صبا اکبرآبادی کے اشعار
ٹکڑے ہوئے تھے دامن ہستی کے جس قدر
دلق گدائے عشق کے پیوند ہو گئے
اس شان کا آشفتہ و حیراں نہ ملے گا
آئینہ سے فرصت ہو تو تصویر صباؔ دیکھ
اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیں
چھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہم
خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیا
اک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیا
کون اٹھائے عشق کے انجام کی جانب نظر
کچھ اثر باقی ہیں اب تک حیرت آغاز کے
روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہے
دل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتے
پستی نے بلندی کو بنایا ہے حقیقت
یہ رفعت افلاک بھی محتاج زمیں ہے
غلط فہمیوں میں جوانی گزاری
کبھی وہ نہ سمجھے کبھی ہم نہ سمجھے
ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیں
ہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیا
آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت
کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے
اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑے
اب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہے
بال و پر کی جنبشوں کو کام میں لاتے رہو
اے قفس والو قفس سے چھوٹنا مشکل سہی
عشق آتا نہ اگر راہ نمائی کے لئے
آپ بھی واقف منزل نہیں ہونے پاتے
کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم
الجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم
سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکے
جی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھنا
رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھی
ہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھی
ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچا
کسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہے
ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئی
تباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیا
آپ کے لب پہ اور وفا کی قسم
کیا قسم کھائی ہے خدا کی قسم
کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحب
جنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تک
مسافران رہ شوق سست گام ہو کیوں
قدم بڑھائے ہوئے ہاں قدم بڑھائے ہوئے
اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک
رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں
کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلا
اسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلا
کیا مآل دہر ہے میری محبت کا مآل
ہیں ابھی لاکھوں فسانے منتظر آغاز کے
گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھ
خرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیا
غم دوراں کو بڑی چیز سمجھ رکھا تھا
کام جب تک نہ پڑا تھا غم جاناں سے ہمیں
سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی
بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں
کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگی
اور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامۂ محفل سہی
کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گا
کب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہم
آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کا
سامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کا
دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کرو
ابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھے
بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے
آدمی آدمی اکیلا ہے
ایسا بھی کوئی غم ہے جو تم سے نہیں پایا
ایسا بھی کوئی درد ہے جو دل میں نہیں ہے
جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میں
کوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے اب