ADVERTISEMENT

اشعار پروہم

وہم ایک ذہنی کیفیت ہے

اور خیال وفکر کا ایک رویہ ہے جسے یقین کی متضاد کیفیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔ انسان مسلسل زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے میں یقین ووہم کے درمیان پھنسا ہوتا ہے ۔ خیال وفکر کے یہ وہ علاقے ہیں جن سے واسطہ تو ہم سب کا ہے لیکن ہم انہیں لفظ کی کوئی صورت نہیں دے پاتے ۔ یہ شاعری پڑھئے اور ان لفظوں میں باریک ونامعلوم سے احساسات کی جلوہ گری دیکھئے ۔

نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم

رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم

فانی بدایونی

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے

جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

شیخ ابراہیم ذوقؔ

درد ہو تو دوا بھی ممکن ہے

وہم کی کیا دوا کرے کوئی

یگانہ چنگیزی

کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم

الجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم

صبا اکبرآبادی
ADVERTISEMENT

لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گے

وہم سا دل کو ہوا تھا شاید

ادا جعفری

وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمال کم نما

جیسے سب کچھ ہو مگر تو دید کے قابل نہ ہو

منیر نیازی

ہم جور پرستوں پہ گماں ترک وفا کا

یہ وہم کہیں تم کو گنہ گار نہ کر دے

حسرتؔ موہانی