Nasir Kazmi's Photo'

ناصر کاظمی

1923 - 1972 | لاہور, پاکستان

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

جدید اردو غزل کے بنیاد سازوں میں شامل ، ہندوستان کے شہر انبالہ میں پیدا ہوئے اور پاکستان ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا

غزل 110

اشعار 75

آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد

آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

ای- کتاب 25

اٹھارہ سو ستاون خیال نمبر

 

2007

برگ نے

 

1990

برگ نے

 

1998

دیوان

 

1989

دیوان

 

1977

دیوان

 

1992

دیوان

 

1984

دیوان ناصر کاظمی

 

1981

اعتبار نغمہ

 

1982

غیر مطبوعہ کلام

 

1956

تصویری شاعری 27

کون اچھا ہے اس زمانے میں کیوں کسی کو برا کہے کوئی

سر میں جب عشق کا سودا نہ رہا کیا کہیں زیست میں کیا کیا نہ رہا اب تو دنیا بھی وہ دنیا نہ رہی اب ترا دھیان بھی اتنا نہ رہا قصۂ_شوق سناؤں کس کو رازداری کا زمانا نہ رہا زندگی جس کی تمنا میں کٹی وہ مرے حال سے بیگانہ رہا ڈیرے ڈالے ہیں خزاں نے چودیس گل تو گل باغ میں کانٹا نہ رہا دن دہاڑے یہ لہو کی ہولی خلق کو خوف خدا کا نہ رہا اب تو سو جاؤ ستم کے مارو آسماں پر کوئی تارا نہ رہا

ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے دیوانہ ہے دیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے کل جو تھا وہ آج نہیں جو آج ہے کل مٹ جائے_گا روکھی_سوکھی جو مل جائے شکر کرو تو بہتر ہے کل یہ تاب_و_تواں نہ رہے_گی ٹھنڈا ہو جائے_گا لہو نام_خدا ہو جوان ابھی کچھ کر گزرو تو بہتر ہے کیا جانے کیا رت بدلے حالات کا کوئی ٹھیک نہیں اب کے سفر میں تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے رات بہت کالی ہے ناصرؔ گھر میں رہو تو بہتر ہے

دیار_دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیب_دشمناں ہوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا جدائیوں کے زخم درد_زندگی نے بھر دیے تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی وہ لہر کس طرف گئی یہ میں کہاں سما گیا گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو_گے کب تلک الم_کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا

ویڈیو 63

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر
تو اسیر_بزم ہے ہم_سخن تجھے ذوق_نالۂ_نے نہیں

ناصر کاظمی

گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل

ناصر کاظمی

وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے

ناصر کاظمی

آڈیو 59

اپنی دھن میں رہتا ہوں

آرائش_خیال بھی ہو دل_کشا بھی ہو

اپنی دھن میں رہتا ہوں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

شعرا متعلقہ

  • باصر سلطان کاظمی باصر سلطان کاظمی بیٹا
  • ملک زادہ منظور احمد ملک زادہ منظور احمد ہم عصر
  • قیصر الجعفری قیصر الجعفری ہم عصر
  • مظہر امام مظہر امام ہم عصر
  • رسا چغتائی رسا چغتائی ہم عصر
  • سلیم احمد سلیم احمد ہم عصر
  • فراق گورکھپوری فراق گورکھپوری ہم عصر
  • خلیل الرحمن اعظمی خلیل الرحمن اعظمی ہم عصر

شعرا کے مزید "لاہور"

  • منیر نیازی منیر نیازی
  • قتیل شفائی قتیل شفائی
  • حبیب جالب حبیب جالب
  • ظفر اقبال ظفر اقبال
  • اختر شیرانی اختر شیرانی
  • حفیظ جالندھری حفیظ جالندھری
  • محمد حسین آزاد محمد حسین آزاد
  • محمد حنیف رامے محمد حنیف رامے
  • عارف عبدالمتین عارف عبدالمتین
  • احمد راہی احمد راہی