aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khaandaanii"
اس کے اس کردار پر مجھ سے نہ کرنا گفتگوخاک میں جس نے ملا دی خاندانی آبرو
بات سچ یہ ہے کہ ہم تھے جس زمانے میں جواںخاندانی قسم کی منصوبہ بندی تھی کہاںاور اشیائے ضروری بھی نہ تھیں اتنی گراںآج میں ہوں اور میری مفلسی کی داستاں''اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں''
سنو کل تمہیں ہم نے مدراس کیفے میںاوباش لوگوں کے ہم راہ دیکھاوہ سب لڑکیاں بد چلن تھیں جنہیں تمسلیقے سے کافی کے کپ دے رہے تھےبہت فحش اور مبتذل ناچ تھا وہکہ جس کے ریکارڈوں کی گھٹیا دھنوں پرتھرکتی مچلتی ہوئی لڑکیوں نےتمہیں اپنی باہوں کی جنت میں رکھابہت دکھ ہواتم نے ہوٹل میں کمرہ کرائے پہ لے کران اوباش لوگوں اور ان لڑکیوں کے ہجوم طرب میںگئی رت تک جشن صہبا منایابہت دکھ ہوا خاندانی شرافتبزرگوں کی بانکی سجیلی وجاہت کوتم نے سر عام یوں روند ڈالاسلیقہ جو ہوتا تمہیں لغزشوں کاتو اپنے بزرگوں کی مانند تم بھیگھروں میں کنیزوں سے پہلو سجاتےپئے عشرت دل حویلی میں ہر شبکبھی رقص ہوتا کبھی جام چلتےکسی ماہ رخ پر دل و جاں لٹاتےسلیقہ جو ہوتا تمہیں لغزشوں کاتو یوں خاندانی شرافت وجاہتنہ مٹی میں ملتی نہ بدنام ہوتی
وہ ہاتھ بندھے رہ گئےنماز کی ابتدائی رکعتوں میںاور نفلی عبادتیں مصلوں کے دل کش ڈیزائنوں پرانگلیاں پھیرتی رہ گئیںاور ہم جھاڑ پھونک کر ایک خاندانی تعلقاپنے بدن کے تھیلوں میںسنبھال کے رکھ چکےاس لئےتم ہمیں اپنی یاد داشت کی سیڑھیوں سےدھکا دے کرخود کو نئے سرے سے رسماً تعمیر کرو
ہو ذیابیطس جسے اس کی دوا پرہیز ہےہے رفیق زندگی یہ دکھ جو درد آمیز ہےاس کا پھر ورثے میں ملنا بھی تعجب خیز ہےخاندانی قسم کا دکھ ہے حذر انگیز ہےورنہ میٹھا خوں اگر رگ میں رواں ہو جائے گا''دوستی ناداں کی ہے، جی کا زیاں ہو جائے گا''
وجد میں ہے جہان شعر و سخنسحر ساحر کی حکمرانی ہےچشمۂ فیض شاعری اس کیاس کے ہر شعر میں روانی ہےاس کی پیری ہے ترجمان شباباس کے شعروں میں نوجوانی ہےاہل محفل ہیں جس کے شیدائیاس کا انداز خوش بیانی ہےیہ حسینی ہے برہمن ہمدماس کا ہر شعر جاودانی ہےاس کا ایماں ہے جان یکجہتیاس کی فطرت میں مہربانی ہےدل یہ ہندو کا جاں مسلماں کییہ صفت اس کی خاندانی ہےجن بزرگوں پہ تھا وطن کو نازان بزرگوں کی یہ نشانی ہےاس پہ سایہ ہے کامیابی کااس کی قسمت میں کامرانی ہےجعفریؔ شاعری میں ساحرؔ کیہر دکھی دل کی ترجمانی ہے
ہمیں کون بچائے گااگر کبھی ہماری جیبیںخالی کرانے کی کوشش کی گئیاگر کبھی ہماری انگلیوں کے درمیانپنسل رکھ کر اور انہیں دبا دبا کرکچھ پوچھنے کی ضرورت محسوس ہوتیتو ہم کیا بتائیں گےیہی کہ ہم نے کبھی چند کھوٹے سکوںچمڑے میں چھپے تعویذاور کھجور کی گٹھلیوں کے سوازمین میں کچھ نہیں دبایایا یہ کہ ہماری الماری کے خانوں میںمنسوخ شدہ پاسپورٹچند خاندانی البموںاور عقیق کی انگوٹھیوں کے سواکچھ موجود نہیں
خاندانی شناختیں مت پوچھعزتیں اور شرافتیں مت پوچھو
میں کب تکیوں ہی خاندانی شجاعت شرافت کی تاریخ رکھتا رہوں گایوں ہی اپنے اسلاف کی شان و شوکت کی باتیں کروں گامیں ماضی نہیں ہوں
تم اپنے عقیدوں کے نیزےہر دل میں اتارے جاتے ہوہم لوگ محبت والے ہیںتم خنجر کیوں لہراتے ہواس شہر میں نغمے بہنے دوبستی میں ہمیں بھی رہنے دوہم پالنہار ہیں پھولوں کےہم خوشبو کے رکھوالے ہیںتم کس کا لہو پینے آئےہم پیار سکھانے والے ہیںاس شہر میں پھر کیا دیکھو گےجب حرف یہاں مر جائے گاجب تیغ پہ لے کٹ جائے گیجب شعر سفر کر جائے گاجب قتل ہوا سر سازوں کاجب کال پڑا آوازوں کاجب شہر کھنڈر بن جائے گاپھر کس پر سنگ اٹھاؤ گےاپنے چہرے آئینوں میںجب دیکھو گے ڈر جاؤ گے
