Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shayar Jamali's Photo'

شاعر جمالی

1943 - 2008 | بہرائج, انڈیا

شاعر جمالی کے اشعار

تم آسماں کی بلندی سے جلد لوٹ آنا

ہمیں زمیں کے مسائل پہ بات کرنی ہے

چھپ گیا عید کا چاند نکل کر دیر ہوئی پر جانے کیوں

نظریں اب تک ٹکی ہوئی ہیں مسجد کے میناروں پر

اور اگر ہو نہ سکے کچھ بھی اجالوں کی سبیل

اک چراغ اپنے لہو سے ہی جلا دیں ہم لوگ

یوں بھی کٹ سکتے ہیں یہ تشنہ لبی کے لمحات

بیٹھ کر بزم میں ساقی کو دعا دیں ہم لوگ

جس کے سائے میں تعصب کی تپش شامل ہو

وقت کہتا ہے وہ دیوار گرا دیں ہم لوگ

Recitation

بولیے