aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "plate"
ہمارا ملبہ ہمارے قدموں میں آ گرا ہےپلیٹ میں جیسے موم بتی پگھل گئی ہو
اک نقرئی کھنک کے سوا کیا ملا شکیبؔٹکڑے یہ مجھ سے کہتے ہیں ٹوٹی پلیٹ کے
مری پلیٹ میں خلقت کی بھوک ناچتی ہےاسی لیے مجھے کھایا ہوا نہیں لگتا
دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگایہی قسمت ہماری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہےجو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں
اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیںکہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالےرکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
سامان کچھ نہیں ہے پھٹے حال ہے مگرجھولے میں اس کے پاس کوئی سنویدھان ہے
آپ کا مہمان ہوں میں آپ میرے میزبانسو مجھے زہر مروت تو پلاتے جائیے
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعد قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
اپنے ماضی کی جستجو میں بہارپیلے پتے تلاش کرتی ہے
بانٹ کے اپنا چہرہ ماتھا آنکھیں جانے کہاں گئیپھٹے پرانے اک البم میں چنچل لڑکی جیسی ماں
خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیںپھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں
کب پو پھٹے کب رات کٹے کون یہ جانےمت چھوڑ کے جاؤ کہ ابھی رات بہت ہے
شاعری زہر تھی کیا کریں اے وسیمؔلوگ پیتے رہے ہم پلاتے رہے
سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتیوہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی
ہم بھی دل کی بات کہاں کہہ پاتے ہیںآپ بھی کچھ کہتے کہتے رہ جاتے ہیں
آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالواب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا
ساتھ جب تم نبھا نہیں پاتےکیا ضرورت تھی دل لگانے کی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books