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میںیا بزم طرب آرائی میںمیرے سپنے بنتی ہوں گی بیٹھی آغوش پرائی میںاور میں سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوںجینے کی خاطر مرتا ہوںاپنے فن کو رسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوںمجبور ہوں میں مجبور ہو تم مجبور یہ دنیا ساری ہےتن کا دکھ من پر بھاری ہےاس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہےمیں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیںچاہا تو مگر اپنا نہ سکیںہم تو دو ایسی روحیں ہیں جو منزل تسکیں پا نہ سکیںجینے کو جئے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیںخاموش وفائیں جلتی ہیںسنگین حقائق زاروں میں خوابوں کی ردائیں جلتی ہیںاور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیںپھر دو دل ملنے آئے ہیںپھر موت کی آندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیںمیں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہوان کا بھی جنوں ناکام نہ ہوان کے بھی مقدر میں لکھی اک خون میں لتھڑی شام نہ ہوسورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھےچاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھےہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکامگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائےہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملیانہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائےبہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کاکہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیںبہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کاکہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیںبہت دنوں سے جوانی کے خواب ویراں ہیںبہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میںنگار زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈھتی ہےچلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سےکہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیںہمارا راز ہمارا نہیں سبھی کا ہےچلو کہ سارے زمانے کو رازداں کر لیںچلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیںکہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہےجسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئےہمیں حیات کے اس پیرہن سے نفرت ہےکہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیاتو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گیہر ایک موج ہوا رخ بدل کے جھپٹے گیہر ایک شاخ رگ سنگ ہوتی جائے گیاٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہہ دیںکہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہےہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیںہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہےکہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرےاب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گییہ کھیت جاگ پڑے اٹھ کھڑی ہوئیں فصلیںاب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گییہ سر زمین ہے گوتم کی اور نانک کیاس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھیہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لئےہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھیکہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہےتو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیںجنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سےزمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیںگذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیںگذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیںتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
