Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saba Akbarabadi's Photo'

صبا اکبرآبادی

1908 - 1991 | کراچی, پاکستان

صبا اکبرآبادی کے اشعار

32.4K
Favorite

باعتبار

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک

رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

اپنے جلنے میں کسی کو نہیں کرتے ہیں شریک

رات ہو جائے تو ہم شمع بجھا دیتے ہیں

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی

بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی

بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیں

چھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہم

اک روز چھین لے گی ہمیں سے زمیں ہمیں

چھینیں گے کیا زمیں کے خزانے زمیں سے ہم

بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے

آدمی آدمی اکیلا ہے

بھیڑ تنہائیوں کا میلا ہے

آدمی آدمی اکیلا ہے

آپ کے لب پہ اور وفا کی قسم

کیا قسم کھائی ہے خدا کی قسم

آپ کے لب پہ اور وفا کی قسم

کیا قسم کھائی ہے خدا کی قسم

غلط فہمیوں میں جوانی گزاری

کبھی وہ نہ سمجھے کبھی ہم نہ سمجھے

غلط فہمیوں میں جوانی گزاری

کبھی وہ نہ سمجھے کبھی ہم نہ سمجھے

سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکے

جی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھنا

سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکے

جی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھنا

آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت

کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے

آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت

کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے

کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم

الجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم

کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم

الجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم

اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑے

اب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہے

اچھا ہوا کہ سب در و دیوار گر پڑے

اب روشنی تو ہے مرے گھر میں ہوا تو ہے

آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کا

سامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کا

آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کا

سامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کا

روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہے

دل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتے

روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہے

دل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتے

ایسا بھی کوئی غم ہے جو تم سے نہیں پایا

ایسا بھی کوئی درد ہے جو دل میں نہیں ہے

ایسا بھی کوئی غم ہے جو تم سے نہیں پایا

ایسا بھی کوئی درد ہے جو دل میں نہیں ہے

کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگی

اور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامۂ محفل سہی

کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگی

اور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامۂ محفل سہی

دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کرو

ابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھے

دوستوں سے یہ کہوں کیا کہ مری قدر کرو

ابھی ارزاں ہوں کبھی پاؤ گے نایاب مجھے

غم دوراں کو بڑی چیز سمجھ رکھا تھا

کام جب تک نہ پڑا تھا غم جاناں سے ہمیں

غم دوراں کو بڑی چیز سمجھ رکھا تھا

کام جب تک نہ پڑا تھا غم جاناں سے ہمیں

خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیا

اک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیا

خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیا

اک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیا

کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلا

اسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلا

کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلا

اسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلا

عشق آتا نہ اگر راہ نمائی کے لئے

آپ بھی واقف منزل نہیں ہونے پاتے

عشق آتا نہ اگر راہ نمائی کے لئے

آپ بھی واقف منزل نہیں ہونے پاتے

کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گا

کب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہم

کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گا

کب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہم

ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیں

ہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیا

ابھی تو ایک وطن چھوڑ کر ہی نکلے ہیں

ہنوز دیکھنی باقی ہیں ہجرتیں کیا کیا

ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئی

تباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیا

ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئی

تباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیا

ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچا

کسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہے

ازل سے آج تک سجدے کئے اور یہ نہیں سوچا

کسی کا آستاں کیوں ہے کسی کا سنگ در کیا ہے

رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھی

ہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھی

رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھی

ہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھی

گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھ

خرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیا

گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھ

خرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیا

Recitation

بولیے