Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sultan Akhtar's Photo'

سلطان اختر

1940 - 2021 | پٹنہ, انڈیا

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں

ممتاز ترین جدید شاعروں میں نمایاں

سلطان اختر کے اشعار

10.6K
Favorite

باعتبار

میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی

تو وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں

میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی

تو وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں

فرصت میں رہا کرتے ہیں فرصت سے زیادہ

مصروف ہیں ہم لوگ ضرورت سے زیادہ

فرصت میں رہا کرتے ہیں فرصت سے زیادہ

مصروف ہیں ہم لوگ ضرورت سے زیادہ

اک خوف بے پناہ ہے آنکھوں کے آر پار

تاریکیوں میں ڈوبتا لمحہ ہے سامنے

اک خوف بے پناہ ہے آنکھوں کے آر پار

تاریکیوں میں ڈوبتا لمحہ ہے سامنے

سفر سفر مرے قدموں سے جگمگایا ہوا

طرف طرف ہے مری خاک جستجو روشن

سفر سفر مرے قدموں سے جگمگایا ہوا

طرف طرف ہے مری خاک جستجو روشن

ہماری سادہ مزاجی پہ رشک کرتے ہیں

وہ سادہ پوش جو بے انتہا رنگیلے ہیں

ہماری سادہ مزاجی پہ رشک کرتے ہیں

وہ سادہ پوش جو بے انتہا رنگیلے ہیں

سامنے آنکھوں کے پھر یخ بستہ منظر آئے گا

دھوپ جم جائے گی آنگن میں دسمبر آئے گا

سامنے آنکھوں کے پھر یخ بستہ منظر آئے گا

دھوپ جم جائے گی آنگن میں دسمبر آئے گا

سب کے ہونٹوں پہ منور ہیں ہمارے قصے

اور ہم اپنی کہانی بھی نہیں جانتے ہیں

سب کے ہونٹوں پہ منور ہیں ہمارے قصے

اور ہم اپنی کہانی بھی نہیں جانتے ہیں

ہر ایک داستاں تجھ سے شروع ہوتی ہے

ہر ایک قصہ ترے نام پر تمام ہوا

ہر ایک داستاں تجھ سے شروع ہوتی ہے

ہر ایک قصہ ترے نام پر تمام ہوا

کسی کے واسطے جیتا ہے اب نہ مرتا ہے

ہر آدمی یہاں اپنا طواف کرتا ہے

کسی کے واسطے جیتا ہے اب نہ مرتا ہے

ہر آدمی یہاں اپنا طواف کرتا ہے

یہ اور بات کہ اخترؔ حویلیاں نہ رہیں

کھنڈر میں کم تو نہیں اپنی آبرو روشن

یہ اور بات کہ اخترؔ حویلیاں نہ رہیں

کھنڈر میں کم تو نہیں اپنی آبرو روشن

پھر بھی ہم لوگ وہاں جیتے ہیں جینے کی طرح

موسم قہر جہاں ٹھہرا ہوا رہتا ہے

پھر بھی ہم لوگ وہاں جیتے ہیں جینے کی طرح

موسم قہر جہاں ٹھہرا ہوا رہتا ہے

Recitation

بولیے