Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
noImage

بہرام جی

1828 - 1895

پارسی مذہبی عالم ،اردو کی ادبی روایات سے آشنا ہو کر اردو اور فارسی میں شاعری کی

پارسی مذہبی عالم ،اردو کی ادبی روایات سے آشنا ہو کر اردو اور فارسی میں شاعری کی

بہرام جی کے اشعار

277
Favorite

باعتبار

ہے مسلماں کو ہمیشہ آب زمزم کی تلاش

اور ہر اک برہمن گنگ و جمن میں مست ہے

نہیں دنیا میں آزادی کسی کو

ہے دن میں شمس اور شب کو قمر بند

پتا ملتا نہیں اس بے نشاں کا

لیے پھرتا ہے قاصد جا بجا خط

زاہدا کعبے کو جاتا ہے تو کر یاد خدا

پھر جہازوں میں خیال ناخدا کرتا ہے کیوں

ظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل

اپنے باطن کو صاف کر واعظ

نہیں بت خانہ و کعبہ پہ موقوف

ہوا ہر ایک پتھر میں شرر بند

ڈھونڈھ کر دل میں نکالا تجھ کو یار

تو نے اب محنت مری بیکار کی

عشق میں دل سے ہم ہوئے محو تمہارے اے بتو

خالی ہیں چشم و دل کرو ان میں گزر کسی طرح

میں برہمن و شیخ کی تکرار سے سمجھا

پایا نہیں اس یار کو جھنجھلائے ہوئے ہیں

کہتا ہے یار جرم کی پاتے ہو تم سزا

انصاف اگر نہیں ہے تو بیداد بھی نہیں

جا بجا ہم کو رہی جلوۂ جاناں کی تلاش

دیر و کعبہ میں پھرے صحبت رہباں میں رہے

رشتۂ الفت رگ جاں میں بتوں کا پڑ گیا

اب بظاہر شغل ہے زنار کا فعل عبث

Recitation

بولیے