aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pursish-e-sabab-e-ijtinaab"
مکبتۂ حسن وشباب، دہلی
ناشر
گل صبا
مصنف
ادارۂ سحاب
مینجر شباب اردو، لاہور
مکتبہ صبا، حیدرآباد
انجمن شبابِ اسلام، لکھنؤ
مرکز علمی و تحقیقی علوم اجتماعی، افغانستان
صدر عالم صاحب
منشی شان الٰہی صاحب زبیری
بزم صبا،چندوارہ مظفرپور
مدرسہ محمدی باغ دیوان صاحب، مدراس
گلستان سخن صاحب گنج، بہار
سید شاہ فرزند علی منیری
1838 - 1901
تقدیر بھی بری مری تقریر بھی بریبگڑے وہ پرسش سبب اجتناب میں
سبب درد جگر یاد آیایعنی وہ تیر نظر یاد آیا
دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہےاک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہے
نالہ مرا اگر سبب شور و شر نہ ہوپھر مر بھی جائیے تو کسو کو خبر نہ ہو
وزیر علی صبا لکھنؤی تقریباً ۱۸۵۰ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ آتش کے شاگرد تھے۔ دو سو روپیہ واجد علی شاہ کی سرکار سے اور تیس روپیہ ماہوار نواب محسن الدولہ کے یہاں سے ملتا تھا۔ افیون کے بہت شوقین تھے۔ جو شخص ان سے ملنے جاتا اس کی تواضع منجملہ دیگر تکلفات افیون سے بھی ضرور کرتے۔ ۱۳؍جون ۱۸۵۵ء کو لکھنؤ میں گھوڑے سے گرکر انتقال ہوا۔ ایک ضخیم دیوان’’غنچۂ آرزو‘‘ ان کی یادگار ہے۔
امیدوں کی ایک دھند ہے اورکچھ ایسا ہے جوصاف دکھتا بھی نہیں اورچھپتا بھی نہیں ۔ اسے کے سہارے زندگی چل رہی ہے ۔ سب کچھ ہاتھ سے چلے جانے کے بعد اگرکچھ بچتا ہے تووہ امید ہی ہے ۔ شاعری کے عاشق کے پاس بھی بس یہی ایک اثاثہ ہے ، وہ اسی کے سہارے زندہ ہے ۔ جو طویل رات وہ ہجر کے دکھوں میں گزاررہا ہے اس کی بھی اسے سحرنظرآتی ہے ۔ ہم یہ انتخاب اس لئے بھی پیش کررہے ہیں کہ یہ زندگی کے مشکل ترین وقتوں میں حوصلہ مندی کا استعارہ ہے ۔
نفسیات عنفوان شباب
سراب ساسرآبجو
ثوبان فاروقی
موج صبا
رسالہ ایصال ثواب
مولوی محمد سلیمان
رسالۂ ایصال ثواب
اسلامیات
اعادہ شباب و درازی عمر
ڈاکٹر محمد اشرف الحق
طب
گویا صاحب سیف و قلم
جعفر ملیح آبادی
سوانح حیات
تحقیق مسئلہ ایصال ثواب
محمد منظور نعمانی
قصائد سبعہ معلقات
اجماع اور باب اجتہاد
028
دانش الہ آبادی
Sep, Oct 2011سبق اردو
انتخاب صبا
کاظم علی خاں
انتخاب
کلیات صبا
کلیات
سراب مغرب
راشدالخیری
035
Jul, Aug 2013سبق اردو
سبب ترک ملاقات کوئی ہے تو سہینہ سہی بات مگر بات کوئی ہے تو سہی
کوئی شکوہ تو زیر لب ہوگاکچھ خموشی کا بھی سبب ہوگا
میرے کریم تری رحمتوں کے صدقے میںگناہ گار امید ثواب رکھتے ہیں
خرد نے لاکھ سر و برگ اجتناب کیاتری نگہ کو مرے دل نے کامیاب کیا
ہے تنگ دستیوں کے سبب ضعف اس قدرسب کی ہیں آنکھیں نرگس بیمار آج کل
کیا سبب کیا وجہ کیوں آ کر نکل جائے شکارکیوں نشانہ پر نہ جائے گا ہمارا تیر عشق
سرخی کے سبب خوب کھلا ہے گل لالہعارض میں لبوں میں کف دست و کف پا میں
نشتر مژگاں کی تیزی کے سببایک کانٹا ہے دل پر خار میں
بہار وقت کا ہر اک چلن شکستہ ہےیہی سبب ہے چمن کا بدن شکستہ ہے
منکشف جب سبب پرسش اعمال ہواحشر کو جلوہ گہہ وعدۂ فردا دیکھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books