کمر شاعری

کمر کلاسیکی شاعری میں ایک دلچسپ موضوع ہے ۔ شاعری کے اس حصے کو پڑھ کر آپ شاعروں کے تخیل کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔ معشوق کی کمر کی خوبصورتی ، باریکی یا یہ کہا جائے کہ اس کی معدومی کو شاعروں نے حیرت انگیز طریقوں سے برتا ہے ۔ ہم اس موضوع پر کچھ اچھے اشعار کا انتخاب پیش کر رہے ہیں آپ اسے پڑھئے اور عام کیجئے ۔

زلفیں سینہ ناف کمر

ایک ندی میں کتنے بھنور

جاں نثاراختر

تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے

کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے

آبرو شاہ مبارک

مثل آئینہ ہے اس رشک قمر کا پہلو

صاف ادھر سے نظر آتا ہے ادھر کا پہلو

میر مستحسن خلیق

کمر یار ہے باریکی ث غائب ہر چند

مگر اتنا تو کہوں گا کہ وہ معدوم نہیں

اکبر الہ آبادی

برا کیا ہے باندھو اگر تیغ و خنجر

مگر پہلے اپنی کمر دیکھ لینا

جلیل مانک پوری

قتل پر بیڑا اٹھا کر تیغ کیا باندھوگے تم

لو خبر اپنی دہن گم ہے کمر ملتی نہیں

امداد علی بحر

یا تنگ نہ کر ناصح ناداں مجھے ایسے

یا چل کے دکھا دے دہن ایسا کمر ایسی

شتاب رائے برہمن

نظر کسی کو وہ موئے کمر نہیں آتا

برنگ تار نظر ہے نظر نہیں آتا

میر کلو عرش

متعلقہ موضوعات