aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "nashe"
حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پرحضور کی تمام تر بلائیں میری جان پرحضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیںحضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیںحضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوںحضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوںحضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہےحضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ہےحضور مسکرا رہے ہیں میری بات بات پرحضور کو نہ جانے کیا گماں ہے میری ذات پرحضور منہ سے بہ رہی ہے پیک صاف کیجئےحضور آپ تو نشے میں ہیں معاف کیجئےحضور کیا کہا میں آپ کو بہت عزیز ہوںحضور کا کرم ہے ورنہ میں بھی کوئی چیز ہوںحضور چھوڑیئے ہمیں ہزار اور روگ ہیںحضور جائیے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں
یہ شاخسار کے جھولوں میں پینگ پڑتے ہوئےیہ لاکھوں پتیوں کا ناچنا یہ رقص نباتیہ بے خودئ مسرت یہ والہانہ رقصیہ تال سم یہ چھما چھم کہ کان بجتے ہیںہوا کے دوش پہ کچھ اودی اودی شکلوں کینشے میں چور سی پرچھائیاں تھرکتی ہوئیافق پہ ڈوبتے دن کی جھپکتی ہیں آنکھیںخموش سوز دروں سے سلگ رہی ہے یہ شام!مرے مکان کے آگے ہے ایک چوڑا صحن وسیعکبھی وہ ہنستا نظر آتا ہے کبھی وہ اداساسی کے بیچ میں ہے ایک پیڑ پیپل کاسنا ہے میں نے بزرگوں سے یہ کہ عمر اس کیجو کچھ نہ ہوگی تو ہوگی قریب چھیانوے سالچھڑی تھی ہند میں جب پہلی جنگ آزادیجسے دبانے کے بعد اس کو غدر کہنے لگےیہ اہل ہند بھی ہوتے ہیں کس قدر معصوموہ دار و گیر وہ آزادیٔ وطن کی جنگوطن سے تھی کہ غنیم وطن سے غداریبپھر گئے تھے ہمارے وطن کے پیر و جواںدیار ہند میں رن پڑ گیا تھا چار طرفاسی زمانے میں کہتے ہیں میرے دادا نےجب ارض ہند سنچی خون سے ''سپوتوں'' کےمیان صحن لگایا تھا لا کے اک پوداجو آب و آتش و خاک و ہوا سے پلتا ہواخود اپنے قد سے بہ جوش نمو نکلتا ہوافسون روح بناتی رگوں میں چلتا ہوانگاہ شوق کے سانچوں میں روز ڈھلتا ہواسنا ہے راویوں سے دیدنی تھی اس کی اٹھانہر اک کے دیکھتے ہی دیکھتے چڑھا پروانوہی ہے آج یہ چھتنار پیڑ پیپل کاوہ ٹہنیوں کے کمنڈل لئے جٹادھاریزمانہ دیکھے ہوئے ہے یہ پیڑ بچپن سےرہی ہے اس کے لئے داخلی کشش مجھ میںرہا ہوں دیکھتا چپ چاپ دیر تک اس کومیں کھو گیا ہوں کئی بار اس نظارے میںوہ اس کی گہری جڑیں تھیں کہ زندگی کی جڑیں؟پس سکون شجر کوئی دل دھڑکتا تھامیں دیکھتا تھا اسے ہستیٔ بشر کی طرحکبھی اداس کبھی شادماں کبھی گمبھیرفضا کا سرمئی رنگ اور ہو چلا گہراگھلا گھلا سا فلک ہے دھواں دھواں سی ہے شامہے جھٹپٹا کہ کوئی اژدہا ہے مائل خوابسکوت شام میں درماندگی کا عالم ہےرکی رکی سی کسی سوچ میں ہے موج صبا
زندگی کی ساعتیں روشن تھیں شمعوں کی طرحجس طرح سے شام گزرے جگنوؤں کے شہر میںجس طرح مہتاب کی وادی میں دو سائے رواںجس طرح گھنگھرو چھنک اٹھیں نشے کی لہر میں
