aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",RRa"
نہیں معلوم زریونؔ اب تمہاری عمر کیا ہوگیوہ کن خوابوں سے جانے آشنا نا آشنا ہوگیتمہارے دل کے اس دنیا سے کیسے سلسلے ہوں گےتمہیں کیسے گماں ہوں گے تمہیں کیسے گلے ہوں گےتمہاری صبح جانے کن خیالوں سے نہاتی ہوتمہاری شام جانے کن ملالوں سے نبھاتی ہونہ جانے کون دوشیزہ تمہاری زندگی ہوگینہ جانے اس کی کیا بایستگی شائستگی ہوگیاسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہو گےنہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگییہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہےیہ صنف نثر ہم نابالغوں کے فن کا حصہ ہےوہ ہنستی ہو تو شاید تم نہ رہ پاتے ہو حالوں میںگڑھا ننھا سا پڑ جاتا ہو شاید اس کے گالوں میںگماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نارسائی ہووہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہووہ شاید مائدے کی گند بریانی نہ کھاتی ہووہ نان بے خمیر میدہ کم تر ہی چباتی ہووہ دوشیزہ بھی شاید داستانوں کی ہو دل دادہاسے معلوم ہوگا زالؔ تھا سہرابؔ کا داداتہمتن یعنی رستمؔ تھا گرامی سامؔ کا وارثگرامی سامؔ تھا صلب نر مانیؔ کا خوش زادہ(یہ میری ایک خواہش ہے جو مشکل ہے)وہ نجمؔ آفندی مرحوم کو تو جانتی ہوگیوہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگیاسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑی ہوںنہ ہوں گے خواب اس کا جو گویے اور کھلاڑی ہوں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمکبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سےتو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھناکہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاریہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاریجو کانٹے ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوںسجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہارینظر سے زمانے کی خود کو بچاناکسی اور سے دیکھو دل مت لگاناکہ میری امانت ہو تمبہت خوبصورت ہو تمہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہراہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہرااور اس پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہراگلابوں سے نازک مہکتا بدن ہےیہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہےبکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادلفرشتے بھی دیکھیں تو ہو جائیں پاگلوہ پاکیزہ مورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تمجو بن کے کلی مسکراتی ہے اکثرشب ہجر میں جو رلاتی ہے اکثرجو لمحوں ہی لمحوں میں دنیا بدل دےجو شاعر کو دے جائے پہلو غزل کےچھپانا جو چاہیں چھپائی نہ جائےبھلانا جو چاہیں بھلائی نہ جائےوہ پہلی محبت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دوکاخ امرا کے در و دیوار ہلا دوگرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقیں سےکنجشک فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دوسلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہجو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دوجس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزیاس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دوکیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردےپیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دوحق را بسجودے صنماں را بطوافےبہتر ہے چراغ حرم و دیر بجھا دومیں ناخوش و بے زار ہوں مرمر کی سلوں سےمیرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دوتہذیب نوی کار گہہ شیشہ گراں ہےآداب جنوں شاعر مشرق کو سکھا دو
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھیتبسم فشاں زندگی کی کلی تھیکہیں مہر کو تاج زر مل رہا تھاعطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھیسیہ پیرہن شام کو دے رہے تھےستاروں کو تعلیم تابندگی تھیکہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتےکہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھیفرشتے سکھاتے تھے شبنم کو روناہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھیعطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کوخودی تشنہ کام مے بے خودی تھیاٹھی اول اول گھٹا کالی کالیکوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھیزمیں کو تھا دعویٰ کہ میں آسماں ہوںمکاں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوںغرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیاراکہ نظارگی ہو سراپا نظاراملک آزماتے تھے پرواز اپنیجبینوں سے نور ازل آشکارافرشتہ تھا اک عشق تھا نام جس کاکہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارافرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کاملک کا ملک اور پارے کا پاراپئے سیر فردوس کو جا رہا تھاقضا سے ملا راہ میں وہ قضا رایہ پوچھا ترا نام کیا کام کیا ہےنہیں آنکھ کو دید تیری گواراہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہاجل ہوں مرا کام ہے آشکارااڑاتی ہوں میں رخت ہستی کے پرزےبجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارامری آنکھ میں جادوئے نیستی ہےپیام فنا ہے اسی کا اشارامگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسیوہ آتش ہے میں سامنے اس کے پاراشرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میںوہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تاراٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسووہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گواراسنی عشق نے گفتگو جب قضا کیہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکاراگری اس تبسم کی بجلی اجل پراندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارابقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہقضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
تو کہاں ہے اے کلیم ذرۂ سینائے علم!تھی تری موج نفس باد نشاط افزائے علماب کہاں وہ شوق رہ پیمائی صحرائے علمتیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم''شور لیلیٰ کو کہ باز آرائش سودا کندخاک مجنوں را غبار خاطر صحرا کند''
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
