Ahmad Shahryar's Photo'

احمد شہریار

1983 | ایران

ایران میں مقیم معروف پاکستانی شاعر

ایران میں مقیم معروف پاکستانی شاعر

281
Favorite

باعتبار

سالگرہ پر کتنی نیک تمنائیں موصول ہوئیں

لیکن ان میں ایک مبارک باد ابھی تک باقی ہے

راتوں کو جاگتے ہیں اسی واسطے کہ خواب

دیکھے گا بند آنکھیں تو پھر لوٹ جائے گا

فقیر شہر بھی رہا ہوں شہریارؔ بھی مگر

جو اطمینان فقر میں ہے تاج و تخت میں نہیں

قطرہ ٹھیک ہے دریا ہونے میں نقصان بہت ہے

دیکھ تو کیسے ڈوب رہا ہے میرا لشکر مجھ میں

ہمارے شہر کی روایتوں میں ایک یہ بھی تھا

دعا سے قبل پوچھنا اثر میں کتنی دیر ہے

نہ دستکیں نہ صدا کون در پہ آیا ہے

فقیر شہر ہے یا شہریار دیکھئے گا

ابھی ہمیں گزارنی ہے ایک عمر مختصر

مگر ہماری عمر مختصر میں کتنی دیر ہے

سمائی کس طرح میری آنکھوں کی پتلیوں میں

وہ ایک حیرت جو آئینے سے بہت بڑی تھی

تجھ سے بھی کب ہوئی تدبیر مری وحشت کی

تو بھی مٹھی میں کہاں بھینچ سکا پانی کو

جل اٹھیں یادوں کی قندیلیں صدائیں ڈوب جائیں

درحقیقت خامشی صحرا بھی ہے دریا بھی ہے

علم کا دم بھرنا چھوڑو بھی اور عمل کو بھول بھی جاؤ

آئینہ خانے میں ہو صاحب فکر کرو حیرانی کی

حد گماں سے ایک شخص دور کہیں چلا گیا

میں بھی وہیں چلا گیا میں بھی گزشتگاں میں تھا

لمس صدائے ساز نے زخم نہال کر دیے

یہ تو وہی ہنر ہے جو دست طبیب جاں میں تھا

تو موجود ہے میں معدوم ہوں اس کا مطلب یہ ہے

تجھ میں جو ناپید ہے پیارے وہ ہے میسر مجھ میں

خواب زیاں ہیں عمر کا خواب ہیں حاصل حیات

اس کا بھی تھا یقیں مجھے وہ بھی مرے گماں میں تھا