aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "asl"
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
سیلف میڈ لوگوں کا المیہروشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہےزندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کوراہ سے ہٹانے میںایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میںخوشبوئیں پکڑنے میں گلستاں سجانے میںعمر کاٹ دیتے ہیںعمر کاٹ دیتے ہیںاور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیںکیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیںدرگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیںصبر کے سمندر میں کشتیاں چلاتے ہیںیہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی کاہش کاکچھ صلہ نہیں ملتامرنے والی آسوں کا خوں بہا نہیں ملتازندگی کے دامن میں جس قدر بھی خوشیاں ہیںسب ہی ہاتھ آتی ہیںسب ہی مل بھی جاتی ہیںوقت پر نہیں ملتیں وقت پر نہیں آتیںیعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہےلیکن اس طرح جیسےقرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائےاصل جو عبارت ہو پس نوشت ہو جائےفصل گل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیںان کے صحن میں سورج دیر میں نکلتے ہیں
جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سےقطع تعلق ہو کے انگلش میں غصہ کرتی ہےمیں تو ڈر جاتا ہوں لیکنکمرے کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیںوہ اک ایسی آگ ہے جس کو صرف دہکنے سے مطلب ہےوہ اک ایسا پھول ہے جس پر اپنی خوشبو بوجھ بنی ہےوہ اک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہےاس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکنپانی کون پکڑ سکتا ہےوہ رنگوں سے واقف ہےبلکہ ہر اک رنگ کے شجرے تک سے واقف ہےاس کو علم ہے کن خوابوں سے آنکھیں نیلی پڑ جاتی ہیںہم نے جن کو نفرت سے منسوب کیاوہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہےکبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پنسل لے کر ایسی سطریں کھینچتی ہےسب کچھ سیدھا ہو جاتا ہےوہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہےصرف اسی کے ہاتھوں سے دنیا ترتیب میں آ سکتی ہےہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ ہےلیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہےہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیںہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہےمیری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تومحسوس نہیں ہونے دیتیلیکن اپنے ہونے سے اکتا جاتی ہےاس کو وقت کی پابندی سے کیا مطلب ہےوہ تو بند گھڑی بھی ہاتھ میں باندھ کے کالج آ جاتی ہے
