aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "o-saKHii"
ابن صفی
1928 - 1980
مصنف
حمید اے صفی
ناشر
سخی سلطان باھو
ساقی ارباب ذوق
عطیہ کار
اے سخیؔ خوب غزل تو نے کہیسن کے طبع شعرا لوٹ گئی
اے سخیؔ پھرتی ہے کس خال کی شکلسامنے آنکھ کے بچھو کی طرح
پھر گئی دور سے دکھا کے جھلکہجر میں اے سخیؔ قضا ہے شوخ
ہو سکے گا نہ وصف سیب ذقناے سخیؔ ہے یہ بے حساب لذیذ
یار سے ہو بھلا رقیبوں کااے سخیؔ بس یہی برائی ہے
آج کے شراب پینے والے ساقی کو کیا جانیں ، انہیں کیا پتا ساقی کے دم سے میخانے کی رونق کیسی ہوتی تھی اور کیوں مے خواروں کے لئے ساقی کی آنکھیں شراب سے بھرے ہوئے جاموں سے زیادہ لذت انگیزیز اور نشہ آور ہوتی تھیں ۔ اب تو ساقی بار کے بیرے میں تبدیل ہوگیا ہے ۔مگر کلاسیکی شاعری میں ساقی کا ایک وسیع پس منظر ہوتا تھا۔ ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو ساقی کے دلچسپ کردار سے متعارف کرائے گا ۔
दिल-ए-सख़्त دِلِ سَخْت
سنگدل، ظالم، بے جس، بے رحم
فارسی
साफ़ी-ए-मय صافِیٔ مَے
शराब छानने का | कपड़ा, छन्ना।
عربی, فارسی
साक़ी-ए-शब ساقِیٔ شَب
(تصوُّف) پیر و مُرشد (مصباح التعرف ، ۱۴۰)
साक़ी-ए-मौत ساقِیٔ مَوت
موت، مرگ
دیوان سخی
سخی لکھنوی
دیوان
کلیات صفی اورنگ آبادی
محبوب علی خاں اخگر
افکار صفی اورنگ آبادی
محمد فیصل
طنز و مزاح
ابن صفی نے کہا
ابن حق
اصلاحات صفی اورنگ آبادی
انتخاب کلام صفی
سید زائر حسین کاظمی
انتخاب
شراب و ساقی
صابر جالندھری
مکاتیب صفی
صفی لکھنوی
خطوط
کلام صفی اورنگ آبادی
محمد نورالدین خاں
شاعری
بزم صفی
ممتاز حسین جونپوری
دیوان صافی
ابن صفی مشن اور ادبی کارنامہ
محمد عارف اقبال
منظومات صفی
نظم
گلزار صفی اورنگ آبادی
صفی اورنگ آبادی
اے سخیؔ یار نے دکھائی کمرشب جو پوچھا عدم کے کیا معنی
جس کو کہتے ہیں لوگ شہر کڑااے سخیؔ ہے وہی وطن اپنا
اے سخیؔ آج تو کچھ خیر نہیںوہ کمر ہو کے خفا باندھتے ہیں
نقد دل دیتا ہوں تو کہتے ہیںواہ ایسا سخیؔ ہے تو کب کا
ہمراہ ہو پرورش علی بھییاں سے جو کربلا سخیؔ جائے
کیا آئی ہے کچھ خبر سخیؔ کیگھر گھر ہے ملال آج کیسا
چشم تر رونے پر ہے آمادہاور سوکھی سنائیے صاحب
آیا جو سخیؔ مۂ محرمہم بزم میں اشک بار آئے
دم یار تا نزع بھر لیجئےسخیؔ زندگی تک تو مر لیجئے
دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہےمرحبا پرورش علی ہی تو ہے
بولا وہ گل جو سنی آہ سخیؔایسی آواز عنادل تو نہیں
نقد دل عشق میں دیتے ہیں سخیؔاے سخاوت اسے کیا کہتے ہیں
ہے قدر سخن سخیؔ کو حاصلیاں کے ہر پیر اور جواں سے
باغ میں جھولا ڈال کے جھولے سکھی سہیلی سنگجب پردیسی کی یاد آئے ہو منوا بے چین
آج آؤ سکھی بتا ہی دوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books