ہے کام کے وقت کام اچھااور کھیل کے وقت کھیل زیباجب کام کا وقت ہو کرو کامبھولے سے بھی کھیل کا نہ لو نامہاں کھیل کے وقت خوب کھیلوکودو پھاندو کہ ڈنڈ پیلوخوش رہنے کا ہے یہی طریقہہر بات کا سیکھیے سلیقہہمت کو نہ ہاریو خدا رامت ڈھونڈیو غیر کا سہارااپنی ہمت سے کام کرنامشکل ہو تو چاہئے نہ ڈرناجو کچھ ہو سو اپنے دم قدم سےکیا کام ہے غیر کے کرم سےمت چھوڑیو کام کو ادھورابے کار ہے جو ہوا نہ پوراہر وقت میں صرف ایک ہی کامپا سکتا ہے بہتری سے انجامجب کام میں کام اور چھیڑادونوں ہی میں پڑ گیا بکھیڑاجو وقت گزر گیا اکارتافسوس! ہوا خزانہ غارتہے کام کے وقت کام اچھااور کھیل کے وقت کھیل زیبا
میری نظروں کو خدا را دعوت کاوش نہ دےجگمگاتے موتیوں کے ہار کو جنبش نہ دے
بے جرأت رندانہ ہر عشق ہے روباہیبازو ہے قوی جس کا وہ عشق ید اللہیجو سختیٔ منزل کو سامان سفر سمجھےاے وائے تن آسانی ناپید ہے وہ راہیوحشت نہ سمجھ اس کو اے مردک میدانیکہسار کی خلوت ہے تعلیم خود آگاہیدنیا ہے روایاتی عقبیٰ ہے مناجاتیدر باز دو عالم را این است شہنشاہی
وطن کی خدمت بے لوث ہے ہر شخص پر لازمیہی وہ کام ہے جو آدمی کے کام آتا ہےلگا دی جاتی ہے حب وطن میں سر کی بازی بھیاک ایسا بھی وفور جوش میں ہنگام آتا ہےپلٹنے ہی کو ہے قسمت تمہاری اے وطن والوتمہارے واسطے یہ عرش سے پیغام آتا ہےغلامی دور ہوتی ہے تمہاری اب کوئی دم میںحکومت اور سرداری کا پھر ہنگام آتا ہےمصیبت ہے یہ بالکل عارضی اس پر نہ گھبرانابس اب آتا ہے عہد راحت و آرام آتا ہےوہی پھر بھی بزم ہوگی پھر وہی رنگینیاں ہوں گیوہی پیمانہ آتا ہے وہی پھر جام آتا ہےتم اپنی ناتوانی سے پریشاں اس قدر کیوں ہوکبھی کمزور ہونا بھی بشر کے کام آتا ہےمٹا دیتا ہے دم میں نخوت نمرود اک مچھرکبھی ایسا بھی دور گردش ایام آتا ہےخدا را اس نزاع باہمی کو ختم فرما دوذرا سوچو کہ تم پر کس قدر الزام آتا ہےکبھی چھڑتا ہے گر مذکور، قوموں کی جہالت کاتو سب سے پہلے کانوں میں تمہارا نام آتا ہےیہ نکتہ یاد رکھو اس کو بھولا کہہ نہیں سکتےجو وقت صبح جا کر، گھر پہ وقت شام آتا ہے
ہوتا نہیں دم بھر بھی سکوں اس کو گواراجس خاطر بیتاب کی فطرت ہی ہے پارامظلوم کی فریاد سے جل جائے گا عالمصد شعلہ بہ داماں ہے ان آہوں کا شراراغم دیدوں کو دے عیش و طرب اور عطا کرتاج سر سلطانیٔ تیمور گدا راگرما دے رگیں اس کی امارت کے لہو سےجس ہستیٔ بے مایہ کا غربت ہے سہاراتخریب کے بندوں کو بس اب ہو نہیں سکتیانسان کی انسان سے تفریق گواراپابند سہی دہر میں آئین جہاں کےپیران کلیسا کا ہے کیا اس میں اجاراتہذیب و تمدن ہیں امارت کے سہارےمزدور کی غربت کا نہیں کوئی سہارا
اے باد صبح گاہی دل کی کلی کھلا دےویرانہ میرے دل کا رشک چمن بنا دےاس بزم جاں فزا کا نظارہ پھر دکھا دےگلزار آرزو میں پھر تازہ گل کھلا دےیہ کارزار ہستی ہے رنج و غم کی بستیپھر یاد بزم جم میں اک جام جم پلا دےاب شام زندگی کی ظلمت ہے چھانے والیوہ صبح دل کشا کا نظارہ پھر دکھا دےپستی میں پا بہ گل ہے عمر رواں کا دریاپھر اونچی وادیوں کے منظر اسے دکھا دےوہ عہد شادمانی وہ عطر زندگانیاے دور آسمانی واپس کہیں سے لادےاے باغباں ہو تجھ کو تخت چمن مبارکمجھ کو وہ ہم نوا دے وہ میرا گھونسلہ دےکن حسرتوں سے ناظرؔ اس انجمن سے نکلےمیلا سا لگ رہا ہے جب ہم چمن سے نکلےاحوال بزم گلشن اے نامہ بر سناناوہ داستاں ہے دل کش رنگیں ہے وہ فسانہاس بزم دل کشا میں الفت کی اس فضا میںتاروں کی روشنی میں یاروں کا مل کے گاناکانوں میں رچ رہی ہے کوئل کی کوک اب تکناظرؔ کا ہے وظیفہ اس دھن میں گنگناناکالج کی سرزمیں تھی یا نقش دل نشیں تھیدل سے خیال اس