فراموشی پر شاعری

فراموشی شاعری میں عاشق اور معشوق کے درمیان کی ایک کیفیت ہے ۔ عشق کے اس کھیل میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب دونوں تھک کر ایک دوسرے کو فراموش کرنے اور بھلانے کی ترکیبیں سوچتے ہیں لیکن یاد ایسی سخت جان ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی بہانے پلٹ کر آہی جاتی ہے ۔ یہ وہ تجربہ ہے جس سے ہم سب گزرے ہیں اور گزرتے ہیں اس لئے یہ شاعری بھی ہماری اپنی ہے اسے پڑھئے اور عام کیجئے۔

ہچکیاں آتی ہیں پر لیتے نہیں وہ میرا نام

دیکھنا ان کی فراموشی کو میری یاد کو

سخی لکھنوی

گو فراموشی کی تکمیل ہوا چاہتی ہے

پھر بھی کہہ دو کہ ہمیں یاد وہ آیا نہ کرے

ابرار احمد

ہم فراموش کی فراموشی

اور تم یاد عمر بھر بھولے

مرزا اظفری

متعلقہ موضوعات