کیا سخت مکاں بنواتا ہے خم تیرے تن کا ہے پولاتو اونچے کوٹ اٹھاتا ہے واں گور گڑھے نے منہ کھولاکیا رینی خندق رند بڑے کیا برج کنگورا انمولاگڑھ کوٹ رہکلہ توپ قلعہ کیا شیشہ دارو اور گولاسب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرابڑی جناب تری فیض عام ہے تیراستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائمنظام مہر کی صورت نظام ہے تیراتری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کیمسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرانہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبیبڑی ہے شان بڑا احترام ہے تیرااگر سیاہ دلم داغ لالہ زار توامدگر کشادہ جبینم گل بہار توامچمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گلہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کوچلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سےشراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کونظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوںکیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کوفلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے میںتری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کومقام ہم سفروں سے ہو اس قدر آگےکہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کومری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھےکسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کودلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثرتری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کوبنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس میں نےچمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کوپھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیںکیا جنہوں نے محبت کا راز داں مجھ کووہ شمع بارگہہ خاندان مرتضویرہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کونفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلیبنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کودعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیںکرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کووہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشقہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کوجلا کے جس کی محبت نے دفتر من و توہوائے عیش میں پالا کیا جواں مجھ کوریاض دہر میں مانند گل رہے خنداںکہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کوشگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائےیہ التجائے مسافر قبول ہو جائے
ابھی ہم خوبصورت ہیںہمارے جسم اوراق خزانی ہو گئے ہیںاور ردائے زخم سے آراستہ ہیںپھر بھی دیکھو توہماری خوش نمائی پر کوئی حرفاور کشیدہ قامتی میں خم نہیں آیاہمارے ہونٹ زہریلی رتوں سے کاسنی ہیںاور چہرے رتجگوں کی شعلگی سےآبنوسی ہو چکے ہیںاور زخمی خوابنادیدہ جزیروں کی زمیں پراس طرح بکھرے پڑے ہیںجس طرح طوفاں زدہ کشتی کے ٹکڑوں کوسمندر ساحلوں پر پھینک دیتا ہےلہو کی بارشیںیا خودکشی کی خواہشیں تھیںاس اذیت کے سفر میںکون سا موسم نہیں آیامگر آنکھوں میں نملہجے میں سمہونٹوں پہ کوئی نغمۂ ماتم نہیں آیاابھی تک دل ہمارےخندۂ طفلاں کی صورت بے کدورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںزمانے ہو گئےہم کوئے جاناں چھوڑ آئے تھےمگر اب بھیبہت سے آشنا