Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Soz Hoshiarpuri's Photo'

سوز ہوشیارپوری

1929 - 1974 | ہوشیار پور, انڈیا

سوز ہوشیارپوری کے اشعار

دل مرا درد کے سوا کیا ہے

ابتدا یہ تو انتہا کیا ہے

میں نے ہر تخریب میں دیکھی ہے اک تعمیر بھی

میرا مٹ جانا بھی ہے ہمت فزا میرے لیے

اے محبت تجھے خبر ہوگی

درد اٹھ اٹھ کے ڈھونڈھتا کیا ہے

پینے کو یوں تو شیخ بھی تیار ہیں مگر

کہتے ہیں شرط یہ ہے گرہ سے نہ زر کھلے

ایک پردہ سا ہے فریب نظر

یہ بھی اٹھے تو دیکھنا کیا ہے

پس مردن بھی مشت خاک میں کیسی یہ وحشت ہے

اٹھا کرتی ہے آندھی بن کے خاک رائیگاں میری

جسے سمجھا ہے تو اے سنگ دل مے خواریاں میری

ترے خلوت کدے میں ہیں وہ شب بیداریاں میری

دل حریص ہی اپنا نہ ہو سکا قانع

وگرنہ تیرے کرم میں تو کچھ کمی نہ رہی

Recitation

بولیے