404
Favorite

باعتبار

مجھ کو اخبار سی لگتی ہیں تمہاری باتیں

ہر نئے روز نیا فتنہ بیاں کرتی ہیں

محبت بانٹنا سیکھو محبت ہے عطا رب کی

محبت بانٹنے والے طویل العمر ہوتے ہیں

یہ باتوں میں نرمی یہ تہذیب و آداب

سبھی کچھ ملا ہم کو اردو زباں سے

جسے منزل سمجھ کر رک گئے ہم

وہیں سے اپنا آغاز سفر تھا

ان سے وابستہ ہے مرا بچپن

میں کھلونوں کی قدر کرتا ہوں

یوں محبت کو عمر بھر پڑھنا

زندگی امتحان ہو جیسے

حسیں یادیں وہ بچپن کی کہیں دل سے نہ کھو جائیں

میں اپنے آشیانے میں کھلونے اب بھی رکھتا ہوں

اک بے وفا کے پیار میں حد سے گزر گئے

کافر کے پیار نے ہمیں کافر بنا دیا

اس دور آخری کی جہالت تو دیکھیے

جس کی زباں دراز حکومت اسی کی ہے

مہتابؔ حقیقت سے آگاہ کرو ان کو

جو لوگ نہیں سمجھے اردو کا مقام اب تک

میں نے لگایا اپنے گناہوں کا جب حساب

مجھ کو پھر اپنے آپ سے نفرت سی ہو گئی

تم مرے پاس جب نہیں ہوتے

دھڑکنیں احتجاج کرتی ہیں

آنکھ بھر کے میں نے اک بار اسے دیکھا تھا

شہر والے مری آنکھوں میں اسے دیکھتے ہیں

دیوالی کی خوشی تھی پٹاخوں کا شور تھا

میں کر رہا تھا اس کی خموشی سے گفتگو

زندگی فن نہیں مداری کا

پانیوں سے دئے نہیں جلتے

خاک ڈالی ہے میں نے جذبوں پر

کوئی زخم اب ہرا نہیں ہوتا

مجھے معلوم ہے تم گر چکے ہو

اب اپنی ہار کو منظور کر لو

اپنی کمر سے آپ ہی باندھے سفر تمام

پھر یوں ہوا کہ میں کبھی اپنا نہیں بنا

دیتا رہا وہ گالیاں اور میں رہا خموش

پھر یوں ہوا کہ وہ مرے قدموں میں گر گیا

آٹھواں رنگ کیا دیا اس نے

اب کے خود رنگ ہو گیا ہوں میں

شاید ہمارے ہجر میں لفظوں کا ہاتھ تھا

اک لفظ غیر نے تو پرایا ہی کر دیا

مہتابؔ عمر بھر بھی نہ ہوگا رفو کبھی

وہ پل جو نفرتوں نے ادھیڑا تھا ایک دن

شہر والے نظر آتے ہیں مہذب مجھ کو

یہاں ہر شخص ہے اک درد کا دیوان لئے

میں حصار ظلمت شب میں ہوں جو بھٹک رہا ہوں گلی گلی

مجھے تیرگی سے گلا نہیں مجھے روشنی کی تلاش ہے

اس طرح منسلک ہوا اردو زبان سے

ملتا ہوں اب سبھی سے بڑی عاجزی کے ساتھ