aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".abe"
ابن انشا
1927 - 1978
شاعر
مخدومؔ محی الدین
1908 - 1969
آل احمد سرور
1911 - 2002
مصنف
آل رضا رضا
1896 - 1978
فضا ابن فیضی
1923 - 2009
ابن صفی
1928 - 1980
پروین ام مشتاق
born.1866
شیخ سعدی شیرازی
1210 - 1292
عبد الغفور نساخ
1814 - 1889
عمیر منظر
born.1974
قدرعریضی
آلِ عمر
born.1995
امام محمد غزالی
1058 - 1111
ابوبکر عباد
born.1968
ابن مفتی
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کشدم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگی
للٰلہ حباب آب رواں پر نقش بقا تحریر نہ کرمایوسی کے رمتے بادل پر امید کے گھر تعمیر نہ کر
اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہومیں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو
شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاسآب سادہ کو حریف رنگ بادہ کر لیا
سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہے
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
ہجر محبّت کے سفر میں وہ مرحلہ ہے , جہاں درد ایک سمندر سا محسوس ہوتا ہے .. ایک شاعر اس درد کو اور زیادہ محسوس کرتا ہے اور درد جب حد سے گزر جاتا ہے تو وہ کسی تخلیق کو انجام دیتا ہے . یہاں پر دی ہوئی پانچ نظمیں اسی درد کا سایہ ہے
ayeaye
ہَمیشَہ
apeape
بَنْدَر
अपेاَپے
آپ، خود
'अब्बعَبّ
آب گم
مشتاق احمد یوسفی
نثر
آب رواں
ظفر اقبال
غزل
آب حیات
محمد حسین آزاد
تاریخ
آب گم
آب حیات کا تنقیدی اور تحقیقی مطالعہ
سید سجاد
تذکرہ
تحقیق
آب حیات کے لطیفے
حسین علوی
لطیفے
محمد حسین آزاد کی تنقید نگاری
محمد خالد اقبال صدیقی
تنقید
شمارہ نمبر۔001
پنڈت کرشن کنور دت
Mar 1939آب حیات
آب حیات
عمیرہ احمد
ناول
آب روان کبیر
مشرف عالم ذوقی
افسانہ تنقید
منشی کامتا پرساد ناداں
مطبوعات منشی نول کشور
شمارہ نمبر۔002
Apr 1939آب حیات
ہے ناز حسن سے جو فروزاں جبین یارلبریز آب نور ہے چاہ ذقن تمام
آب محیط عشق کا بحر عجیب بحر ہےتیرے تو غرق ہو گئے ڈوبے تو پار کر گئے
یہاں تو جو بھی ہے آب رواں کا عاشق ہےکسی نے خشک ندی کی طرف نہیں دیکھا
ہے آب نہر صورت آئینہ جلوہ گرتاباں ہے مثل چشمۂ خورشید ہر بھنور
دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہارہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا
تھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوار
آب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
حسن تھا تیرا بہت عالم فریبخط کے آنے پر بھی اک عالم رہا
اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سےیہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے
گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہگہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books