اے سپہر بریں کے سیارواے فضائے زمیں کے گل زارواے پہاڑوں کی دل فریب فضااے لب جو کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوااے عنادل کے نغمۂ سحریاے شب ماہتاب تاروں بھریاے نسیم بہار کے جھونکودہر ناپائیدار کے دھوکوتم ہر اک حال میں ہو یوں تو عزیزتھے وطن میں مگر کچھ اور ہی چیزجب وطن میں ہمارا تھا رمناتم سے دل باغ باغ تھا اپناتم مری دل لگی کے ساماں تھےتم مرے درد دل کے درماں تھےتم سے کٹتا تھا رنج تنہائیتم سے پاتا تھا دل شکیبائیآن اک اک تمہاری بھاتی تھیجو ادا تھی وہ جی لبھاتی تھیکرتے تھے جب تم اپنی غم خواریدھوئی جاتی تھیں کلفتیں ساریجب ہوا کھانے باغ جاتے تھےہو کے خوش حال گھر میں آتے تھےبیٹھ جاتے تھے جب کبھی لب آبدھو کے اٹھتے تھے دل کے داغ شتابکوہ و صحرا و آسمان و زمیںسب مری دل لگی کی شکلیں تھیںپر چھٹا جس سے اپنا ملک و دیارجی ہوا تم سے خود بہ خود بیزارنہ گلوں کی ادا خوش آتی ہےنہ صدا بلبلوں کی بھاتی ہےسیر گلشن ہے جی کا اک جنجالشب مہتاب جان کو ہے وبالکوہ و صحرا سے تا لب دریاجس طرف جائیں جی نہیں لگتاکیا ہوئے وہ دن اور وہ راتیںتم میں اگلی سی اب نہیں باتیںہم ہی غربت میں ہو گئے کچھ اوریا تمہارے بدل گئے کچھ طورگو وہی ہم ہیں اور وہی دنیاپر نہیں ہم کو لطف دنیا کااے وطن اے مرے بہشت بریںکیا ہوئے تیرے آسمان و زمیںرات اور دن کا وہ سماں نہ رہاوہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہاتیری دوری ہے مورد آلامتیرے چھٹنے سے چھٹ گیا آرامکاٹے کھاتا ہے باغ بن تیرےگل ہیں نظروں میں داغ بن تیرےمٹ گیا نقش کامرانی کاتجھ سے تھا لطف زندگانی کاجو کہ رہتے ہیں تجھ سے دور سداان کو کیا ہوگا زندگی کا مزاہو گیا یاں تو دو ہی دن میں یہ حالتجھ بن ایک ایک پل ہے اک اک سالسچ بتا تو سبھی کو بھاتا ہےیا کہ مجھ سے ہی تیرا ناتا ہےمیں ہی کرتا ہوں تجھ پہ جان نثاریا کہ دنیا ہے تیری عاشق زارکیا زمانے کو تو عزیز نہیںاے وطن تو تو ایسی چیز نہیںجن و انسان کی حیات ہے تومرغ و ماہی کی کائنات ہے توہے نباتات کا نمو تجھ سےروکھ تجھ بن ہرے نہیں ہوتےسب کو ہوتا ہے تجھ سے نشو و نماسب کو بھاتی ہے تیری آب و ہواتیری اک مشت خاک کے بدلےلوں نہ ہرگز اگر بہشت ملےجان جب تک نہ ہو بدن سے جداکوئی دشمن نہ ہو وطن سے ہوا
دھوپ میں تیزی نہیںایسے آتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا جیسےدست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کااور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہےجیسے میں نیند میں ہوںعورتیں چرخے لیے بیٹھی ہیںکچھ کپاس اوٹتی ہیںکچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوںجیسے یہ کام ہے دراصل ہر اک شے کی اساسایک سے ایک چہل کرتی ہےکوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکھاری مری ساسکوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راسرات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کربات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کرلذت وصل ہے آزار، کوئی کہتی ہےمیں تو بن جاتی ہوں بیمار، کوئی کہتی ہےمیں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھوسب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کو
