Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ateequllah's Photo'

عتیق اللہ

1941 | دلی, انڈیا

ممتاز نقاد اور شاعر، دہلی یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر رہے

ممتاز نقاد اور شاعر، دہلی یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر رہے

عتیق اللہ کے اشعار

772
Favorite

باعتبار

آئنہ آئنہ تیرتا کوئی عکس

اور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے

کچھ بدن کی زبان کہتی تھی

آنسوؤں کی زبان میں تھا کچھ

وہ رات نیند کی دہلیز پر تمام ہوئی

ابھی تو خواب پہ اک اور خواب دھرنا تھا

ریل کی پٹری نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے

آپ اپنی ذات سے اس کو بہت انکار تھا

اس گلی سے اس گلی تک دوڑتا رہتا ہوں میں

رات اتنی ہی میسر ہے سفر اتنا ہی ہے

لمس کی شدتیں محفوظ کہاں رہتی ہیں

جب وہ آتا ہے کئی فاصلے کر جاتا ہے

ذرا سے رزق میں برکت بھی کتنی ہوتی تھی

اور اک چراغ سے کتنے چراغ جلتے تھے

فضا میں ہاتھ تو اٹھے تھے ایک ساتھ کئی

کسی کے واسطے کوئی دعا نہ کرتا تھا

ہر منظر کے اندر بھی اک منظر ہے

دیکھنے والا بھی تو ہو تیار مجھے

کس کے پیروں کے نقش ہیں مجھ میں

میرے اندر یہ کون چلتا ہے

کسی اک زخم کے لب کھل گئے تھے

میں اتنی زور سے چیخا نہیں تھا

تم نے تو فقط اس کی روایت ہی سنی ہے

ہم نے وہ زمانہ بھی گزرتے ہوئے دیکھا

ہم زمیں کی طرف جب آئے تھے

آسمانوں میں رہ گیا تھا کچھ

اپنے سوکھے ہوئے گلدان کا غم ہے مجھ کو

آنکھ میں اشک کا قطرہ بھی نہیں ہے کوئی

یہ دیکھا جائے وہ کتنے قریب آتا ہے

پھر اس کے بعد ہی انکار کر کے دیکھا جائے

مجھ میں خود میری عدم موجودگی شامل رہی

ورنہ اس ماحول میں جینا بڑا دشوار تھا

کہاں پہنچ کے حدیں سب تمام ہوتی ہیں

اس آسمان سے نیچے اتر کے دیکھا جائے

پانی تھا مگر اپنے ہی دریا سے جدا تھا

چڑھتے ہوئے دیکھا نہ اترتے ہوئے دیکھا

کوئی شب ڈھونڈتی تھی مجھ کو اور میں

تری نیندوں میں جا کر سو گیا تھا

خوابوں کی کرچیاں مری مٹھی میں بھر نہ جائے

آئندہ لمحہ اب کے بھی یوں ہی گزر نہ جائے

وہ بات تھی تو کئی دوسرے سبب بھی تھے

یہ بات ہے تو سبب دوسرا نہیں ہوگا

ابھی تو کانٹوں بھری جھاڑیوں میں اٹکا ہے

کبھی دکھائی دیا تھا ہرا بھرا وہ بھی

یہ راہ طلب یارو گمراہ بھی کرتی ہے

سامان اسی کا تھا جو بے سر و ساماں تھا

بڑی چیز ہے یہ سپردگی کا مہین پل

نہ سمجھ سکو تو مجھے گنوا کے بھی دیکھنا

دن کے ہنگامے جلا دیتے ہیں مجھ کو ورنہ

صبح سے پہلے کئی مرتبہ مر جاتا ہوں

ترے فلک ہی سے ٹوٹنے والی روشنی کے ہیں عکس سارے

کہیں کہیں جو چمک رہے ہیں حروف میری عبارتوں میں

سفر گرفتہ رہے کشتگان نان و نمک

ہمارے حق میں کوئی فیصلہ نہ کرتا تھا

کچھ اور دن ابھی اس جا قیام کرنا تھا

یہاں چراغ وہاں پر ستارہ دھرنا تھا

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے