہ ہمیں بے ثباتی کے اسی احساس سے بھرتا ہے ۔ زندگی کی تمام چمک دمک فنا پذیری کی طرف رواں دواں ہے ۔ یہ شاعری پڑھئے اوراس احساس کو تازہ کیجئے ۔

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

میر تقی میر

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

ندا فاضلی

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات

کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

میر تقی میر

دنیا ہے خواب حاصل دنیا خیال ہے

انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

سیماب اکبرآبادی

سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی

کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے

اصغر گونڈوی

بے ثباتی چمن دہر کی ہے جن پہ کھلی

ہوس رنگ نہ وہ خواہش بو کرتے ہیں

عیش دہلوی

بے ثباتی زمانے کی ناچار

کرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے

محمد رفیع سودا

اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت

کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے

میر تقی میر

پل میں منش ہے رام پجاری پل میں چیلا راون کا

پاپ اور پن کے بیچ کا دھاگا دیکھو کتنا کچا ہے

سید عاشور کاظمی
بولیے