Ambarin Salahuddin's Photo'

عنبرین صلاح الدین

پاکستان

نئی نسل کی اہم شاعرہ، اپنی نظموں کے لیے معروف

نئی نسل کی اہم شاعرہ، اپنی نظموں کے لیے معروف

آپ کہیں تو تین زمانے ایک ہی لہر میں بہہ نکلیں

آپ کہیں تو ساری باتوں میں ایسی آسانی ہے

الجھتی جاتی ہیں گرہیں ادھورے لفظوں کی

ہم اپنی باتوں کے سارے اگر مگر کھولیں

تم جو چاہو تو رک بھی سکتا ہے

ورنہ کس سے رکا ہے آدھا دن

اک منظر میں اک دھندلے سے عکس میں چھپ کے رو لیں

ہم کس خواب میں آنکھیں موندیں کس میں آنکھیں کھولیں

بہت سے لفظ دستک دے رہے تھے

سکوت شب میں رستہ کھل رہا تھا

میری حیرت مری وحشت کا پتہ پوچھتی ہے

دیکھیے کون کسے پہلے رسائی دے گا

ریت ہے سورج ہے وسعت ہے تنہائی

لیکن ناں اس دل کی خام خیالی جائے

جانے کس خواب کی حیرت نے جگائے رکھا

پھر مری حسرت ناکام نے دیکھا اس کو