نا آشنا ہمدماور ان کی یاد کے مانوس قاصداور ان کی چاہتوں کے ہجر نامےدور دیسوں سے ہماری اور آتے ہیںگلابی موسموں کی دھوپجب نورستہ سبزے پر قدم رکھتی ہوئیمعمورۂ تن میں در آتی ہےتو برفانی بدن میںجوئے خوں آہستگی سے گنگناتی ہےاداسی کا پرندہچپ کے جنگل میںسر شاخ نہال غم چہکتا ہےکوئی بھولا ہوا بسرا ہوا دکھآبلہ بن کر ٹپکتا ہےتو یوں لگتا ہےجیسے حرف اپنےزندہ آوازوں کی صورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیںہماری خوش نمائی حرف حق کی رونمائی ہےاسی خاطر تو ہم آشفتہ جاںعشاق کی یادوں میں رہتے ہیںکہ جو ان پر گزرتی ہے وہ کہتے ہیںہماری حرف سازیاب بھی محبوب جہاں ہےشاعری شورید گان عشق کے ورد زباں ہےاور گلابوں کی طرح شاداں چہرےلعل و مرجاں کی طرح لبصندلیں ہاتھوں سےچاہت اور عقیدت کی بیاضوں پرہمارے نام لکھتے ہیںسبھی درد آشناایثار مشربہم نفس اہل قفسجب مقتلوں کی سمت جاتے ہیںہمارے بیت گاتے ہیںابھی تک ناز کرتے ہیں سب اہل قافلہاپنے حدی خوانوں پر آشفتہ کلاموں پرابھی ہم دستخط کرتے ہیں اپنے قتل ناموں پرابھی ہم آسمانوں کی امانتاور زمینوں کی ضرورت ہیںابھی ہم خوبصورت ہیں
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
خوش نما شہروں کا بانی راز فطرت کا سراغخاندان تیغ جوہر دار کا چشم و چراغدھار پر جس کی چمن پرور شگوفوں کا نظامشام زیر ارض کو صبح درخشاں کا پیام
جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈریہاں قمقموں سے جوان تھےجہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زنیہاں جگنوؤں کے مکان تھے
سنتے ہو سامعین با تمکیںسنتے ہو حاضرین صدر نشیںجو ہیں دنیا میں قوم کے ہمدردبندۂ قوم ان کے ہیں زن و مردباپ کی ہے دعا یہ بہر پسرقوم کی میں بناؤں اس کو سپرماں خدا سے یہ مانگتی ہے مرادقوم پر سے نثار ہو اولادبھائی آپس میں کرتے ہیں پیماںتو اگر مال دے تو میں دوں جاںاہل ہمت کما کے لاتے ہیںہم وطن فائدے اٹھاتے ہیںکہیں ہوتے ہیں مدرسے جاریدخل اور خرج جن کے ہیں بھاریاور کہیں ہوتے ہیں کلب قائممبحث حکمت اور ادب قائمنت نئے کھلتے ہیں دوا خانےبنتے ہیں سیکڑوں شفا خانےملک میں جو مرض ہیں عالم گیرقوم پر ان کی فرض ہے تدبیرہیں سدا اس ادھیڑ بن میں طبیبکہ کوئی نسخہ ہاتھ آئے عجیبقوم کو پہنچے منفعت جس سےملک میں پھیلیں فائدے جس کےکھپ گئے کتنے بن کے جھاڑوں میںمر گئے سیکڑوں پہاڑوں میںلکھے جب تک جیے سفر نامےچل دیے ہاتھ میں قلم تھامےگو سفر میں اٹھائے رنج کمالکر دیا پر وطن کو اپنے نہالہیں اب ان کے گواہ حب وطندر و دیوار پیرس و لندنکام ہیں سب بشر کے ہم وطنوںتم سے بھی ہو سکے تو مرد بنوچھوڑو افسردگی کو جوش میں آؤبس بہت سوئے اٹھو ہوش میں آؤقافلے تم سے بڑھ گئے کوسوںرہے جاتے ہو سب سے پیچھے کیوںقافلوں سے اگر ملا چاہوملک اور قوم کا بھلا چاہوگر رہا چاہتے ہو عزت سےبھائیوں کو نکالو ذلت سےان کی عزت تمہاری عزت ہےان کی ذلت تمہاری ذلت ہےقوم کا مبتدل ہے جو انساںبے حقیقت ہے گرچہ ہے سلطاںقوم دنیا میں جس کی ہے ممتازہے فقیری میں بھی وہ با اعزازعزت قوم چاہتے ہو اگرجا کے پھیلاؤ ان میں علم و ہنرذات کا فخر اور نسب کا غروراٹھ گئے اب جہاں سے یہ دستوراب نہ سید کا افتخار صحیحنہ برہمن کو شدر پر ترجیحہوئی ترکی تمام خانوں میںکٹ گئی جڑ سے خاندانوں میںقوم کی عزت اب ہنر سے ہےعلم سے یا کہ سیم و زر سے ہےکوئی دن میں وہ دور آئے گابے ہنر بھیک تک نہ پائے گانہ رہیں گے سدا یہی دن راتیاد رکھنا ہماری آج کی باتگر نہیں سنتے قول حالیؔ کاپھر نہ کہنا کہ کوئی کہتا تھا
کل کی نسلیں بھی کوئی چیز ہیں ہم کچھ بھی سہیان کا ورثہ ہوں کھنڈر یہ ستم ایجاد نہ کر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books