ساقی پر شاعری

آج کے شراب پینے والے ساقی کو کیا جانیں ، انہیں کیا پتا ساقی کے دم سے میخانے کی رونق کیسی ہوتی تھی اور کیوں مے خواروں کے لئے ساقی کی آنکھیں شراب سے بھرے ہوئے جاموں سے زیادہ لذت انگیزیز اور نشہ آور ہوتی تھیں ۔ اب تو ساقی بار کے بیرے میں تبدیل ہوگیا ہے ۔مگر کلاسیکی شاعری میں ساقی کا ایک وسیع پس منظر ہوتا تھا۔ ہمارا یہ شعری انتخاب آپ کو ساقی کے دلچسپ کردار سے متعارف کرائے گا ۔

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی

ساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں

نامعلوم

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی

جلیل مانک پوری

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے

سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

عبد الحمید عدم

آنکھیں ساقی کی جب سے دیکھی ہیں

ہم سے دو گھونٹ پی نہیں جاتی

جلیل مانک پوری

ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھنا

کمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں

عبد الحمید عدم

تیز ہے آج درد دل ساقی

تلخیٔ مے کو تیز تر کر دے

فیض احمد فیض

آتا ہے جی میں ساقئ مہ وش پہ بار بار

لب چوم لوں ترا لب پیمانہ چھوڑ کر

جلیل مانک پوری

اذاں ہو رہی ہے پلا جلد ساقی

عبادت کریں آج مخمور ہو کر

نامعلوم

ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی

ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے

انور مرزاپوری

زبان ہوش سے یہ کفر سرزد ہو نہیں سکتا

میں کیسے بن پئے لے لوں خدا کا نام اے ساقی

عبد الحمید عدم

فریب ساقئ محفل نہ پوچھئے مجروحؔ

شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

مجروح سلطانپوری

کوئی سمجھائے کہ کیا رنگ ہے میخانے کا

آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

اقبال صفی پوری

شراب بند ہو ساقی کے بس کی بات نہیں

تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں

اسد ملتانی

روح کس مست کی پیاسی گئی مے خانے سے

مے اڑی جاتی ہے ساقی ترے پیمانے سے

داغؔ دہلوی

اثر نہ پوچھیے ساقی کی مست آنکھوں کا

یہ دیکھیے کہ کوئی ہوشیار باقی ہے

بیتاب عظیم آبادی

یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی

اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے

علی جواد زیدی

ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر

لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

خواجہ میر درد

ساقی تجھے اک تھوڑی سی تکلیف تو ہوگی

ساغر کو ذرا تھام میں کچھ سوچ رہا ہوں

عبد الحمید عدم

واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا

یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

یگانہ چنگیزی

درد سر ہے خمار سے مجھ کو

جلد لے کر شراب آ ساقی

تاباں عبد الحی

مست کرنا ہے تو خود منہ سے لگا دے ساقی

تو پلائے گا کہاں تک مجھے پیمانے سے

جلیل مانک پوری

میں تو جب مانوں مری توبہ کے بعد

کر کے مجبور پلا دے ساقی

جگر مراد آبادی

نہ واعظ ہجو کر ایک دن دنیا سے جانا ہے

ارے منہ ساقی کوثر کو بھی آخر دکھانا ہے

امیر مینائی

کسی کی بزم کے حالات نے سمجھا دیا مجھ کو

کہ جب ساقی نہیں اپنا تو مے اپنی نہ جام اپنا

محشر عنایتی

ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کی

رندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں

فگار اناوی

یہ تھوڑی تھوڑی مے نہ دے کلائی موڑ موڑ کر

بھلا ہو تیرا ساقیا پلا دے خم نچوڑ کر

بہادر سنگھ کام بدایونی

آتی جاتی ہے جا بہ جا بدلی

ساقیا جلد آ ہوا بدلی

امام بخش ناسخ

چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے

راستا بھول نہ جاؤں کہیں میخانے کا

اقبال صفی پوری

پڑ گئی کیا نگہ مست ترے ساقی کی

لڑکھڑاتے ہوئے مے خوار چلے آتے ہیں

تعشق لکھنوی