aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aavaaraa"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروںجگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروںغیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروںاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتےکہ بخشا گیا جن کو ذوق گدائیزمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کاجہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں کیوں عشق ہے رسوا بے چاراہیں اور بھی وجہیں وحشت کی انسان کو رکھتیں دکھیاراہاں بے کل بے کل رہتا ہے ہو پیت میں جس نے جی ہاراپر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہیہ باتیں جھوٹی باتیں یہ لوگوں نے پھیلائیں ہیںتم انشاؔ جی کا نام نہ لو کیا انشاؔ جی سودائی ہیں
وقت کے اگلے شہر کے سارے باشندےسب دن سب راتیںجو تم سے ناواقف ہوں گےوہ کب میری بات سنیں گےمجھ سے کہیں گےجاؤ اپنی راہ لو راہیہم کو کتنے کام پڑے ہیںجو بیتی سو بیت گئیاب وہ باتیں کیوں دہراتے ہوکندھے پر یہ جھولی رکھےکیوں پھرتے ہو کیا پاتے ہومیں بے چارہاک بنجارہآوارہ پھرتے پھرتے جب تھک جاؤں گاتنہائی کے ٹیلے پر جا کر بیٹھوں گاپھر جیسے پہچان کے مجھ کواک بنجارہ جان کے مجھ کووقت کے اگلے شہر کے سارے ننھے منے بھولے لمحےننگے پاؤںدوڑے دوڑے بھاگے بھاگے آ جائیں گےمجھ کو گھیر کے بیٹھیں گےاور مجھ سے کہیں گےکیوں بنجارےتم تو وقت کے کتنے شہروں سے گزرے ہوان شہروں کی کوئی کہانی ہمیں سناؤان سے کہوں گاننھے لمحو!ایک تھی رانیسن کے کہانیسارے ننھے لمحےغمگیں ہو کر مجھ سے یہ پوچھیں گےتم کیوں ان کے شہر نہ آئیںلیکن ان کو بہلا لوں گاان سے کہوں گایہ مت پوچھوآنکھیں موندواور یہ سوچوتم ہوتیں تو کیسا ہوتاتم یہ کہتیںتم وہ کہتیںتم اس بات پہ حیراں ہوتیںتم اس بات پہ کتنی ہنستیںتم ہوتیں تو ایسا ہوتاتم ہوتیں تو ویسا ہوتا
دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پرکبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پرکبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میںکبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میںسحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میںکبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میںتعاقب میں کبھی گم تتلیوں کے سونی راہوں میںکبھی ننھے پرندوں کی نہفتہ خواب گاہوں میںبرہنہ پاؤں جلتی ریت یخ بستہ ہواؤں میںگریزاں بستیوں سے مدرسوں سے خانقاہوں میںکبھی ہم سن حسینوں میں بہت خوش کام و دل رفتہکبھی پیچاں بگولہ ساں کبھی جیوں چشم خوں بستہہوا میں تیرتا خوابوں میں بادل کی طرح اڑتاپرندوں کی طرح شاخوں میں چھپ کر جھولتا مڑتامجھے اک لڑکا آوارہ منش آزاد سیلانیمجھے اک لڑکا جیسے تند چشموں کا رواں پانینظر آتا ہے یوں لگتا ہے جیسے یہ بلائے جاںمرا ہم زاد ہے ہر گام پر ہر موڑ پر جولاںاسے ہم راہ پاتا ہوں یہ سائے کی طرح میراتعاقب کر رہا ہے جیسے میں مفرور ملزم ہوںیہ مجھ سے پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگاسکوت تھا پردہ دار جس کا وہ راز اب آشکار ہوگاگزر گیا اب وہ دور ساقی کہ چھپ کے پیتے تھے پینے والےبنے گا سارا جہان مے خانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگاکبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گےبرہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خارزار ہوگاسنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخرجو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگانکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھاسنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر ہوشیار ہوگاکیا مرا تذکرہ جو ساقی نے بادہ خواروں کی انجمن میںتو پیر مے خانہ سن کے کہنے لگا کہ منہ پھٹ ہے خوار ہوگادیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہےکھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگاتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گیجو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگاسفینۂ برگ گل بنا لے گا قافلہ مور ناتواں کاہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہوگاچمن میں لالہ دکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کویہ جانتا ہے کہ اس دکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہوگاجو ایک تھا اے نگاہ تو نے ہزار کر کے ہمیں دکھایایہی اگر کیفیت ہے تیری تو پھر کسے اعتبار ہوگاکہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیںتو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگاخدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارےمیں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگایہ رسم بزم فنا ہے اے دل گناہ ہے جنبش نظر بھیرہے گی کیا آبرو ہماری جو تو یہاں بے قرار ہوگامیں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے در ماندہ کارواں کوشرر فشاں ہوگی آہ میری نفس مرا شعلہ بار ہوگانہیں ہے غیر از نمود کچھ بھی جو مدعا تیری زندگی کاتو اک نفس میں جہاں سے مٹنا تجھے مثال شرار ہوگانہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کیکہیں سر راہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا
او دیس سے آنے والا ہے بتااو دیس سے آنے والے بتاکس حال میں ہیں یاران وطنآوارۂ غربت کو بھی سناکس رنگ میں ہے کنعان وطنوہ باغ وطن فردوس وطنوہ سرو وطن ریحان وطناو دیس سے آنے والے بتا
اس قدر بھی نہیں مجھے معلومکس محلے میں ہے مکاں تیراکون سی شاخ گل پہ رقصاں ہےرشک فردوس آشیاں تیراجانے کن وادیوں میں اترا ہےغیرت حسن کارواں تیراکس سے پوچھوں گا میں خبر تیریکون بتلائے گا نشاں تیراتیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںحال دل بھی نہ کہہ سکا گرچہتو رہی مدتوں قریب مرےکچھ تری عظمتوں کا ڈر بھی تھاکچھ خیالات تھے عجیب مرےآخر کار وہ گھڑی آئیبار ور ہو گئے رقیب مرےتو مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئیخیر قسمت مری نصیب مرےاب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںگو زمانہ تری محبت کاایک بھولی ہوئی کہانی ہےتیرے کوچے میں عمر بھر نہ گئےساری دنیا کی خاک چھانی ہےلذت وصل ہو کہ زخم فراقجو بھی ہو تیری مہربانی ہےکس تمنا سے تجھ کو چاہا تھاکس محبت سے ہار مانی ہےاپنی قسمت پہ ناز کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںاشک پلکوں پہ آ نہیں سکتےدل میں ہے تیری آبرو اب بھیتجھ سے روشن ہے کائنات مریتیرے جلوے ہیں چار سو اب بھیاپنے غم خانۂ تخیل میںتجھ سے ہوتی ہے گفتگو اب بھیتجھ کو ویرانۂ تصور میںدیکھ لیتا ہوں روبرو اب بھیاب بھی میں تجھ کو پیار کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںآج بھی کارزار ہستی میںتو اگر ایک بار مل جائےکسی محفل میں سامنا ہو جائےیا سر رہ گزار مل جائےاک نظر دیکھ لے محبت سےایک لمحے کا پیار مل جائےآرزوؤں کو چین آ جائےحسرتوں کو قرار مل جائےجانے کیا کیا خیال کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںآج میں ایسے مقام پر ہوں جہاںرسن و دار کی بلندی ہےمیرے اشعار کی لطافت میںتیرے کردار کی بلندی ہےتیری مجبوریوں کی عظمت ہےمیرے ایثار کی بلندی ہےسب ترے درد کی عنایت ہےسب ترے پیار کی بلندی ہےتیرے غم سے نباہ کرتا ہےجب ترے شہر سے گزرتا ہوںتجھ سے کوئی گلہ نہیں مجھ کومیں تجھے بے وفا نہیں کہتاتیرا ملنا خیال و خواب ہواپھر بھی نا آشنا نہیں کہتاوہ جو کہتا تھا مجھ کو آوارہمیں اسے بھی برا نہیں کہتاورنہ اک بے نوا محبت میںدل کے لٹنے پہ کیا نہیں کہتامیں تو مشکل سے آہ بھرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںکوئی پرسان حال ہو تو کہوںکیسی آندھی چلی ہے تیرے بعددن گزارا ہے کس طرح میں نےرات کیسے ڈھلی ہے تیرے بعدشمع امید صرصر غم میںکس بہانے جلی ہے تیرے بعدجس میں کوئی مکیں نہ رہتا ہودل وہ سونی گلی ہے تیرے بعدروز جیتا ہوں روز مرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوںلیکن اے ساکن حریم خیالیاد ہے دور کیف و کم کہ نہیںکیا کبھی تیرے دل پہ گزرا ہےمیری محرومیوں کا غم کہ نہیںمیری بربادیوں کا سن کر حالآنکھ تیری ہوئی ہے نم کہ نہیںاور اس کارزار ہستی میںپھر کبھی مل سکیں گے ہم کہ نہیںڈرتے ڈرتے سوال کرتا ہوںجب ترے شہر سے گزرتا ہوں
اتنی مدت دل آوارہ کہاں تھا کہ تجھےاپنے ہی گھر کے در و بام بھلا بیٹھے ہیںیاد یاروں نے تو کب حرف محبت رکھاغیر بھی طعنہ و دشنام بھلا بیٹھے ہیں
