aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "maTke"
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
مستی میں اٹھا آنکھ جدھر دیکھو اہاہاناچے ہے طوائف کہیں مٹکے ہے بھویاچلتے ہیں کہیں جام کہیں سوانگ کا چرچااو رنگ کو گلیوں میں جو دیکھو تو ہر اک جابہتی ہیں امنڈ کر جمن و گنگ زمیں پرہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر
وہی مٹکے، وہی ہاندی، وہی ٹوٹے پیالےہونٹ ٹوٹے ہوئے، لٹکی ہوئی مٹی کی زبانیں ہر سوبھوک اس وقت بھی تھی، پیاس بھی تھی، پیٹ بھی تھا
یہ روپ دکھا کر ہولی کے جب مین رسیلے ٹک مٹکےمنگوائے تھال گلالوں کے بھر ڈالے رنگوں سے مٹکےپھر سانگ بہت تیار ہوئے اور ٹھاٹھ خوشی کے جھر مٹکےغل شور ہوئے خوشحالی کے اور ناچنے گانے کے کھٹکےمردنگیں باجیں تال بجے کچھ کھنک کھنک کچھ دھنک دھنک
ایک ٹہنی پہ بیٹھے تھے مٹھو میاںآ گیا ایک کوا بھی اڑ کر وہاںآئیے آئیے شوق فرمائیےمیٹھا امرود ہے آپ بھی کھائیےبولا کوا کہ خاموش ٹیں ٹیں نہ کرورنہ میں پھوڑ دوں گا ابھی تیرا سربے وقوفوں سے میں بات کرتا نہیںاپنے درجے سے نیچے اترتا نہیںکون سا تو عقاب اور شاہین ہےمنہ لگانا تجھے میری توہین ہےبولیں کوے نے جب ایسی بڑ بولیاںتو غصے میں بولے یہ مٹھو میاںتو نے کیا تیر مارے ہیں میں بھی سنوںتیری چالاکیوں پر ذرا سر دھنوںبولا کوا کہ او رٹو طوطے یہ سنمیری دانش کا ہر شخص گاتا ہے گنکر دوں روشن ابھی تیرے چودہ طبقیاد ہے بچے بچے کو میرا سبقایک دن جب بہت سخت پیاسا تھا میںیہ سمجھ لے کہ بس ادھ مرا سا تھا میںایک مٹکے میں پانی کی دیکھی جھلکچونچ ڈالی تو پہنچی نہ پانی تلکذہن نے کام کرنا شروع کر دیامٹکا کنکر سے بھرنا شروع کر دیاان کی تعداد مٹکے میں جب بڑھ گئیسطح پانی کی اوپر تلک چڑھ گئیمیں نے پانی گٹاگٹ گٹاگٹ پیاپھر پھدکتے ہوئے کائیں کائیں کیادیکھ لے کس قدر تیز طرار ہوںکتنا چالاک ہوں کتنا ہشیار ہوںبولے مٹھو میاں مار کر قہقہہبے وقوفی کی بس ہو گئی انتہاجانے مٹکے میں پانی تھا کب سے پڑاپھر ڈھکنا بھی نہیں تھا کھلا تھا گھڑاگندے کنکر بھی بھرتا گیا اس میں توپی گیا ایسے پانی کو پھر آخ تھوایسے پانی سے لگتی ہیں بیماریاںپیش آتی ہیں کتنی ہی دشواریاںخود کو کہتا عقل مند و دانا ہے تولیکن افسوس احمق کا نانا ہے توتو اگر گندی چیزیں نہ کھائے پیےلوگ پالیں تجھے تو مزے سے جیےصاف ہوتا تو گھر گھر بلاتے تجھےاس طرح مار کر کیوں بھگاتے تجھےکوا سنتے ہی یہ بات رونے لگااپنے پر آنسوؤں سے بھگونے لگااور کہنے لگا بات سچ ہے تریلوگ کرتے ہیں نفرت شکل سے مریکوا رو رو کے جب آہ بھرنے لگااس پہ مٹھو نے یہ ترس کھا کر کہاچھوڑ دے اس تکبر بڑائی کو تواپنی عادت بنا لے صفائی کی توگندا پانی نہ پی گندی چیزیں نہ کھاان میں ہوتا ہے ڈیرا جراثیم کایہ جراثیم بیمار کر دیتے ہیںاچھے خاصوں کو بیکار کر دیتے ہیںیوں بظاہر تھا کوا بہت کائیاںاس کو سمجھا کے ہر بات مٹھو میاںاڑ گئے اپنے پر پھڑپھڑاتے ہوئےمٹھو بیٹے کے نعرے لگاتے ہوئے