اے مری امید میری جاں نوازاے مری دل سوز میری کارسازمیری سپر اور مرے دل کی پناہدرد و مصیبت میں مری تکیہ گاہعیش میں اور رنج میں میری شفیقکوہ میں اور دشت میں میری رفیقکاٹنے والی غم ایام کیتھامنے والی دل ناکام کیدل پہ پڑا آن کے جب کوئی دکھتیرے دلاسے سے ملا ہم کو سکھتو نے نہ چھوڑا کبھی غربت میں ساتھتو نے اٹھایا نہ کبھی سر سے ہاتھجی کو ہو کبھی اگر عسرت کا رنجکھول دیے تو نے قناعت کے گنجتجھ سے ہے محتاج کا دل بے ہراستجھ سے ہے بیمار کو جینے کی آسخاطر رنجور کا درماں ہے توعاشق مہجور کا ایماں ہے تونوح کی کشتی کا سہارا تھی توچاہ میں یوسف کی دل آرا تھی تورام کے ہمراہ چڑھی رن میں توپانڈو کے بھی ساتھ پھری بن میں توتو نے سدا قیس کا بہلایا دلتھام لیا جب کبھی گھبرایا دلہو گیا فرہاد کا قصہ تمامپر ترے فقروں پہ رہا خوش مدامتو نے ہی رانجھے کی یہ بندھوائی آسہیر تھی فرقت میں بھی گویا کہ پاسہوتی ہے تو پشت پہ ہمت کی جبمشکلیں آساں نظر آتی ہیں سبہاتھ میں جب آ کے لیا تو نے ہاتسات سمندر سے گزرنا ہے باتساتھ ملا جس کو ترا دو قدمکہتا ہے وہ یہ ہے عرب اور عجمگھوڑے کی لی اپنے جہاں تو نے باگسامنے ہے تیرے گیا اور پراگعزم کو جب دیتی ہے تو میل جستگنبد گردوں نظر آتا ہے پستتو نے دیا آ کے ابھارا جہاںسمجھے کہ مٹھی میں ہے سارا جہاںذرے کو خورشید میں دے کھپابندے کو اللہ سے دے تو ملادونوں جہاں کی ہے بندھی تجھ سے لڑدین کی تو اصل ہے دنیا کی جڑنیکیوں کی تجھ سے ہے قائم اساستو نہ ہو تو جائیں نہ نیکی کے پاسدین کی تجھ بن کہیں پرسش نہ ہوتو نہ ہو تو حق کی پرستش نہ ہوخشک تھا بن تیرے درخت عملتو نے لگائے ہیں یہ سب پھول پھلدل کو لبھاتی ہے کبھی بن کے حورگاہ دکھاتی ہے شراب طہورنام ہے سدرہ کبھی طوبیٰ تراروز نرالا ہے تماشا تراکوثر و تسنیم ہے یا سلسبیلجلوے ہیں سب تیرے یہ بے قال و قیلروپ ہیں ہر پنتھ میں تیرے الگہے کہیں فردوس کہیں ہے سورگچھوٹ گئے سارے قریب اور بعیدایک نہ چھوٹی تو نہ چھوٹی امیدتیرے ہی دم سے کٹے جو دن تھے سختتیرے ہی صدقے سے ملا تاج و تختخاکیوں کی تجھ سے ہے ہمت بلندتو نہ ہو تو کام ہوں دنیا کے بندتجھ سے ہی آباد ہے کون و مکاںتو نہ ہو تو ہے بھی برہم جہاںکوئی پڑتا پھرتا ہے بہر معاشہے کوئی اکسیر کو کرتا تلاشاک تمنا میں ہے اولاد کیایک کو دل دار کی ہے لو لگیایک کو ہے دھن جو کچھ ہاتھ آئےدھوم سے اولاد کی شادی رچائےایک کو کچھ آج اگر مل گیاکل کی ہے یہ فکر کہ کھائیں گے کیاقوم کی بہبود کا بھوکا ہے ایکجن میں ہو ان کے لیے انجام نیکایک کو ہے تشنگیٔ قرب حقجس نے کیا دل سے جگر تک ہے شقجو ہے غرض اس کی نئی جستجولاکھ اگر دل ہیں تو لاکھ آرزوتجھ سے ہیں دل سب کے مگر باغ باغگل کوئی ہونے نہیں پاتا چراغسب یہ سمجھتے ہیں کہ پائی مرادکہتی ہے جب تو کہ اب آئی مرادوعدہ ترا راست ہو یا ہو دروغتو نے دیے ہیں اسے کیا کیا فروغوعدے وفا کرتی ہے گو چند تورکھتی ہے ہر ایک کو خورسند توبھاتی ہے سب کو تری لیت و لعلتو نے کہاں سیکھی ہے یہ آج کلتلخ کو تو چاہے تو شیریں کرےبزم عزا کو طرب آگیں کرےآنے نہ دے رنج کو مفلس کے پاسرکھے غنی اس کو رہے جس کے پاسیاس کا پاتی ہے جو تو کچھ لگاؤسیکڑوں کرتی ہے اتار اور چڑھاؤآنے نہیں دیتی دلوں پر ہراسٹوٹنے دیتی نہیں طالب کی آسجن کو میسر نہ ہو کملی پھٹیخوش ہیں توقع پہ وہ زر بفت کیچٹنی سے روٹی کا ہے جن کی بناؤبیٹھے پکاتے ہیں خیالی پلاؤپاؤں میں جوتی نہیں پر ہے یہ ذوقگھوڑا جو سبزہ ہو تو نیلا ہو طوقفیض کے کھولے ہیں جہاں تو نے بابدیکھتے ہیں جھونپڑے محلوں کے خوابتیرے کرشمے ہیں غضب دل فریبدل میں نہیں چھوڑتے صبر و شکیبتجھ سے مہوس نے جو شوریٰ لیاپھونک دیا کان میں کیا جانے کیادل سے بھلایا زن و فرزند کولگ گیا گھن نخل برومند کوکھانے سے پینے سے ہوا سرد جیایسی کچھ اکسیر کی ہے لو لگیدین کی ہے فکر نہ دنیا سے کامدھن ہے یہی رات دن اور صبح شامدھونکنی ہے بیٹھ کے جب دھونکناشہہ کو سمجھتا ہے اک ادنیٰ گداپیسے کو جب تاؤ پہ دیتا ہے تاؤپوچھتا یاروں سے ہے سونے کا بھاؤکہتا ہے جب ہنستے ہیں سب دیکھ کررہ گئی اک آنچ کی باقی کسرہے اسی دھند میں وہ آسودہ حالتو نے دیا عقل پہ پردہ سا ڈالتول کر گر دیکھیے اس کی خوشیکوئی خوشی اس کو نہ پہنچے کبھیپھرتے ہیں محتاج کئی تیرہ بختجن کے پیروں میں تھا کبھی تاج و تختآج جو برتن ہیں تو کل گھر کروملتی ہے مشکل سے انہیں نان جوتیرے سوا خاک نہیں ان کے پاسساری خدائی میں ہے لے دے کے آسپھولے سماتے نہیں اس آس پرصاحب عالم انہیں کہیے اگرکھاتے ہیں اس آس پہ قسمیں عجیبجھوٹے کو ہو تخت نہ یارب نصیبہوتا ہے نومیدیوں کا جب ہجومآتی ہے حسرت کی گھٹا جھوم جھوملگتی ہے ہمت کی کمر ٹوٹنےحوصلہ کا لگتا ہے جی چھوٹنےہوتی ہے بے صبری و طاقت میں جنگعرصۂ عالم نظر آتا ہے تنگجی میں یہ آتا ہے کہ سم کھائیےپھاڑ کے یا کپڑے نکل جائیےبیٹھنے لگتا ہے دل آوے کی طرحیاس ڈراتی ہے چھلاوے کی طرحہوتا ہے شکوہ کبھی تقدیر کااڑتا ہے خاکہ کبھی تدبیر کاٹھنتی ہے گردوں سے لڑائی کبھیہوتی ہے قسمت کی ہنسائی کبھیجاتا ہے قابو سے آخر دل نکلکرتی ہے ان مشکلوں کو تو ہی حلکان میں پہنچی تری آہٹ جو ہیںرخت سفر یاس نے باندھا وہیںساتھ گئی یاس کے پژمردگیہو گئی کافور سب افسردگیتجھ میں چھپا راحت جاں کا ہے بھیدچھوڑیو حالیؔ کا نہ ساتھ اے امید
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےلطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادےکمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیںسوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادےہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسادکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دےفقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دےبتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادےنظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہےالکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودےنکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دےانہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہےاسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادےمکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادےدلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دےفریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہبمٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دےیہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
اے علی گڑھ اے جواں قسمت دبستان کہنعقل کے فانوس سے روشن ہے تیری انجمنحشر کے دن تک پھلا پھولا رہے تیرا چمنتیرے پیمانوں میں لرزاں ہے شراب علم و فنروح سر سیدؔ سے روشن تیرا مے خانہ رہےرہتی دنیا تک ترا گردش میں پیمانہ رہےایک دن ہم بھی تری آنکھوں کے بیماروں میں تھےتیری زلف خم نجم کے نو گرفتاروں میں تھےتیری جنس علم پرور کے خریداروں میں تھےجان و دل سے تیرے جلووں کے پرستاروں میں تھےموج کوثر تھا ترا سیل ادا اپنے لئےآب حیواں تھی تیری آب و ہوا اپنے لئےعلم کا پہلا سبق تو نے پڑھایا تھا ہمیںکس طرح جیتے ہیں تو نے ہی بتایا تھا ہمیںخواب سے طفلی کے تو نے ہی جگایا تھا ہمیںناز سے پروان تو نے ہی چڑھایا تھا ہمیںموسم گل کی خبر تیری زبانی آئی تھیتیرے باغوں میں ہوا کھا کر جوانی آئی تھیلیکن اے علم و جسارت کے درخشاں آفتابکچھ بہ الفاظ دگر بھی تجھ سے کرنا ہے خطابگو یہ دھڑکا ہے کہ ہوں گا مورد قہر و عتابکہہ بھی دوں جو کچھ ہے دل میں تا کجا یہ پیچ و تاببن پڑے جو سعی اپنے سے وہ کرنا چاہئےمرد کو کہنے کے موقع پہ نہ ڈرنا چاہئےاے علی گڑھ اے ہلاک تابش وضع فرنگٹیمز ہے آغوش میں تیرے بجائے موج گنگوادیٔ مغرب میں گم ہے تیرے دل کی ہر امنگولولوں میں تیرے شاید عرصۂ مشرق ہے تنگکب ہے مغرب کعبۂ حاجت روا تیرے لئےآ کہ ہے بے چین روح ایشیا تیرے لئےکشتۂ مغرب نگار شرق کے ابرو بھی دیکھساز بے رنگی کے جویا سوز رنگ و بو بھی دیکھنرگس ارزق کے شیدا دیدۂ آہو بھی دیکھاے سنہری زلف کے قیدی سیہ گیسو بھی دیکھکر چکا سیر اصل مرکز پر تو آنا چاہئےاپنے گھر کی سمت بھی آنکھیں اٹھانا چاہئےپختہ کاری سیکھ یہ آئین خامی تا کجاجادۂ افرنگ پر یوں تیز گامی تا کجاسوچ تو جی میں یہ جھوٹی نیک نامی تا کجامغربی تہذیب کا طوق غلامی تا کجامرد اگر ہے غیر کی تقلید کرنا چھوڑ دےچھوڑ دے للہ بالاقساط مرنا چھوڑ دے
بہت ہی بڑے ایک جنگل میں اک باربہت ہی بڑا ایک ہی شیر تھابہت ہی بڑی اس کی مونچھیں بھی تھیںبہت ہی بڑی پونچھ اس شیر کی
