aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aariza"
میں مشہور ہو گیا ہوںاچانک اتنا زیادہکہ وہ لوگ مجھے برا کہنے لگے ہیںجو کبھی مجھے ملے ہی نہیںجو مجھے جانتے ہی نہیںماہرین نفسیات کہتے ہیںغیر حقیقی دنیا میں رہنے والےجذباتی لوگخود کو ہیرو سمجھ کرجاگتی آنکھوں کے خوابوں میںاپنی مرضی کے ولن تخلیق کر لیتے ہیںاس غلط فہمی کا تعلقان کے شعور سے نہیں ہوتاان کے اعمال سے نہیں ہوتاان کے شجرے سے نہیں ہوتایہ ایک ذہنی عارضہ ہےاس لیےمجھے کسی سے شکایت نہیںمریضوں سے ہمدردی ہےاور تھوڑی سی خوشی بھیکہ گالیوں سے کلی کرنے والےکچھ لوگوں کومیرا نام لے کرتسکین ملنے لگی ہےمیرا ناماسم اعظم بن گیا ہے
سراسر اتفاقی حادثہ تھااس نے خود لکھا تھادنیا بیچ آنا اتفاقی امر ہےجانا سراسر حادثاتیتو اس پر تو عدالت نے بھی کچھ حجت نہیں کیاس نے خود لکھا تھاحجت نفسیاتی عارضہ ہےسو عدالت نے بلا تفتیش اسے جانے دیاجیسے زمیں سے گھاس جاتی ہےسراسر اتفاقاًبالعموم ایسا ہی ہوتا ہےہمیشہ اتفاقاً
اے مشیں زاداب میری پیرانہ سالی کے موسم میںان داستانوں کی چادر دریدہ ہوئیوہ جنہیں میں نے اپنی جوانی کےرنگیں تخیل کی کھڈی پہ بن کرکسی نیلمیں آنکھ میںنظر کے واسطے رکھ دیایک بہ یک میرے چاروں طرفوقت کی گرد ایسی اڑیطاق نسیان پرزرد ہوتی ہوئیہر حکایت دھری کی دھری رہ گئیالغرضبھول جانے کا اک عارضہجو مری جینیاتی وراثت میں لکھا گیامثل دست عدواب مجھے زیر کرنے کو ہے
نہ جانے عاربہ کیوں آئے کیوں مستعربہ آئےمضر کے لوگ تو چھانے ہی والے تھے سو وہ چھائےمرے جد ہاشم عالی گئے غزہ میں دفنائےمیں ناقے کو پلاؤں گا مجھے واں تک وہ لے جائےلدوا للموت وابنو للحزاب سن خراباتیوہ مرد عوص کہتا ہے حقیقت ہے خرافاتییہ ظالم تیسرا پیگ اک اقانیمی بدایت ہےالوہی ہرزہ فرمائی کا سر طور لکنت ہےبھلا حورب کی جھاڑی کا وہ رمز آتشیں کیا تھامگر حورب کی جھاڑی کیا یہ کس سے کس کی نسبت ہےیہ نسبت کے بہت سے قافیے ہیں ہے گلہ اس کامگر تجھ کو تو یارا! قافیوں کی بے طرح لت ہےگماں یہ ہے کہ شاید بحر سے خارج نہیں ہوں میںذرا بھی حال کے آہنگ میں حارج نہیں ہوںتنا تن تن تنا تن تن تنا تن تن تنا تن تنتنا تن تن نہیں محنت کشوں کا تن نہ پیراہننہ پیراہن نہ پوری آدھی روٹی اب رہا سالنیہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں گالیاں کھائیںہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
گلابی لب، مسکراتے عارض، جبیں کشادہ، بلند قامتنگاہ میں بجلیوں کی جھل مل، اداؤں میں شبنمی لطافتدھڑکتا سینہ، مہکتی سانسیں، نوا میں رس، انکھڑیوں میں امرتہمہ حلاوت، ہمہ ملاحت، ہمہ ترنم، ہمہ نزاکتلچک لچک گنگنا رہی ہویہ خواب کیسا دکھا رہی ہو
وہی گیسو وہی نظریں وہی عارض وہی جسممیں جو چاہوں تو مجھے اور بھی مل سکتے ہیںوہ کنول جن کو کبھی ان کے لیے کھلنا تھاان کی نظروں سے بہت دور بھی کھل سکتے ہیں
تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکنمیری راتیں تری خوشبو سے بسی رہتی ہیںتو کہیں بھی ہو ترے پھول سے عارض کی قسمتیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رہتی ہیں
تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیرمیرے تخئیل میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہےیوں اچانک ترے عارض کا خیال آتا ہےجیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھاتری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھاتری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میںاسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھایہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشتتو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھادل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصلتو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھاترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہومیں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھااگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصلبھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہےاگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھاعیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبےانہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھاسنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نےتو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکنتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیئے اے ارض وطنجو ترے عارض بے رنگ کو گلنار کریںکتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگاکتنے آنسو ترے صحراؤں کو گل زار کریں
تو میرا ہےتیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیںتیری آنکھ کے آنسو میرےتیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میریتو میرا ہےہر وہ جھونکاجس کے لمس کواپنے جسم پہ تو نے بھی محسوس کیا ہےپہلے میرے ہاتھوں کوچھو کر گزرا تھاتیرے گھر کے دروازے پردستک دینے والاہر وہ لمحہ جس میںتجھ کو اپنی تنہائی کاشدت سے احساس ہوا تھاپہلے میرے گھر آیا تھاتو میرا ہےتیرا ماضی بھی میرا تھاآنے والی ہر ساعت بھی میری ہوگیتیرے تپتے عارض کی دوپہر ہے میریشام کی طرح گہرے گہرے یہ پلکوں سائے ہیں میرےتیرے سیاہ بالوں کی شب سے دھوپ کی صورتوہ صبحیں جو کل جاگیں گیمیری ہوں گیتو میرا ہےلیکن تیرے سپنوں میں بھی آتے ہوئے یہ ڈر لگتا ہےمجھ سے کہیں تو پوچھ نہ بیٹھےکیوں آئے ہومیرا تم سے کیا ناطہ ہے
او دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی رخ گلرنگ پہ وہجنت کے نظارے روشن ہیںکیا اب بھی رسیلی آنکھوں میںساون کے ستارے روشن ہیںاو دیس سے آنے والے بتااو دیس سے آنے والے بتاکیا اب بھی شہابی عارض پرگیسوئے سیہ بل کھاتے ہیںیا بحر شفق کی موجوں پردو ناگ پڑے لہراتے ہیںاور جن کی جھلک سے ساون کیراتوں کے سپنے آتے ہیںاو دیس سے آنے والے بتا
میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہواپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئیاپنے احساس کی تحریک پہ شرماتی ہوئیاپنے قدموں کی بھی آواز سے کتراتی ہوئیاپنی سانسوں کے مہکتے ہوئے انداز لئےاپنی خاموشی میں گہنائے ہوئے راز لئےاپنے ہونٹوں پہ اک انجام کا آغاز لئےدل کی دھڑکن کو بہت روکتی سمجھاتی ہوئیاپنی پائل کی غزل خوانی پہ جھلاتی ہوئینرم شانوں پہ جوانی کا نیا بار لئےشوخ آنکھوں میں حجابات سے انکار لئےتیز نبضوں میں ملاقات کے آثار لئےکالے بالوں سے بکھرتی ہوئی چمپا کی مہکسرخ عارض پہ دمکتے ہوئے شالوں کی چمکنیچی نظروں میں سمائی ہوئی خوددار جھجکنقرئی جسم پہ وہ چاند کی کرنوں کی پھوارچاندنی رات میں بجھتا ہوا پلکوں کا ستارفرط جذبات سے مہکی ہوئی سانسوں کی قطاردور ماضی کی بد انجام روایات لئےنیچی نظریں وہی احساس ملاقات لئےوہی ماحول وہی تاروں بھری رات لئےآج تم آئی ہو دہراتی ہوئی ماضی کومیرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہوکاش اک خواب رہے تلخ حقیقت نہ بنےیہ ملاقات بھی دیوانے کی جنت نہ بنے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار ملوماتمی ہیں دم رخصت در و دیوار ملوپھر نہ ہم ہوں گے نہ اقرار نہ انکار ملوآخری بار ملو