کا ممکن نہیں بھلانادریا میں مل کے جیسے ہوں ندیاں ہم آغوشبیگانہ کل جو آیا وہ آج تھا یگانہبہر طواف جانا پیر مغاں کے در پراور اس کی اک نگہ سے سرمست ہو کے آنااس چشم مست میں تھی یہ طرفہ اک کرامتپھرتی وہ جس طرف کو پھرتا ادھر زمانااے وقت رفتہ آ جا پھر وہ سماں دکھا جاایسا بھی کیا تھا جانا پھر لوٹ کر نہ آنااے ناخدا بھنور سے کشتی میری بچا کریاران آشنا سے بہر خدا ملانادر فصل گل کہ گلشن نقش و نگار بندوناظرؔ خیال خود را اور بزم یار بندو
اے مرے شعر کے نقاد تجھے ہے یہ گلہکہ نہیں ہے مرے احساس میں سرمستی و کیفکہ نہیں ہے مرے انفاس میں بوئے مئے جامچمن دہر کی تقدیر کہ میں ہوں وہ گھٹاجس نے سیکھا ہی نہیں ابر بہاری کا خرامرات تاریک ہے اور میں ہوں وہ اک شمع حزیںجس کے شعلے میں نہیں صبح درخشاں کا پیاممیرے پھولوں میں صباؤں نہ بہاروں کا گزرمیری راتوں میں ستاروں نہ شراروں کا گزرمیری محفل میں نہ مطرب نہ مغنی کا سرودمیرے مے خانے میں موج مئے امید حراممیں وہ نقاش ہوں کھویا ہوا بھٹکا نقاشجس کے ہر نقش میں تخئیل کے ہر پیکر میںمسکراتی ہے بڑے ناز سے روح آلام
خدا رکھے مری بیگم غریق نکتہ چینی ہےمجسم برہمی ناواقف خندہ جبینی ہےنہ اس کی بات میں نرمی نہ لب میں انگبینی ہےبہ فیض شاعری گھر میں نہ گھی ہے اور نہ چینی ہےطبیعت اب تو ہے آمادۂ ترک غزل خوانیچہ را کاری کند عاقل کہ باز آید پشیمانی
صاحب ملک علم مالک راممالک ملک حلم مالک راممولد پاک پھالیہ کی زمیںہیر و رانجھا کی سر زمیں کے قریںشہر گجرات میں رہے ہے یہ مقیمارض لاہور میں ہوئی تعلیمنیکی و خیر و خلق میں فیاضدوستی کے بہت بڑے نباضکارواں کارگاہ حکمت کےلعل اک معدن محبت کےطلبا کے شفیق و یاور ہیںبحر تحقیق کے شناور ہیںاکمل و افضل و علیم و خطیباکرم و اعظم و شریف و نحیفصاحب فقر و بندۂ درویشدوستوں کے بڑے عقیدے کیشان کے مسلک میں بے ریائی ہےان کی رندی میں پارسائی ہےنثر میں ان کی نظم کی بو باسنظم کی انتہا کے رمز شناسکس قدر آن بان ہے ان کیبے نیازانہ شان ہے ان کیاب بھی چہرے پہ ہے شباب کا نورسربسر علم کی شراب کا نوربات کرنے میں پھول جھڑتے ہیںکبھی لڑتے نہ یہ جھگڑتے ہیںعلم کی جستجو پہ جان نثاربہر تحقیق روز و شب بیدارراہ تحقیق پہ چلے ہیں مدامچھان ڈالے عراق و مصر و شامجرمنی روس بلجیم لندنہر جگہ دیکھے علم کے معدنکارواں علم کا ہے تیز خراماور اس کے امیر مالک رامصاحب علم و صاحب اخلاقدوستی میں یہ فرد خلق میں طاقآشتی اور علم کا اک گنجان سے پہنچا نہیں کسی کو رنجرمز داں ہیں یہ فکر غالب کےہیں مصنف یہ ذکر غالب کےمحترم دوست عرش فرشی کےہیں مرتب یہ نذر عرشی کےہیں بہ ہر رنگ عالموں کے حبیبنذر ذاکر انہوں نے دی ترتیبعربی فارسی ہو یا اردوان کی باتوں میں سب کی ہے خوشبوان کی تصنیف عورت اور اسلامپائے گی دہر میں بقائے دوامخوب لکھا تلامذہ کا حالخاندان اسد کا حسن مقالگل رعنا ہے نسخۂ ارتنگیہ بھی با کیف ہے گل صد رنگبرتنا بم کہ ارمغاں بہ دہمبس غنیمت کہ قلب و جاں بدہمعلم را دادہ از نظر تمکیںرہنمائے براہ علم و یقیںذہن فرخندہ مغز تابندہباد در شہر علم پایندہرو راز حرص و آز و طمع و ہوسنیک خو نیک قلب و نیک نفسشہر نا مردمان و ہد آزادبس ہمیں مرد است خوش اطوارملک معنی کا بادشاہ ہے یہشہر انشا کا کج کلاہ ہے یہختم ہے عرش اب دعا پہ کلامیہ رہیں با مراد و شاد مدامحسن سیرت کی شمع جلتی رہےشاخ امید اور پھلتی رہےزندگی کو ملے نشاط تمامپر ہمیشہ رہے سرور کا جامنور خورشید کی طرح دمکےعلم و تحقیق کی ضیا چمکےعلم کی روشنی بڑھاتے رہیںہم کو بھی کچھ نہ کچھ سکھاتے رہیں
