Irshad Khan Sikandar's Photo'

ارشاد خان سکندر

1983 | دلی, ہندوستان

نئے ابھرتے ہوئے شاعروں میں نمایاں

نئے ابھرتے ہوئے شاعروں میں نمایاں

286
Favorite

باعتبار

بوڑھی ماں کا شاید لوٹ آیا بچپن

گڑیوں کا انبار لگا کر بیٹھ گئی

کل تیری تصویر مکمل کی میں نے

فوراً اس پر تتلی آ کر بیٹھ گئی

رشتہ بحال کاش پھر اس کی گلی سے ہو

جی چاہتا ہے عشق دوبارہ اسی سے ہو

مرے خلاف سبھی سازشیں رچیں جس نے

وہ رو رہا ہے مری داستاں سناتا ہوا

ہمیں تم سے ہمیشہ ملنے آیں کیوں

تمہارے پاؤں میں مہندی لگی ہے کیا

کھینچ لائی ہے محبت ترے در پر مجھ کو

اتنی آسانی سے ورنہ کسے حاصل ہوا میں

مدتوں آنکھیں وضو کرتی رہیں اشکوں سے

تب کہیں جا کے تری دید کے قابل ہوا میں

اب اپنے آپ کو خود ڈھونڈھتا ہوں

تمہاری کھوج میں نکلا ہوا میں

زمانے پر تو کھل کر ہنس رہا تھا

ترے چھوتے ہی رو بیٹھا ہے پاگل

کر گیا خموش مجھ کو دیر تک

چیخنا وہ ایک بے زبان کا

کام سب ہو گئے مرے آساں

کون سمجھے گا میری مشکل کو

بہہ گئے آنسوؤں کے دریا میں

آپ کی بات یاد ہی نہ رہی