اور کچھ دیر میں لٹ جائے گا ہر بام پہ چاندعکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گےعرش کے دیدۂ نمناک سے باری باریسب ستارے سر خاشاک برس جائیں گےآس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میںاپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئیبے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقتاس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئیترک دنیا کا سماں ختم ملاقات کا وقتاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤ گےاس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں رہنے دوکوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دواور ملے گا بھی اس طور کہ پچھتاؤگےاس گھڑی اے دل آوارہ کہاں جاؤگے
عہد گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہوایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہووہ حسیں عہد جو شرمندہ ایفا نہ ہوااس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہوزندگی شعلہ بے باک بنا لو اپنیخود کو خاکستر خاموش بناتی کیوں ہومیں تصوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائلمیری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہوکون کہتا ہے کہ آہیں ہیں مصائب کا علاججان کو اپنی عبث روگ لگاتی کیوں ہوایک سرکش سے محبت کی تمنا رکھ کرخود کو آئین کے پھندوں میں پھنساتی کیوں ہومیں سمجھتا ہوں تقدس کو تمدن کا فریبتم رسومات کو ایمان بناتی کیوں ہوجب تمہیں مجھ سے زیادہ ہے زمانے کا خیالپھر مری یاد میں یوں اشک بہاتی کیوں ہوتم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دوورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو
دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارہاس شہر میں پھرتا ہے اک وحشی و آوارہشاعر ہے کہ عاشق ہے، جوگی ہے کہ بنجارہدروازہ کھلا رکھنا
پتھریلے کہسار کے گاتے چشموں میںگونج رہی ہے ایک عورت کی نرم ہنسیدولت طاقت اور شہرت سب کچھ بھی نہیںاس کے بدن میں چھپی ہے اس کی آزادیدنیا کے معبد کے نئے بت کچھ کر لیںسن نہیں سکتے اس کی لذت کی سسکیاس بازار میں گو ہر مال بکاؤ ہےکوئی خرید کے لائے ذرا تسکین اس کیاک سرشاری جس سے وہ ہی واقف ہےچاہے بھی تو اس کو بیچ نہیں سکتیوادی کی آوارہ ہواؤ آ جاؤآؤ اور اس کے چہرے پر بوسے دواپنے لمبے لمبے بال اڑاتی جائےہوا کی بیٹی ساتھ ہوا کے گاتی جائے
اک یہی سوز نہاں کل مرا سرمایہ ہےدوستو میں کسے یہ سوز نہاں نذر کروںکوئی قاتل سر مقتل نظر آتا ہی نہیںکس کو دل نذر کروں اور کسے جاں نذر کروںتم بھی محبوب مرے، تم بھی ہو دل دار مرےآشنا مجھ سے مگر تم بھی نہیں، تم بھی نہیںختم ہے تم پہ مسیحا نفسی، چارہ گریمحرم درد جگر تم بھی نہیں تم بھی نہیںاپنی لاش آپ اٹھانا کوئی آسان نہیںدست و بازو مرے ناکارہ ہوئے جاتے ہیںجن سے ہر دور میں چمکی ہے تمہاری دہلیزآج سجدے وہی آوارہ ہوئے جاتے ہیںدرد منزل تھی، مگر ایسی بھی کچھ دور نہ تھیلے کے پھرتی رہی رستے ہی میں وحشت مجھ کوایک زخم ایسا نہ کھایا کہ بہار آ جاتیدار تک لے کے گیا شوق شہادت مجھ کوراہ میں ٹوٹ گئے پاؤں تو معلوم ہواجز مرے اور مرا راہنما کوئی نہیںایک کے بعد خدا ایک چلا آتا تھاکہہ دیا عقل نے تنگ آ کے خدا کوئی نہیں
مجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںجس کو کوڑوں کی چھاؤں میں دنیابیچتی بھی خریدتی بھی تھیمجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںجس کو کھیتوں سے ایسے باندھا تھاجیسے میں ان کا ایک حصہ تھاکھیت بکتے تو میں بھی بکتا تھامجھ کو دیکھو کہ میں وہی تو ہوںکچھ مشینیں بنائیں جب میں نےان مشینوں کے مالکوں نے مجھےبے جھجک ان میں ایسے جھونک دیاجیسے میں کچھ نہیں ہوں ایندھن ہوںمجھ کو دیکھو کہ میں تھکا ہاراپھر رہا ہوں جگوں سے آوارہتم یہاں سے ہٹو تو آج کی راتسو رہوں میں اسی چبوترے پر
اے سر زمین پاک کے یاران نیک نامباصد خلوص شاعر آوارہ کا سلام
ایک پہاڑی کچرے کیاور اس پر پھرتےآوارہ کتوں سے بچےاپنا بچپن ڈھونڈ رہے ہیں
چیتھڑوں میں دیدنی ہے روئے غمگین شبابابر کے آوارہ ٹکڑوں میں ہو جیسے ماہتاب
سارے دن کی تھکی،ویران اور بے مصرف رات کوایک عجیب مشغلہ ہاتھ آ گیا ہےاب وہ!سارے شہر کی آوارہ پرچھائیوں کوجسم دینے کی کوشش میں مصروف ہےمجھے معلوم ہےاگر گم نام پرچھائیوں کوان کی پہچان مل گئیتو شہر کے معزز اور عبادت گزار شریف زادےہم شکل پرچھائیوں کے خوف سےپرچھائیوں میں تبدیل ہو جائیں گےاوربے مصرف دن بھر کی تھکی ہوئی رات کوایک اور مشغلہ مل جائے گا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books