وہ جو کہلاتا تھا دیوانہ تراوہ جسے حفظ تھا افسانہ تراجس کی دیواروں پہ آویزاں تھیںتصویریں تریوہ جو دہراتا تھاتقریریں تریوہ جو خوش تھا تری خوشیوں سےترے غم سے اداسدور رہ کے جو سمجھتا تھاوہ ہے تیرے پاسوہ جسے سجدہ تجھے کرنے سےانکار نہ تھااس کو دراصل کبھی تجھ سےکوئی پیار نہ تھااس کی مشکل تھیکہ دشوار تھے اس کے رستےجن پہ بے خوف و خطرگھومتے رہزن تھےسدا اس کی انا کے در پےاس نے گھبرا کےسب اپنی انا کی دولتتیری تحویل میں رکھوا دی تھیاپنی ذلت کو وہ دنیا کی نظراور اپنی بھی نگاہوں سے چھپانے کے لئےکامیابی کو تریتری فتوحاتتری عزت کووہ ترے نام تری شہرت کواپنے ہونے کا سبب جانتا تھاہے وجود اس کا جدا تجھ سےیہ کب مانتا تھاوہ مگرپر خطر راستوں سے آج نکل آیا ہےوقت نے تیرے برابر نہ سہیکچھ نہ کچھ اپنا کرم اس پہ بھی فرمایا ہےاب اسے تیری ضرورت ہی نہیںجس کا دعویٰ تھا کبھیاب وہ عقیدت ہی نہیںتیری تحویل میں جو رکھی تھی کلاس نے اناآج وہ مانگ رہا ہے واپسبات اتنی سی ہےاے صاحب نام و شہرتجس کو کلتیرے خدا ہونے سے انکار نہ تھاوہ کبھی تیرا پرستار نہ تھا
گڑیا سی یہ لڑکیجس کی اجلی ہنسی سےمیرا آنگن دمک رہا ہےکل جب سات سمندر پار چلی جائے گیاور ساحلی شہر کے سرخ چھتوں والے گھر کے اندرپورے چاند کی روشنی بن کر بکھرے گیہم سب اس کو یاد کریں گےاور اپنے اشکوں کے سچے موتیوں سےساری عمراک ایسا سود اتارتے جائیں گےجس کا اصل بھی ہم پر قرض نہیں تھا!
اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہےجہاں سے پھول ٹوٹا تھا وہیں سےکلی سی اک نمایاں ہو رہی ہےجہاں بجلی گری تھی اب وہی شاخنئے پتے پہن کر تن گئی ہےخزاں سے رک سکا کب موسم گلیہی اصل اصول زندگی ہےاگر ہے جذبۂ تعمیر زندہکھنڈر سے کل جہاں بکھرے پڑے تھےوہیں سے آج ایواں اٹھ رہے ہیںجہاں کل زندگی مبہوت سی تھیوہیں پر آج نغمے گونجتے ہیںیہ سناٹے سے لی ہے سمت ہجرتیہی اصل اصول زندگی ہےاگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہےرہے یخ بستگی کا خوف جب تکشعاعیں برف پر لرزاں رہیں گینہ دھیرے جم نہیں پائیں گے جب تکچراغوں کی لویں رقصاں رہیں گیبشر کی اپنی ہی تقدیر سے جنگیہی اصل اصول زندگی ہےاگر ہے جذبۂ تعمیر زندہتو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے
وہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںوہ مر چکا ہےوہ مر چکا ہےکہ جس کی خاطر نگر کی نو عمر لڑکیوں نےبدن کی خوش رنگ زینتوں کوچھپا کے رکھاجنہوں نے بیتاب حدتوں کوبدن کی پھٹ پڑتی شدتوں کوسنبھالے رکھاجنہوں نے آنکھوں کے نم کو شرم و حیا کے آنچل کی اوٹ ڈھانپاوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںبدل کے وہ بھیس بادلوں کاہمارے تازہ کنوارے جسموں کی سوندھی مٹی سے آ کے لپٹےہمارا خون بوند بوندگوندھےہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ گونجے گجر کی صورتہمارے سنسان گنبدوں میںکبھی وہ بھڑکے الاؤ بن کرہمارے تا یک طاقچوں میںکبھی وہ جسموں کی بنسیوں میںشگاف ڈالےلذیذ دردیلا گیت بن کرلبوں سے نکلےکبھی وہ چمکے ستارہ بن کرہماری کوکھوں میں پھول