تو دمکتے ہوئے عارض کی شعاعیں لے کرگل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے
تمہیں کیازندگی جیسی بھی ہےتم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیںتمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میںمحبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پرآئنے چمکے تمہاری دید سےخوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سےاذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھیتمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میںسبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیںتمہیں کیاتم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنےتمہیں کیاتم نے کب سوچاکہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتیہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفرکتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیںتمہیں کیاتم نے کب سوچاکہ تنہائی کے جنگل میںسیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہےتمہیں کیاتم نے کب سوچاکہ چہروں سے اٹی دنیا میںکس کا دل اکیلا ہے
دیکھنا جذب محبت کا اثر آج کی راتمیرے شانے پہ ہے اس شوخ کا سر آج کی راتاور کیا چاہئے اب اے دل مجروح تجھےاس نے دیکھا تو بہ انداز دگر آج کی راتپھول کیا خار بھی ہیں آج گلستاں بہ کنارسنگریزے ہیں نگاہوں میں گہر آج کی راتمحو گلگشت ہے یہ کون مرے دوش بدوشکہکشاں بن گئی ہر راہ گزر آج کی راتپھوٹ نکلا در و دیوار سے سیلاب نشاطاللہ اللہ مرا کیف نظر آج کی راتشبنمستان تجلی کا فسوں کیا کہیےچاند نے پھینک دیا رخت سفر آج کی راتنور ہی نور ہے کس سمت اٹھاؤں آنکھیںحسن ہی حسن ہے تا حد نظر آج کی راتقصر گیتی میں امنڈ آیا ہے طوفان حیاتموت لرزاں ہے پس پردۂ در آج کی راتاللہ اللہ وہ پیشانیٔ سیمیں کا جمالرہ گئی جم کے ستاروں کی نظر آج کی راتعارض گرم پہ وہ رنگ شفق کی لہریںوہ مری شوخ نگاہی کا اثر آج کی راتنرگس ناز میں وہ نیند کا ہلکا سا خماروہ مرے نغمۂ شیریں کا اثر آج کی راتنغمہ و مے کا یہ طوفان طرب کیا کہیےگھر مرا بن گیا خیامؔ کا گھر آج کی راتمیری ہر سانس پہ وہ ان کی توجہ کیا خوبمیری ہر بات پہ وہ جنبش سر آج کی راتوہ تبسم ہی تبسم کا جمال پیہموہ محبت ہی محبت کی نظر آج کی راتاف وہ وارفتگئ شوق میں اک وہم لطیفکپکپائے ہوئے ہونٹوں پہ نظر آج کی راتمذہب عشق میں جائز ہے یقیناً جائزچوم لوں میں لب لعلیں بھی اگر آج کی راتاپنی رفعت پہ جو نازاں ہیں تو نازاں ہی رہیںکہہ دو انجم سے کہ دیکھیں نہ ادھر آج کی راتان کے الطاف کا اتنا ہی فسوں کافی ہےکم ہے پہلے سے بہت درد جگر آج کی رات
