aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aastaana"
عامر عثمانی
1920 - 1975
شاعر
منصور عثمانی
born.1954
سعود عثمانی
born.1958
اریب عثمانی
born.2003
مفتی محمد تقی عثمانی
مصنف
ذیشان الحسن عثمانی
born.1978
ڈاکٹر انجنا سنگھ سینگر
born.1974
کلیم عثمانی
1928 - 2000
علیم عثمانی
1931 - 2012
انجنا سندھیر
born.1960
طارق عثمانی
born.1990
نور شمع نور
گوہر عثمانی
1924 - 2004
قمر عثمانی
زیب عثمانیہ
born.1913
کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوںآستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا
فرازؔ در خور سجدہ ہر آستانہ نہیںہم اپنے دل کے حوالے سے در کو دیکھتے ہیں
زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاکبام بلند یار کا ہے آستانہ کیا
غافل نہ ہو خودی سے کر اپنی پاسبانیشاید کسی حرم کا تو بھی ہے آستانہ
میں اپنی خاک میں رکھتا ہوں جس کو صدیوں سےیہ روشنی بھی کبھی میرا آستانہ تھا
شاعری میں اظہار اپنی بیشتر صورتوں میں عشق کا اظہار ہے ۔ اظہار اور اس کے متعلقات کو موضوع بنانے والی شاعری اس لئے زیادہ دلچسپ ہے کہ وہ اظہار سے پہلے کی کشمکش کو موضوع بناتی ہے ۔ یہ کشمکش کبھی اظہار میں تبدیل ہو جاتی ہے اور کبھی اور زیادہ گہری ہو کر عاشق کیلئے ایک نیا روگ بن جاتی ہے ۔ ان لمحوں کو ہم سب نے جیا ہے اس لئے یہ شاعری بھی ہم سب کی ہے ۔ ہمارا یہ چھوٹا سا انتخاب حاضر ہے ۔
आस्तानाآسْتانَہ
فارسی
چوکھٹ، دیوڑھی، دروازہ، دہلیز
आस्ताँآستاں
(جزو اول سے مل كر) جس كا آستاں جزو اول كے مفہوم كے مساوی ہے، یا كسی صفت میں اس كی مثل ہے، جس كا مكان وہ ہے جو جزو اول میں بیان ہوا
आसमानाآسمانہ
छत
उकटानाاُکْٹانا
اَکٹنا (رک) سے متعدی المتعدی .
آستانہ کی حور
صادق حسین سردھنوی
تاریخی
شمارہ نمبر۔000
محمد مستحسن فاروقی
Apr 1957آستانہ، دہلی
شمارہ نمبر-000
آستانہ، دہلی
May 1955آستانہ، دہلی
شمارہ نمبر-008
سید الطاف علی بریلوی
Aug 1886آستانہ حکمت
شمارہ نمبر-004
Apr 1886آستانہ حکمت
001
Jan 1885آستانہ حکمت
شمارہ نمبر- 000
بیگم ریحانہ فاروقی
Dec 1981آستانہ، دہلی
اپریل
جولائی
اگست
سید زاہد رضوی
جون
004
Apr 2012آستانہ، دہلی
فہرست کتابخانہ آستانہ قدس رضوی
اشاریہ
کیسی مسجد کہاں کا بت خانہہر جگہ اس کا آستانہ ہے
چھوڑ دوں کیوں کر در پیر مغاںکوئی ایسا آستانا اور ہے
کسے نصیب ہو سجدہ یہ اور بات ہے کیفؔہر اک جبیں کے قریب ان کا آستانہ ہے
دل کار گاہ فکر و اسدؔ بے نوائے دلیاں سنگ آستانۂ بیدلؔ ہے آئنہ
بہت بچ کے نکلے مگر کیا خبر تھیادھر بھی ترا آستانہ پڑے گا
تمہارا آستانہ چھوڑ کر آخر کہاں جاؤںدیا ہے درد دل تم نے وہ دل سے کم نہیں ہوتا
سر نیاز کو تیرا ہی آستانہ ہواشراب خانہ ہوا یا قمار خانہ ہوا
کیا درباں نے سنگ آستانہدر دولت سرا ہے اور میں ہوں
میں اس دیار میں بھیجا گیا ہوں سر دے کرقدم قدم پہ جہاں آستانہ پڑتا ہے
ہم سے کیونکر وہ آستانہ چھٹےمدتوں جس پہ جبہ سائی کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books