مہکیںہماری کوکھوں میں پھل جنم لےنگر کی سب لڑکیاں پکاریںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںہماری خواہش وہ دودھ بن کرہماری زرخیز چھاتیوں کی نمی میں اترےہماری خواہش ہمارے بچےاسی کے ہاتھوں میں آنکھ کھولیںہم اس کے سائے سے حاملہ ہوںنگر کی سب لڑکیاں پکاریںکبھی وہ پچھلے پہر دریچوں پہ کھلتے مہتاب سے یہ کہتیںکہاں ہے وہ شہسوار جس کوبوقت رخصت گلے میں ہم نےسفید پھولوں کے ہار ڈالےوہ پھول کب سرخ پھول بن کرہماری ویران خواب گاہوں کی سیج ہوں گےسیندور کب کب میں میں گایہ پھول کب سرخ پھول ہوں گےکبھی وہ تنہا بر آمدے کے ستون سے لپٹیلچکتی بیلوں کے زرد پتوں سے پوچھتیں یہبہار کی رت کہاں کھڑی ہےیہ پھول اب کس سے کھلیں گےبہار کی رت ابھی کہاں ہےہر اک مسافر کو روکتیں وہبتاؤ وہ شہسوار اب کبنگر کو لوٹے گا پوچھتیں وہکنوارے لمحوں کا بھید کنوارہکنوارے گیتوں کی لے کنواریکنوارے جسموں کی کچی کلیوں کا نم کنوارہنگر کی تمام نو عمر لڑکیوں نےکلی کلی کو سنبھالے رکھاکہ وہ اگر آئے اوس بن کرتو قطرہ قطرہ کلی میں اترےکلی کو کھولےمگر وہ لفظوں کے دائروں کے سفر سے گزراپرانی سنسان سیڑھیوں کے بھنور سے نکلاجو گھر سے باہر ہزار انجانے راستوں پر بکھر گیا تھاکہ بجھتے سورج کا کھوج پائےہر ایک سائے کا بھید کھولےجو اپنی آنکھوں میں خواہشوں کا الاؤ لے کراندھیرے جنگل میں چل رہا تھاجو پوچھتا تھاگیان کیا ہےجو پوچھتا تھا نجات کس میں ہےاصل کیا ہےوہ مر چکا ہےوہ جس کے رستے پہ بال کھولےنگر کی سب لڑکیاں کھڑی ہیں
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
جہاں میں ہوںیہاں جب رات ہوتی ہےتو اس ساحل پہ سورج نور برساتا ہےجس کی ایک اک موج رواں کے ساتھمیرا دل دھڑکتا تھا دھڑکتا ہے
تم چاہتے ہو کہ میںتمہیں تمہارے لئے چاہوںکیوں بھلاکیا کبھی تم نےمجھے میرے لئے چاہانہیں نادراصلیہ چاہنے اور نہ چاہنے کیخواہش ہیبے معنی ہےبا معنی ہے توبس چاہتمیری چاہتتمہاری چاہتیا پھرکسی اور کی چاہت
(۱)گرم جوشیاب سورج سر پر آ دھمکے گاٹھنڈا لوہا چمکے گااور دھوپ جواں ہو جائے گیسٹھیائے ہوئے فرزانوں پراب زیست گراں ہو جائے گیہر اصل عیاں ہو جائے گیاب خوب ہنسے گا دیوانہ
سنیں درد مندوں کی فریاد کیا ہےغریبوں پے دراصل افتاد کیا ہے
لمحہ لمحہ روزمرہ زندگی کے ساتھ ہےایک لمحہ جو کسی ایسے جہاں کی زندگی کا ہاتھ ہےجس میں میں رہتا نہیں جس میں کوئی رہتا نہیںجس میں کوئی دن نہیں ہے رات کا پہرا نہیںجس میں سنتا ہی نہیں کوئی نہ کوئی بات ہےروزمرہ زندگی سے یوں گزرتا ہے کبھیساتھ لے جاتا ہے گزری عمر کے حصے کبھیجو بسر اب تک ہوا اس کو غلط کرتا ہوااور ہی اک زندگی سے آشنا کرتا ہواجو گماں تک میں نہ تھا اس کو دکھا جاتا ہواوہم تک جس کا نہ تھا اس وقت کو لاتا ہواپھر چلا جاتا ہے اپنے اصل کے آثار میںاور ہم مصروف ہو جاتے ہیں پھراپنے روز و شب کے کاروبار میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books