Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے

مرزا غالب

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

    بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

    میری خواہشیں بے شمار ہیں، اور ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ جان نکلتی محسوس ہوتی ہے۔

    میرے بہت سے ارمان پورے بھی ہوئے، مگر پھر بھی دل کو کم ہی لگے۔

    اس شعر میں انسانی چاہت کی بے انتہاپن اور عدمِ تسکین بیان ہوئی ہے۔ خواہش کی شدت کو “دم نکلنا” کے استعارے سے یوں دکھایا گیا ہے کہ ہر آرزو جان پر بن آئے۔ مگر جب کچھ ارمان نکل بھی آئیں تو بھی دل بھر نہیں پاتا، کیونکہ طلب ختم نہیں ہوتی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے