aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nadii"
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا ربکیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہوشورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میراایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہومرتا ہوں خامشی پر یہ آرزو ہے میریدامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہوآزاد فکر سے ہوں عزلت میں دن گزاروںدنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہولذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میںچشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہوگل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کاساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہوہو ہاتھ کا سرہانا سبزے کا ہو بچھوناشرمائے جس سے جلوت خلوت میں وہ ادا ہومانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبلننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہوصف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوںندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہوہو دل فریب ایسا کوہسار کا نظارہپانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہوآغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہپھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہوپانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنیجیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہومہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کوسرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہوراتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دمامید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہوبجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دےجب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہوپچھلے پہر کی کوئل وہ صبح کی موذنمیں اس کا ہم نوا ہوں وہ میری ہم نوا ہوکانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساںروزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہوپھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانےرونا مرا وضو ہو نالہ مری دعا ہواس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالےتاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہوہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دےبے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےسنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتادرختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہےہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیںتو مینا اپنے بچے چھوڑ کرکوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہےسنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہےسنا ہے جب کسی ندی کے پانی میںبئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہےتو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیںکبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے توکسی لکڑی کے تختے پرگلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیںسنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےخداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!کوئی دستور نافذ کر
رواں ہے چھوٹی سی کشتی ہواؤں کے رخ پرندی کے ساز پہ ملاح گیت گاتا ہے
اب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوریفقط کان سنتے چلے جا رہے ہیںیہ اک گلستاں ہے ہوا لہلہاتی ہے کلیاں چٹکتی ہیںغنچے مہکتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں کھل کھل کے مرجھا کےگرتے ہیں اک فرش مخمل بناتے ہیں جس پرمری آرزوؤں کی پریاں عجب آن سے یوں رواں ہیںکہ جیسے گلستاں ہی اک آئینہ ہےاسی آئینے سے ہر اک شکل نکھری سنور کر مٹی اور مٹ ہی گئی پھر نہ ابھرییہ پربت ہے خاموش ساکنکبھی کوئی چشمہ ابلتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس کی چٹانوں کے اس پار کیا ہےمگر مجھ کو پربت کا دامن ہی کافی ہے دامن میں وادی ہے وادی میں ندیہے ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہی آئینہ ہےاسی آئینے میں ہر اک شکل نکھری مگر ایک پل میں جو مٹنے لگی ہے توپھر نہ ابھرییہ صحرا ہے پھیلا ہوا خشک بے برگ صحرابگولے یہاں تند بھوتوں کا عکس مجسم بنے ہیں
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
سر پہ اپنے جوڑا باندھےمانجھی کی امید لگائےبھیگی اجلی صبح میں تمکہرے کی چادر میں لپٹیندی کنارے سوچ میں گمتاج محل سی لگتی ہو
لیکن پھر سوچ یہ آتی ہےجب ندی بہتی جاتی ہےاور اپنی اننت کہانی میںیوں بے دھیانی میں روانی میںمانا ہر موڑ پہ مڑتی ہےپر جی کی کہہ کے گزرتی ہےسر پر آئی سہہ جاتی ہےاور منہ آئی کہہ جاتی ہےدھرتی کے سینے پہ چڑھتی ہےاور آگے ہی آگے بڑھتی ہےیوں میں بھی دل کی بات کہوںجی میں آئے تو نظم لکھوںچاہے اک بات میں سو باتیںجیتیں لے آئیں یا ماتیںچاہے کوئی بات بنے نہ بنےچاہے سکھ ہوں یا دکھ اپنےچاہے کوئی مجھ سے آ کے کہےکیوں بول اٹھے کیوں چپ نہ رہے
اک دنتم نے مجھ سے کہا تھادھوپ کڑی ہےاپنا سایہ ساتھ ہی رکھناوقت کے ترکش میں جو تیر تھے کھل کر برسے ہیںزرد ہوا کے پتھریلے جھونکوں سےجسم کا پنچھی گھایل ہےدھوپ کا جنگل پیاس کا دریاایسے میں آنسو کی اک اک بوند کوانساں ترسے ہیںتم نے مجھ سے کہا تھاسمے کی بہتی ندی میںلمحے کی پہچان بھی رکھنامیرے دل میں جھانک کے دیکھودیکھو ساتوں رنگ کا پھول کھلا ہےوہ لمحہ جو میرا تھا وہ میرا ہےوقت کے پیکاں بے شک تن پر آن لگےدیکھو اس لمحے سے کتنا گہرا رشتہ ہے
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاںچومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماںتجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاںتو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاںایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیےتو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیےامتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے توپاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تومطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے توسوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے توبرف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سرخندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پرتیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہنوادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زنچوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخنتو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطنچشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہےدامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہےابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطےتازیانہ دے دیا برق سر کوہسار نےاے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی جسےدست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیےہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابرفیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابرجنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنیجھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلییوں زباں برگ سے گویا ہے اس کی خامشیدست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھیکہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مراکنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مراآتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئیکوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئیآئینہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئیسنگ رہ سے گاہ بچتی گاہ ٹکراتی ہوئیچھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کواے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کولیلئ شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسادامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صداوہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فداوہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہواکانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کوہسار پرخوش نما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پراے ہمالہ داستاں اس وقت کی کوئی سنامسکن آبائے انساں جب بنا دامن تراکچھ بتا اس سیدھی سادھی زندگی کا ماجراداغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھاہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تودوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
کسی ندی کے پاس اک بکریچرتے چرتے کہیں سے آ نکلی
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
اک پرندہ کسی اک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیںایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانبپوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسےاک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئیآمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچےگوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہےنازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میںاور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلےکوئلیں کوکتی ہیںجامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہےارغنوں بجتا ہے یکجائی کانیم کے پیڑوں میں جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھرساونی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سواور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساریمیں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوںایک ہی کم ہے، وہی چہرہ نہیںآخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کرکیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ ناملو یہ سپنے میں ہیں، اک کہتی ہےباؤلی سپنا نہیں، شہر سے آئے ہیں ابھیدوسری ٹوکتی ہےبات سے بات نکل چلتی ہےٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہابینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولیاور دلہن پہ ہوا کتنا بکھیرکچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرفاتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی، کہ نہیںجس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟کیوں نہیں بہتی، چنبیلی نے کہااور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟وہ بھی قائم ہے ابھی تک یونہیوعدہ کر کے جو حبیبہؔ نہیں آتی تھی کبھیآنکھیں دھوتا تھا ندی میں جاکراور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا
۱سیاہ پیڑ ہیں اب آپ اپنی پرچھائیںزمیں سے تا مہ و انجم سکوت کے مینارجدھر نگاہ کریں اک اتھاہ گم شدگیاک ایک کر کے فسردہ چراغوں کی پلکیںجھپک گئیں جو کھلی ہیں جھپکنے والی ہیںجھلک رہا ہے پڑا چاندنی کے درپن میںرسیلے کیف بھرے منظروں کا جاگتا خوابفلک پہ تاروں کو پہلی جماہیاں آئیں۲تمولیوں کی دوکانیں کہیں کہیں ہیں کھلیکچھ اونگھتی ہوئی بڑھتی ہیں شاہراہوں پرسواریوں کے بڑے گھنگھروؤں کی جھنکاریںکھڑا ہے اوس میں چپ چاپ ہر سنگار کا پیڑدلہن ہو جیسے حیا کی سگندھ سے بوجھلیہ موج نور یہ بھرپور یہ کھلی ہوئی راتکہ جیسے کھلتا چلا جائے اک سفید کنولسپاہ روس ہے اب کتنی دور برلن سےجگا رہا ہے کوئی آدھی رات کا جادوچھلک رہی ہے خم غیب سے شراب وجودفضائے نیم شبی نرگس خمار آلودکنول کی چٹکیوں میں بند ہے ندی کا سہاگ۳یہ رس کا سیج یہ سکمار یہ سکومل گاتنین کمل کی جھپک کام روپ کا جادویہ رسمسائی پلک کی گھنی گھنی پرچھائیںفلک پہ بکھرے ہوئے چاند اور ستاروں کیچمکتی انگلیوں سے چھڑ کے ساز فطرت کےترانے جاگنے والے ہیں تم بھی جاگ اٹھو۴شعاع مہر نے یوں ان کو چوم چوم لیاندی کے بیچ کمدنی کے پھول کھل اٹھےنہ مفلسی ہو تو کتنی حسین ہے دنیایہ جھائیں جھائیں سی رہ رہ کے ایک جھینگر کیحنا کی ٹیٹو میں نرم سرسراہٹ سیفضا کے سینے میں خاموش سنسناہٹ سییہ کائنات اب اک نیند لے چکی ہوگی۵یہ محو خواب ہیں رنگین مچھلیاں تہہ آبکہ حوض صحن میں اب ان کی چشمکیں بھی نہیںیہ سرنگوں ہیں سر شاخ پھول گڑہل کےکہ جیسے بے بجھے انگارے ٹھنڈے پڑ جائیںیہ چاندنی ہے کہ امڈا ہوا ہے رس ساگراک آدمی ہے کہ اتنا دکھی ہے دنیا میں۶قریب چاند کے منڈلا رہی ہے اک چڑیابھنور میں نور کے کروٹ سے جیسے ناؤ چلےکہ جیسے سینۂ شاعر میں کوئی خواب پلےوہ خواب سانچے میں جس کے نئی حیات ڈھلےوہ خواب جس سے پرانا نظام غم بدلےکہاں سے آتی ہے مدمالتی لتا کی لپٹکہ جیسے سیکڑوں پریاں گلابیاں چھڑکائیںکہ جیسے سیکڑوں بن دیویوں نے جھولے پرادائے خاص سے اک ساتھ بال کھول دیئےلگے ہیں کان ستاروں کے جس کی آہٹ پراس انقلاب کی کوئی خبر نہیں آتیدل نجوم دھڑکتے ہیں کان بجتے ہیں۷یہ سانس لیتی ہوئی کائنات یہ شب ماہیہ پر سکوں یہ پراسرار یہ اداس سماںیہ نرم نرم ہواؤں کے نیلگوں جھونکےفضا کی اوٹ میں مردوں کی گنگناہٹ ہےیہ رات موت کی بے رنگ مسکراہٹ ہےدھواں دھواں سے مناظر تمام نم دیدہخنک دھندلکے کی آنکھیں بھی نیم خوابیدہستارے ہیں کہ جہاں پر ہے آنسوؤں کا کفنحیات پردۂ شب میں بدلتی ہے پہلوکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادوزمانہ کتنا لڑائی کو رہ گیا ہوگامرے خیال میں اب ایک بج رہا ہوگا۸گلوں نے چادر شبنم میں منہ لپیٹ لیالبوں پہ سو گئی کلیوں کی مسکراہٹ بھیذرا بھی سنبل ترکی لٹیں نہیں ہلتیںسکوت نیم شبی کی حدیں نہیں ملتیںاب انقلاب میں شاید زیادہ دیر نہیںگزر رہے ہیں کئی کارواں دھندلکے میںسکوت نیم شبی ہے انہیں کے پاؤں کی چاپکچھ اور جاگ اٹھا آدھی رات کا جادو۹نئی زمین نیا آسماں نئی دنیانئے ستارے نئی گردشیں نئے دن راتزمیں سے تا بہ فلک انتظار کا عالمفضائے زرد میں دھندلے غبار کا عالمحیات موت نما انتشار کا عالمہے موج دود کہ دھندلی فضا کی نبضیں ہیںتمام خستگی و ماندگی یہ دور حیاتتھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ راتیہ سرد سرد یہ بے جان پھیکی پھیکی چمکنظام ثانیہ کی موت کا پسینا ہےخود اپنے آپ میں یہ کائنات ڈوب گئیخود اپنی کوکھ سے پھر جگمگا کے ابھرے گیبدل کے کیچلی جس طرح ناگ لہرائے۱۰خنک فضاؤں میں رقصاں ہیں چاند کی کرنیںکہ آبگینوں پہ پڑتی ہے نرم نرم پھواریہ موج غفلت معصوم یہ خمار بدنیہ سانس نیند میں ڈوبی یہ آنکھ مدماتیاب آؤ میرے کلیجے سے لگ کے سو جاؤیہ پلکیں بند کرو اور مجھ میں کھو جاؤ
پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئینیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئیڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتیوادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئیتیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیںآندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئیجیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیتایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئینونہالوں کو سناتی میٹھی میٹھی لوریاںنازنینوں کو سنہرے خواب دکھلاتی ہوئیٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتیسر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئیناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خماک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئیرات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتیپٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئیجیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی براتشادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئیمنتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاںدامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئیتیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دمرفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئیسینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیارایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئیاک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سےرفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئیاک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میںجنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئیرعشہ بر اندام کرتی انجم شب تاب کوآشیاں میں طائر وحشی کو چونکاتی ہوئییاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلالان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئیایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھخندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئیمرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خراموادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئیاک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلکاک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئیجستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ واراپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئیچھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدیغیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئیرینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتیاپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئیخودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئیشور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئیپل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتیاپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئیپیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماںساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئیمنہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کردندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئیآگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتیشب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئیایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئیایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئیتیزئی رفتار کے سکے جماتی جا بجادشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئیڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاباک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئیصفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوشحال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئیڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظرکوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئیدامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاںقصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئیزد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کرارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئیزعم میں پیشانی صحرا پہ ٹھوکر مارتیپھر سبک رفتاریوں کے ناز دکھلاتی ہوئیایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئےایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئیایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکارعظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئیہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھگولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئیوہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئےوہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئیالغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطرشاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی
ایک ویران سی مسجد کا شکستہ سا کلسپاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہےاور ٹوٹی ہوئی دیوار پہ چنڈول کبھیگیت پھیکا سا کوئی چھیڑ دیا کرتا ہے
جال بچھائے جال سنبھالےکمسن سڑکیں مانگ نکالےبال بکھیرے ندی نالے
ہے دنیا جس کا ناؤں میاں یہ اور طرح کی بستی ہےجو مہنگوں کو یہ مہنگی ہے اور سستوں کو یہ سستی ہےیاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں ہر آن عدالت بستی ہےگر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کا مان رکھے تو اس کو بھی ارمان ملےجو پان کھلا دے پان ملے جو روٹی دے تو نان ملےنقصان کرے نقصان ملے احسان کرے احسان ملےجو جیسا جس کے ساتھ کرے پھر ویسا اس کو آن ملےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کی جاں بخشے تو اس کی بھی حق جان رکھےجو اور کسی کی آن رکھے تو اس کی بھی حق آن رکھےجو یاں کا رہنے والا ہے یہ دل میں اپنے جان رکھےیہ ترت پھرت کا نقشہ ہے اس نقشے کو پہچان رکھےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو پار اتارے اوروں کو اس کی بھی پار اترنی ہےجو غرق کرے پھر اس کو بھی ڈبکوں ڈبکوں کرنی ہےشمشیر تبر بندوق سناں اور نشتر تیر نہرنی ہےیاں جیسی جیسی کرنی ہے پھر ویسی ویسی بھرنی ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اوپر اونچا بول کرے تو اس کا بول بھی بالا ہےاور دے پٹکے تو اس کو بھی کوئی اور پٹکنے والا ہےبے ظلم و خطا جس ظالم نے مظلوم ذبح کر ڈالا ہےاس ظالم کے بھی لوہو کا پھر بہتا ندی نالا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو مصری اور کے منہ میں دے پھر وہ بھی شکر کھاتا ہےجو اور تئیں اب ٹکر دے پھر وہ بھی ٹکر کھاتا ہےجو اور کو ڈالے چکر میں پھر وہ بھی چکر کھاتا ہےجو اور کو ٹھوکر مار چلے پھر وہ بھی ٹھوکر کھاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کسی کو ناحق میں کوئی جھوٹی بات لگاتا ہےاور کوئی غریب اور بیچارہ حق نا حق میں لٹ جاتا ہےوہ آپ بھی لوٹا جاتا ہے اور لاٹھی پاٹھی کھاتا ہےجو جیسا جیسا کرتا ہے پھر ویسا ویسا پاتا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےجو اور کی پگڑی لے بھاگے اس کا بھی اور اچکا ہےجو اور پہ چوکی بٹھلاوے اس پر بھی دھونس دھڑکا ہےیاں پشتی میں تو پشتی ہے اور دھکے میں یاں دھکا ہےکیا زور مزے کا جمگھٹ ہے کیا زور یہ بھیڑ بھڑکا ہےکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہےہے کھٹکا اس کے ہاتھ لگا جو اور کسی کو دے کھٹکااور غیب سے جھٹکا کھاتا ہے جو اور کسی کے دے جھٹکاچیرے کے بیچ میں چیرا ہے اور پٹکے بیچ جو ہے پٹکاکیا کہیے اور نظیرؔ آگے ہے زور تماشا جھٹ پٹکاکچھ دیر نہیں اندھیر نہیں انصاف اور عدل پرستی ہےاس ہاتھ کرو اس ہاتھ ملے یاں سودا دست بہ دستی ہے
کوئی سرد چشمہ ابلتا ہوا اور مچلتا ہوا یاد آئےجو ہو دیکھنے میں ٹپکتی ہوئی چند بوندیںمگر اپنی حد سے بڑھے تو بنے ایک ندی بنے ایک دریا بنے ایک ساگریہ جی چاہتا ہے کہ ہم ایسے ساگر کی لہروں پہ ایسی ہوا سے بہائیں وہ کشتی جو بہتی نہیں ہےمسافر کو لیکن بہاتی چلی جاتی ہے اور پلٹ کر نہیں آتی ہے ایک گہرے سکوں سے ملاتی چلی جاتی ہےیہ جی چاہتا ہے کہ ہم بھی یوں ہی چیخیں چلائیں ہنس دیں یوں ہی ہاتھ اٹھائیںہوا میں ہلائیں ہلا کر گرا دیںکبھی ایسے جیسے کوئی بات کہنے لگے ہیںمگر تم ہمیں گود میں لے کے اپنی بٹھا لومچلنے لگیں تو سنبھالوکبھی مسکراتے ہوئے شور کرتے ہوئے پھر گلے سے لپٹ کر کریں ایسی باتیںتمہیں سرسراتی ہوا یاد آئےوہی سرسراتی ہوا جس کے میٹھے فسوں سے دوپٹہ پھسل جاتا ہےوہی سرسراتی ہوا جو ہر انجان عورت کے بکھرے ہوئے گیسوؤں کوکسی سوئے جنگل پہ گنگھور کالی گھٹا کا نیا بھیس دے کرجگا دیتی ہے
ایک آیا گیا دوسرا آئے گا دیر سے دیکھتا ہوں یوں ہی رات اس کی گزر جائے گیمیں کھڑا ہوں یہاں کس لیے مجھ کو کیا کام ہے یاد آتا نہیں یاد بھی ٹمٹماتاہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئی اور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہےمگر میرے کانوں نے کیسے اسے سن لیا ایک آندھی چلی چل کے مٹبھی گئی آج تک میرے کانوں میں موجود ہے سائیں سائیں مچلتی ہوئی اورابلتی ہوئی پھیلتی پھیلتی دیر سے میں کھڑا ہوں یہاں ایک آیا گیادوسرا آئے گا رات اس کی گزر جائے گی ایک ہنگامہ برپا ہے دیکھیں جدھرآ رہے ہیں کئی لوگ چلتے ہوئے اور ٹہلتے ہوئے اور رکتے ہوئے پھر سےبڑھتے ہوئے اور لپکتے ہوئے آ رہے جا رہے ہیں ادھر سے ادھر اور ادھر سےادھر جیسے دل میں مرے دھیان کی لہر سے ایک طوفان ہے ویسے آنکھیںمری دیکھتی ہی چلی جا رہی ہیں کہ اک ٹمٹماتے دئیے کی کرن زندگی کو پھسلتےہوئے اور گرتے ہوئے ڈھب سے ظاہر کیے جا رہی ہے مجھے دھیانآتا ہے اب تیرگی اک اجالا بنی ہے مگر اس اجالے سے رستی چلی جا رہیہیں وہ امرت کی بوندیں جنہیں میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہا ہوں ہتھیلیمگر ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی تھی لپک سے اجالا ہوا لو گری پھر اندھیرا ساچھانے لگا بیٹھتا بیٹھتا بیٹھ کر ایک ہی پل میں اٹھتا ہوا جیسے آندھی کےتیکھے تھپیڑوں سے دروازے کے طاق کھلتے رہیں بند ہوتے رہیںپھڑپھڑاتے ہوئے طائر زخم خوردہ کی مانند میں دیکھتا ہی رہا ایک آیاگیا دوسرا آئے گا سوچ آئی مجھے پاؤں بڑھنے سے انکار کرتےگئے میں کھڑا ہی رہا دل میں اک بوند نے یہ کہا رات یوں ہی گزر جائے گیدل کی اک بوند کو آنکھ میں لے کے میں دیکھتا ہی رہا پھڑپھڑاتے ہوئے طائرزخم خوردہ کی مانند دروازے کے طاق اک بار جب مل گئے مجھ کو آہستہ آہستہاحساس ہونے لگا اب یہ زخمی پرندہ نہ تڑپے گا لیکن مرے دل کو ہر وقتتڑپائے گا میں ہتھیلی پہ اپنی سنبھالے رہوں گا وہ امرت کی بوندیں جنہیں آنکھسے میری رسنا تھا لیکن مری زندگی ٹمٹماتا ہوا اک دیا بن گئی جس کی رکتی ہوئیاور جھجکتی ہوئی ہر کرن بے صدا قہقہہ ہے کہ اس تیرگی میں کوئی بات ایسی نہیںجس کو پہلے اندھیرے میں دیکھا ہو میں نے سفر یہ اجالے اندھیرے کا چلتارہا ہے تو چلتا رہے گا یہی رسم ہے راہ کی ایک آیا گیا دوسراآئے گا رات ایسے گزر جائے گی ٹمٹماتے ستارے بتاتے تھے رستے کیندی بہی جا رہی ہے بہے جا اس الجھن سے ایسے نکل جا کوئی سیدھا منزل پہ جاتاتھا لیکن کئی قافلے بھول جاتے تھے انجم کے دور یگانہ کے مبہم اشارے مگر وہبھی چلتے ہوئے اور بڑھتے ہوئے شام سے پہلے ہی دیکھ لیتے تھے مقصود کا بنددروازہ کھلنے لگا ہے مگر میں کھڑا ہوں یہاں مجھ کو کیا کام ہے میرا دروازہکھلتا نہیں ہے مجھے پھیلے صحرا کی سوئی ہوئی ریگ کا ذرہ ذرہ یہی کہہ رہا ہےکے ایسے خرابے میں سوکھی ہتھیلی ہے اک ایسا تلوا کے جس کو کسی خار کی نوک چبھنے پہ بھیکہہ نہیں سکتی مجھ کو کوئی بوند اپنے لہو کی پلا دو مگر میں کھڑا ہوں یہاں کس لیےکام کوئی نہیں ہے تو میں بھی ان آتے ہوئے اور جاتے ہوئے ایک دو تینلاکھوں بگولوں میں مل کر یوں ہی چلتے چلتے کہیں ڈوب جاتا کے جیسے یہاںبہتی لہروں میں کشتی ہر ایک موج کو تھام لیتی ہے اپنی ہتھیلی کے پھیلے کنولمیں مجھے دھیان آتا نہیں ہے کہ اس راہ میں تو ہر اک جانے والے کے بسمیں ہے منزل میں چل دوں چلوں آئیے آئیے آپ کیوں اس جگہایسے چپ چاپ تنہا کھڑے ہیں اگر آپ کہیے تو ہم اک اچھوتی سی ٹہنی سےدو پھول بس بس مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں اکدوست کا راستہ دیکھتا ہوں مگر وہ چلا بھی گیا ہے مجھے پھر بھیتسکین آتی نہیں ہے کہ میں ایک صحرا کا باشندہ معلوم ہونے لگا ہوں خوداپنی نظر میں مجھے اب کوئی بند دروازہ کھلتا نظر آئے یہ بات ممکن نہیں ہےمیں اک اور آندھی کا مشتاق ہوں جو مجھے اپنے پردے میں یکسر چھپا لےمجھے اب یہ محسوس ہونے لگا ہے سہانا سماں جتنا بس میں تھا میرےوہ سب ایک بہتا سا جھونکا بنا ہے جسے ہاتھ میرے نہیں روک سکتےکہ میری ہتھیلی میں امرت کی بوندیں تو باقی نہیں ہیں فقط ایک پھیلا ہواخشک بے برگ بے رنگ صحرا ہے جس میں یہ ممکن نہیں میں کہوںایک آیا گیا دوسرا آئے گا رات میری گزر جائے گی
خدا کا گھر نہیں کوئیبہت پہلے ہمارے گاؤں کے اکثر بزرگوں نےاسے دیکھا تھاپوجا تھایہیں تھا وہیہیں بچوں کی آنکھوں میںلہکتے سبز پیڑوں میںوہ رہتا تھاہواؤں میں مہکتا تھاندی کے ساتھ بہتا تھاہمارے پاس وہ آنکھیں کہاں ہیںجو پہاڑی پرچمکتیبولتیآواز کو دیکھیںہمارے کان بہرے ہیںہماری روح اندھی ہےہمارے واسطےاب پھول کھلتے ہیںنہ کونپل گنگناتی ہےنہ خاموشی اکیلے میں سنہرے گیت گاتی ہےہمارا عہد!ماں کے پیٹ سے اندھا ہے بہرا ہےہمارے آگے پیچھےموت کا تاریک پہرا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books