نہ مٹکے میں آٹا نہ ڈبوں میں دالیںبتائے کوئی لوگ کس کو پکا لیںیہ فرمان حاکم ہے کس طرح ٹالیںکہا ہے غریبوں سے انگور کھا لیںپتیلی ہے خالی وہاں کیا دھرا ہےابھی بھوک سے ایک چوہا مرا ہے
پھول باسی ہو گئے ہیںلمس کی شدت سے تھک کرہاتھ جھوٹے ہو گئے ہیںاس جگہ کل نہر تھی اور آج دریا بہہ رہا ہےبوڑھا مانجھی کہہ رہا ہےخواہشوں کے پیڑ پر لٹکے ہوئےسایوں کو دیمک کھا رہی ہےوقت کی نالی میںسورج چاند تارے بہہ رہے ہیںبرف کے جنگل سے شعلے اٹھ رہے ہیںخواب کے جلتے ہوئے چیتےمیری آنکھوں میں آ کر چھپ گئے ہیںگھر کی دیواروں پہتنہائی کے بچھو رینگتے ہیںتشنگی کے سانپخالی پانی کے مٹکے میں اپنا منہ چھپائے رو رہے ہیںرات کے بہکے ہوئے ہاتھیافق کے بند دروازے پہ دستک دے رہے ہیںہاتھ چھوڑوہاتھ میں کانٹا چبھا ہےتین دن سے پھانس اندر ہےنکلتی ہی نہیںنام کیا ہے اور کہاں رہتے ہو تمجامع مسجد کے قریبکہتے ہیں مسجد کے مینارے بھی تھےشہر میں اک زلزلہ آیا تھا جس سے گر گئےگوشت کی سڑکوں پہکالے خون کے سایوں کا سورج چل رہا ہےلذتوں کی آگ میں تن جل رہا ہے
بولتی ہے کیا ٹر ٹر باتونی بٹوچپ نہیں رہتی لحظہ بھر باتونی بٹورک نہیں سکتی ایک ہی سانس میں بولتی جائےالٹا سیدھا بے مطلب جو منہ میں آئےبھائی کہیں میں پڑھتا ہوں مت دھیان بٹاؤباجی بولیں بھاگو میرے کان نہ کھاؤبولے کوئی کسی سے تو یہ بیچ میں ٹپکےبات کرے تو اچکے مٹکے آنکھیں جھپکےجب دیکھو تب لارا لارا ری ری ری ریجب دیکھو تب ہاہا ہاہا ہی ہی ہی ہیامی امی وہ جو ہیں ناں آنٹی سرورآج پہن کر آئیں تھی اک نیلا جمپرہاں نیلا سا کچھ اودا کچھ نیلا نیلالگتا تھا کچھ ان کے اوپر ڈھیلا ڈھیلالڑنے لگی پھر مجھ سے وہ بلقیس کی بچیاس ڈبیا کا ڈھکنا تو ہے بالکل پچیمہر نے لی بلقیس کی چٹکی ہو ہو ہو ہوعینی کی گل سے نہیں بنتی ہو ہو ہو ہوعفت اور میں جھولا جھولتے باری باریخالہ بی کی چوٹی ہے کیا لمبی سیبانو کے گھر آئی ہے بولتی مینا باجیہوتا ہے اک ٹانگ کا مرغا ہے نا باجیکرتی ہیں کیوں شام کو چڑیاں چیں چیں چیں چیںابو آپ ذرا فضلو کے کان تو کھینچیںوہ دیکھو پھر آن کے بیٹھا چھت پر کواباوا آدم کی تھیں بیوی ماما حوادور سے آتا دیکھیں تو گھبرائیں پڑوسنلوگ کہیں لو وہ آ دھمکیں بی بکواسنبٹو بی بی سن تو لو سب ہنستے ہیں تم پردیکھو تھوڑی دیر ذرا خاموش بھی رہ کر
زمانوں قبل ہم دونوں کا رستہپوٹلی میں ماں کے ہاتھوں کا پکا کھاناکتابیں اور بستہ ایک تھےکڑیوں کے رخنوں میںہمارے ساتھ چڑیاںرات دن بسرام کرتی تھیںہماری مشترک چہکار تھیدرزی سے کپڑے ایک جیسے سل کے آتےایک سے جوتے پہنتےبوندا باندی میں اکٹھے ہی نہاتےہم جدھر جاتے ہمیشہ ساتھ جاتےرات جب ڈھلتیتو سنتے تھے کہانیصحن میں رکھے ہوئے مٹکے کا پانیپیڑ کی چھتریستاروں سے مزین آسماںہانڈی کی خوشبواور وریدوں کا لہوالمختصر خوابوں کی دنیا ایک تھیاک دوسرے کا حاضر و غائب تھےہم جڑواں تھےاعضا و عناصر میں دوئی ناپید تھیسینے سے سینہدل سے دلماتھے سے ماتھا منسلک تھا!