ان ہی سے پوچھتا ہوں میں سفر کرتے ہیں جو بس میںکہ دے دیتے ہو اپنی زندگی کیوں غیر کے بس میںیہ بس وہ ہے کہ بس ہو جائے جب موٹر تو بنتی ہےسڑک پر روٹھ جائے تو بڑی مشکل سے منتی ہےیہ اکثر بیٹھنے والوں کے دھکوں سے کھسکتی ہےکبھی کشتی میں دریا ہے کبھی دریا میں کشتی ہےسفر کرتے ہیں اس میں جب براتی اور دلہن دولہاتو بن جاتی ہے موٹر جائداد غیر منقولااور اس کے بعد اگر تاریک ہے شب دور منزل ہےتو کرتے ہیں طواف اس کا وہ مجنوں جن کی محمل ہےکلینر سے یہی کہتا ہے شوفر ہو کے بچارا''کہ کس نکشود و نکشاید بحکمت ایں معمہ را''اگر اس وقت میں سردی بھی لگ جائے تو کیا غم ہے''یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے''جو رک جائے رواں کیوں ہو جو بڑھیا ہے جواں کیوں ہو''ہوئی یہ دوست جن کی دشمن ان کا آسماں کیوں ہو''براتی کھینچتے یہ جائداد آتے ہیں شہروں میںجو رستہ چند گھڑیوں کا ہے وہ کٹتا ہے پہروں میںذرا سے ایک پنکچر سے بگڑتا ہے سنگھار اس کاہوا پر جس کی ہستی ہو بھلا کیا اعتبار اس کاغبار اور گرد کا اور تیل کی بو کا خزینہ ہےیہ موٹر کار اور ''گڈے'' کی اولاد نرینہ ہےملی گڈے سے رعنائی و زیبائی وراثت میںخر دجال سے ملتی ہے صورت میں ملاحت میںسماتے ہیں پھر اس میں ٹھس کے یوں بے لطف و آسائشنہیں رہتی ہے نالوں کے نکلنے کی بھی گنجائشبسوں کی چھت پہ لد کر دودھ کے برتن جو آتے ہیںسروں پر شیر کا باران رحمت وہ گراتے ہیںوہ ناداں ہیں جو اس بارش پہ ناک اور بھوں چڑھاتے ہیںصلے میں سخت جانی کے یہ جوئے شیر پاتے ہیںپڑا ہوگا بسوں میں آپ کو ایسوں سے بھی پالااٹھی کھجلی تو اپنے ساتھ ساتھی کو کھجا ڈالا
''تمہیں ثابت کرنا ہوگا کہ تم ہو''! اس نے مجھے جھنجوڑا''مگر میں یہ ثابت نہیں کر سکتی'' میں نے احتجاج کیااس نے مجھے مٹھی میں بھر کر زمیں پر بکھیر دیا اور خوشی سے چلایا! تم'' سبزہ ہی سبزہ ہو، رنگ ہی رنگ ہو''''ٹھہرو! ذرا سوچو! مجھے جلد خزاں کے نادیدہ ہاتھ معدوم کر دیں گے...... تم یہ ثابت نہیں کر سکو گے کہ میں ہوں''اس نے گھبرا کر مجھے پھر سمیٹ لیا اور ذرا توقف کے بعد فضا میں اچھال دیا اور پرجوش ہو کر بولا''دیکھا تم روشنی ہی روشنی ہو''''ہاں مگر تاریکی مجھے نگلنے کو بیتاب ہے! میں نے کہا تھا نا میں خود کو ثابت کرنے سے قاصر ہوں''اس نے ہراساں ہو کر مجھے مٹھی میں جکڑ لیا...... ناتمامی کے درد سے میری آنکھیں چھلک پڑیںاس نے مجھے بہنے کے لیے نشیب میں چھوڑ دیا اور مسکرایا''دیکھا تم مایہ ہی مایہ ہو''''مجھے وقت کی تیز دھوپ جلد خشک کر دے گی'' میں نے دہائی دیوہ غصے سے کانپنے لگا..... پھر مجھے سامنے رکھ کر گڑگڑایا''خود کو ثابت کرو خدا را نہیں تو میں مٹ جاؤں گا!ہماری تکمیل ضروری ہے''''ناگزیر ہے! میں نے تائید کیآؤ میں تمہیں زیب تن کر لوں! نہیں تو ہم تصدیق کے حق سے محروم ہو جائیں گے، ہم کبھی ثابت نہ ہو سکیں گے''''ہاں ہمیں اپنی تصدیق کرنی ہوگی'' اس نے مجھ میں ضم ہوتے ہوئے کہا......اور پھر ہم نے دیکھا... رنگ... روشنی... سبزہ... مایہ... حسن اور حیرت سب ہمارے بطون کی جاگیریں تھیںباہر تو صرف دھواں تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books