ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
میری خواہشیں بے شمار ہیں، اور ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔
میرے بہت سے ارمان پورے بھی ہوئے، مگر پھر بھی دل کو کم ہی لگے۔
اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.