مہربانی رات کا پہلا پہر ہےلڑکیوں نے گھاس پر نظمیں لکھیںپاسی کے مٹکے توڑ ڈالےآنگنوں میں گیت گائے گھر گئیںباشوں میں دھوپ سی اس آنکھ نے دیکھا مجھےکس کو جنگل چاہیے کس کو سمندر چاہیے
اک کوا تھا بے حد پیاساپانی کو وہ ڈھونڈ رہا تھاچاروں اور نظر جو ڈالیدھوپ تھی اور جنگل تھا خالیاڑ کر نیچے اوپر دیکھاپھر جا اونچی شاخ پہ بیٹھاچاروں اور نظر دوڑائیدور اک مٹکا دیا دکھائیخوشی خوشی اس اور کو بھاگااڑ کر اس جا وہ جا پہنچامٹکے کے اندر جب جھانکاتہ میں تھوڑا پانی دیکھاچونچ نہ اس کی اس جا پہنچیویاکل ہو پھر بات یہ سوچیمطلب تو تھا پانی پاناکوا بھی تھا بڑا سیاناساتھ پڑے کنکر جو دیکھےسوچا پانی میں یہ پھینکےچونچ سے اک اک کنکر پکڑامٹکے میں پھر اس کو ڈالادھیرے دھیرے پانی ابھرامٹکے کی گردن تک پہنچاکوے نے پھر چونچ بڑھائیاور پانی سے پیاس بجھائیپیارے پیارے اچھے بچوکوے کی تم بات کو سوچومحنت سے تم جی نہ چراؤمحنت کرکے تم پھل پاؤجس نے ڈھونڈا اس نے پایاجس نے بویا اس نے کھایاایسا کسی کا سچا بیاں ہےچاہ جہاں ہے راہ وہاں ہے
کنکر بھی ڈھیر لایا مٹکے میں پھر گرائےپانی ہوا جو اونچا گھونٹ اس نے پھر لگائے
میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجاتمیں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہواپنی متاع ناز لٹا کر مرے لیےبازار التفات میں نادار ہی رہو
متاع دل متاع جاں تو پھر تم کم ہی یاد آؤبہت کچھ بہہ گیا ہے سیل ماہ و سال میں اب تک
بدہ یارا ازاں بادہ کہ دہقاں پرورد آں رابہ سوزد ہر متاع انتماے دودماناں رابہ سوزد ایں زمین اعتبار و آسماناں رابہ سوزد جان و دل راہم بیاساید دل و جاں را
جو زندگی کے نئے سفر میںتجھے کسی وقت یاد آئیںتو ایک اک حرف جی اٹھے گاپہن کے انفاس کی قبائیںاداس تنہائیوں کے لمحوںمیں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیںمجھے ترے درد کے علاوہ بھیاور دکھ تھے یہ مانتا ہوںہزار غم تھے جو زندگی کیتلاش میں تھے یہ جانتا ہوںمجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میںدرد کی ریت چھانتا ہوںمگر ہر اک بار تجھ کو چھو کریہ ریت رنگ حنا بنی ہےیہ زخم گلزار بن گئے ہیںیہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہےیہ درد موج صبا ہوا ہےیہ آگ دل کی صدا بنی ہےاور اب یہ ساری متاع ہستییہ پھول یہ زخم سب ترے ہیںیہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمےجو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیںجو تیری قربت تری جدائیمیں کٹ گئے روز و شب ترے ہیںوہ تیرا شاعر ترا مغنیوہ جس کی باتیں عجیب سی تھیںوہ جس کے انداز خسروانہ تھےاور ادائیں غریب سی تھیںوہ جس کے جینے کی خواہشیں بھیخود اس کے اپنے نصیب سی تھیںنہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہبہت دنوں کا اجڑ چکا ہےوہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکنکڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہےوہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہاسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
وہ سارا علم تو ملتا رہے گا آئندہ بھیمگر وہ جو کتابوں میں ملا کرتے تھے سوکھے پھول اورمہکے ہوئے رقعےکتابیں مانگنے گرنے اٹھانے کے بہانے رشتے بنتے تھےان کا کیا ہوگاوہ شاید اب نہیں ہوں گے!
جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہےاس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہےاور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہےسب مایا ہے
اب سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوتم چاند سے ماتھے والے ہواور اچھی قسمت رکھتے ہوبچے کی سو بھولی صورتاب تک ضد کرنے کی عادتکچھ کھوئی کھوئی سی باتیںکچھ سینے میں چبھتی یادیںاب انہیں بھلا دو سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دوسو جاؤ تم شہزادے ہواور کتنے ڈھیروں پیارے ہواچھا تو کوئی اور بھی تھیاچھا پھر بات کہاں نکلیکچھ اور بھی یادیں بچپن کیکچھ اپنے گھر کے آنگن کیسب بتلا دو پھر سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دویہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کییہ جھلمل کرتی خاموشییہ ڈھلتی رات ستاروں کیبیتے نہ کبھی تم سو جاؤاور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہخودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہیہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہےصنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہکیا ہے تو نے متاع غرور کا سودافریب سود و زیاں لا الہ الا اللہیہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوندبتان وھم و گماں لا الہ الا اللہخرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنارینہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہیہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابندبہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہاگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میںمجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books