شاعر جمالی کے اشعار
تم آسماں کی بلندی سے جلد لوٹ آنا
ہمیں زمیں کے مسائل پہ بات کرنی ہے
چھپ گیا عید کا چاند نکل کر دیر ہوئی پر جانے کیوں
نظریں اب تک ٹکی ہوئی ہیں مسجد کے میناروں پر
اور اگر ہو نہ سکے کچھ بھی اجالوں کی سبیل
اک چراغ اپنے لہو سے ہی جلا دیں ہم لوگ
یوں بھی کٹ سکتے ہیں یہ تشنہ لبی کے لمحات
بیٹھ کر بزم میں ساقی کو دعا دیں ہم لوگ
جس کے سائے میں تعصب کی تپش شامل ہو
وقت کہتا ہے وہ دیوار گرا دیں ہم لوگ
-
موضوع : سایہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