خوب پہچان لو اسرار ہوں میںجنس الفت کا طلب گار ہوں میںعشق ہی عشق ہے دنیا میریفتنۂ عقل سے بیزار ہوں میںخواب عشرت میں ہیں ارباب خرداور اک شاعر بیدار ہوں میںچھیڑتی ہے جسے مضراب المساز فطرت کا وہی تار ہوں میںرنگ نظارۂ قدرت مجھ سےجان رنگینئ کہسار ہوں میںنشۂ نرگس خوباں مجھ سےغازۂ عارض و رخسار ہوں میںعیب جو حافظ و خیام میں تھاہاں کچھ اس کا بھی گنہ گار ہوں میںزندگی کیا ہے گناہ آدمزندگی ہے تو گنہ گار ہوں میںرشک صد ہوش ہے مستی میریایسی مستی ہے کہ ہشیار ہوں میںلے کے نکلا ہوں گہر ہائے سخنماہ و انجم کا خریدار ہوں میںدیر و کعبہ میں مرے ہی چرچےاور رسوا سر بازار ہوں میںکفر و الحاد سے نفرت ہے مجھےاور مذہب سے بھی بیزار ہوں میںاہل دنیا کے لیے ننگ سہیرونق انجمن یار ہوں میںعین اس بے سر و سامانی میںکیا یہ کم ہے کہ گہر بار ہوں میںمیری باتوں میں مسیحائی ہےلوگ کہتے ہیں کہ بیمار ہوں میںمجھ سے برہم ہے مزاج پیریمجرم شوخئ گفتار ہوں میںحور و غلماں کا یہاں ذکر نہیںنوع انساں کا پرستار ہوں میںمحفل دہر پہ طاری ہے جموداور وارفتۂ رفتار ہوں میںاک لپکتا ہوا شعلہ ہوں میںایک چلتی ہوئی تلوار ہوں میں
وہ نوخیز نورا وہ اک بنت مریموہ مخمور آنکھیں وہ گیسوئے پر خموہ ارض کلیسا کی اک ماہ پارہوہ دیر و حرم کے لیے اک شرارہوہ فردوس مریم کا اک غنچۂ تروہ تثلیث کی دختر نیک اختروہ اک نرس تھی چارہ گر جس کو کہیےمداوائے درد جگر جس کو کہیےجوانی سے طفلی گلے مل رہی تھیہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھیوہ پر رعب تیور وہ شاداب چہرہمتاع جوانی پہ فطرت کا پہرہمری حکمرانی ہے اہل زمیں پریہ تحریر تھا صاف اس کی جبیں پرسفید اور شفاف کپڑے پہن کرمرے پاس آتی تھی اک حور بن کروہ اک آسمانی فرشتہ تھی گویاکہ انداز تھا اس میں جبریل کا ساوہ اک مرمریں حور خلد بریں کیوہ تعبیر آذر کے خواب حسیں کیوہ تسکین دل تھی سکون نظر تھینگار شفق تھی جمال نظر تھیوہ شعلہ وہ بجلی وہ جلوہ وہ پرتوسلیماں کی وہ اک کنیز سبک روکبھی اس کی شوخی میں سنجیدگی تھیکبھی اس کی سنجیدگی میں بھی شوخیگھڑی چپ گھڑی کرنے لگتی تھی باتیںسرہانے مرے کاٹ دیتی تھی راتیںعجب چیز تھی وہ عجب راز تھی وہکبھی سوز تھی وہ کبھی ساز تھی وہنقاہت کے عالم میں جب آنکھ اٹھتینظر مجھ کو آتی محبت کی دیویوہ اس وقت اک پیکر نور ہوتیتخیل کی پرواز سے دور ہوتیہنساتی تھی مجھ کو سلاتی تھی مجھ کودوا اپنے ہاتھوں سے مجھ کو پلاتیاب اچھے ہو ہر روز مژدہ سناتیسرہانے مرے ایک دن سر جھکائےوہ بیٹھی تھی تکیے پہ کہنی ٹکائےخیالات پیہم میں کھوئی ہوئی سینہ جاگی ہوئی سی نہ سوئی ہوئی سیجھپکتی ہوئی بار بار اس کی پلکیںجبیں پر شکن بے قرار اس کی پلکیںوہ آنکھوں کے ساغر چھلکتے ہوئے سےوہ عارض کے شعلے بھڑکتے ہوئے سےلبوں میں تھا لعل و گہر کا خزانہنظر عارفانہ ادا راہبانہمہک گیسوؤں سے چلی آ رہی تھیمرے ہر نفس میں بسی جا رہی تھیمجھے لیٹے لیٹے شرارت کی سوجھیجو سوجھی بھی تو کس قیامت کی سوجھیذرا بڑھ کے کچھ اور گردن جھکا لیلب لعل افشاں سے اک شے چرا لیوہ شے جس کو اب کیا کہوں کیا سمجھیےبہشت جوانی کا تحفہ سمجھیےشراب محبت کا اک جام رنگیںسبو زار فطرت کا اک جام رنگیںمیں سمجھا تھا شاید بگڑ جائے گی وہہواؤں سے لڑتی ہے لڑ جائے گی وہمیں دیکھوں گا اس کے بپھرنے کا عالمجوانی کا غصہ بکھرنے کا عالمادھر دل میں اک شور محشر بپا تھامگر اس طرف رنگ ہی دوسرا تھاہنسی اور ہنسی اس طرح کھلکھلا کرکہ شمع حیا رہ گئی جھلملا کرنہیں جانتی ہے مرا نام تک وہمگر بھیج دیتی ہے پیغام تک وہیہ پیغام آتے ہی رہتے ہیں اکثرکہ کس روز آؤ گے بیمار ہو کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books