Shad Azimabadi's Photo'

شاد عظیم آبادی

1846 - 1927 | پٹنہ, ہندوستان

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں

اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا

زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزم

میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں

خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے

تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے

silence only intensifies one's grief

cry out heart and you will find relief

silence only intensifies one's grief

cry out heart and you will find relief

جیسے مری نگاہ نے دیکھا نہ ہو کبھی

محسوس یہ ہوا تجھے ہر بار دیکھ کر

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

کون سی بات نئی اے دل ناکام ہوئی

شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی

o luckless heart what was new today you tell me pray

day first turned into night, then night turned into day

o luckless heart what was new today you tell me pray

day first turned into night, then night turned into day

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

سن چکے جب حال میرا لے کے انگڑائی کہا

کس غضب کا درد ظالم تیرے افسانے میں تھا

یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی

جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے

بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں

why should I not be interred with a covered face

I have been cast from her presence in such disgrace

why should I not be interred with a covered face

I have been cast from her presence in such disgrace

نگاہ ناز سے ساقی کا دیکھنا مجھ کو

مرا وہ ہاتھ میں ساغر اٹھا کے رہ جانا

اظہار مدعا کا ارادہ تھا آج کچھ

تیور تمہارے دیکھ کے خاموش ہو گیا

thoughI had intended my feelings to convey

seeing your disposition, I did not dare to say

thoughI had intended my feelings to convey

seeing your disposition, I did not dare to say

کہاں سے لاؤں صبر حضرت ایوب اے ساقی

خم آئے گا صراحی آئے گی تب جام آئے گا

میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر

دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا

چشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا

ہزار شکر میں تیرے سوا کسی کا نہیں

ہزار حیف کہ اب تک ہوا نہ تو میرا

پروانوں کا تو حشر جو ہونا تھا ہو چکا

گزری ہے رات شمع پہ کیا دیکھتے چلیں

بھرے ہوں آنکھ میں آنسو خمیدہ گردن ہو

تو خامشی کو بھی اظہار مدعا کہیے

جیتے جی ہم تو غم فردا کی دھن میں مر گئے

کچھ وہی اچھے ہیں جو واقف نہیں انجام سے

میں شادؔ تنہا اک طرف اور دنیا کی دنیا اک طرف

سارا سمندر اک طرف آنسو کا قطرہ اک طرف

تیرے بیمار محبت کی یہ حالت پہنچی

کہ ہٹایا گیا تکیہ بھی سرہانے والا

ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہی

ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہی

غنچوں کے مسکرانے پہ کہتے ہیں ہنس کے پھول

اپنا کرو خیال ہماری تو کٹ گئی

جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں

ستم دیکھو کہ وہ بھی چھوٹتے پہچان لیتے ہیں

ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

ترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانے

ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ

ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں

ملے گا غیر بھی ان کے گلے بہ شوق اے دل

حلال کرنے مجھے عید کا ہلال آیا

دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا

دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا

چمن میں جا کے ہم نے غور سے اوراق گل دیکھے

تمہارے حسن کی شرحیں لکھی ہیں ان رسالوں میں

کہتے ہیں اہل ہوش جب افسانہ آپ کا

ہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کا

نظر کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اسی کا ہے

ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اسی کا ہے

اجل بھی ٹل گئی دیکھی گئی حالت نہ آنکھوں سے

شب غم میں مصیبت سی مصیبت ہم نے جھیلی ہے

نازک تھا بہت کچھ دل میرا اے شادؔ تحمل ہو نہ سکا

اک ٹھیس لگی تھی یوں ہی سی کیا جلد یہ شیشہ ٹوٹ گیا

خاروں سے یہ کہہ دو کہ گل تر سے نہ الجھیں

سیکھے کوئی انداز شریفانہ ہمارا

شب کو مری چشم حسرت کا سب درد دل ان سے کہہ جانا

دانتوں میں دبا کر ہونٹ اپنا کچھ سوچ کے اس کا رہ جانا

طلب کریں بھی تو کیا شے طلب کریں اے شادؔ

ہمیں تو آپ نہیں اپنا مدعا معلوم

اے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلا

ہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بے تاب ہیں ہم

کچھ ایسا کر کہ خلد آباد تک اے شادؔ جا پہنچیں

ابھی تک راہ میں وہ کر رہے ہیں انتظار اپنا