محبوب نشے میں چھکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتارات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میںتو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میںصبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھولمیرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملولتو مجھے ڈھونڈھتی کس شوق سے گھبراہٹ میںاپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میںجوں ہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھےملتا اس گوش کا پھر گوشۂ مانوس مجھےکان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتیتو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتییوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوشعمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوشکاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا
خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ دیکھی ہیں میں نے مسز سالا مانکا کی آنکھیںمسز سالا مانکا کی آنکھیںکہ جن کے افق ہیں جنوبی سمندر کی نیلی رسائی سے آگےجنوبی سمندر کی نیلی رسائیکہ جس کے جزیرے ہجوم سحر سے درخشاںدرخشاں جزیروں میں زرتاب و عناب و قرمز پرندوں کی جولاں گہیںایسے پھیلی ہوئی جیسے جنت کے داماںپرندے ازل اور ابد کے مہ و سال میں بال افشاں!خدا حشر میں ہو مددگار میراکہ میں نے لیے ہیں مسز سالا مانکا کے ہونٹوں کے بوسےوہ بوسے کہ جن کی حلاوت کے چشمےشمالی زمینوں کے زرتاب و عناب و قرمز درختوںکے مدہوش باغوں سے آگےجہاں زندگی کے رسیدہ شگوفوں کے سینوںسے خوابوں کے رم دیدہ زنبور لیتے ہیں رس اور پیتے ہیں وہکہ جس کے نشے کی جلا سےزمانوں کی نادیدہ محراب کے دو کناروں کے نیچےہیں یک بارگی گونج اٹھتے خلا و ملا کے جلاجلجلاجل کے نغمے بہم ایسے پیوست ہوتے ہیں جیسےمسز سالا مانکا کے لب میرے لب سے!
رند بہت تھے لیکن وہ سباپنے نشے میں کھوئے ہوئے تھےجاگ رہی تھیں آنکھیں لیکندل تو سب کے سوئے ہوئے تھےکوئی نہیں تھا ان میں میرامیں یہ بیٹھا سوچ رہا تھاکب یہ ظالم رات کٹے گیکب واپس آئے گا سویرا
اپنا تو ابد ہے کنج مرقدجب جسم سپرد خاک ہو جائےمرقد بھی نہیں وہ آخری سانسجب قصۂ زیست پاک ہو جائےوہ سانس نہیں شکست امیدجب دامن دل ہی چاک ہو جائےامید نہیں بس ایک لمحہجو آتش غم سے خاک ہو جائےہستی کی ابد گہ قضا میںکچھ فرق نہیں فنا بقا میںخاکستر خواب شعلۂ خوابیہ اپنا ازل ہے وہ ابد ہےوہ شعلہ تو کب کا مر چکا ہےیہ جسم اک نعش بے لحد ہےمرتی ہے حیات لمحہ لمحہہر سانس اک زندگی کی حد ہے
وہ اک لڑکیجو خاموشی میں بھی اکثر چہکتی تھیصبح سے شام تک اور رات میں بھی باتیں کرتی تھیسبھوں کو شاد رکھتی تھی بہت مسرور رہتی تھیکبھی بادل کبھی خوشبو کبھی گل رنگ کی صورتبرستی تھی بکھرتی تھی بدلتی تھیمگر محسوس ہوتا تھا ہمیشہ پاس رہتی ہےجو وہ انجان بنتی تھیعزیز از جان لگتی تھیکبھی چنچل ہوا پنچھی کے پنکھوں اور ندی کے لمس کی ماننداتر آتی تھی دل میں روح کو پر کیف رکھتی تھیکبھی ہونٹوں کے رس آنکھوں کی شبنم گالوں کے خوش رنگ موسم سےنشے کو جھیل کو گلبن کو بھی وہ مات دیتی تھیمیں اس کے لمس سے رخساروں کی دھیمی تمازت گرم سانسوں سےبہت قربت بہت اپنائیت محسوس کرتا تھاذہن کے پاس پاتا تھا اسے اپنا سمجھتا تھامگر پھر کیا ہوا اک دن کہ اک بد بخت ڈائن نےخدا جانے کہاں بھیجا کہ سب لا علم ہیں اس سےمگر پہنچے ہوئے درویش نے یہ بھید کھولا ہےبسیرا اس کا اب ہے چاندنی کے کنجستاروں کے بغیچوں میںوہ ان کی سیر کرتی ہے مگر غمگین رہتی ہےاسے سب وہم کہتے ہیں خلاف عقل کہتے ہیںمگر پکا یقیں ہے جب کوئی ٹوٹا ہوا تارازمیں کو چومنے آئے گا وہ بھی ساتھ آئے گیپھر اپنے ساتھ وہ خوشیوں کے صدہا گل بھی لائے گیسو ہر شب جاگتا ہوںراہ میں آکاش کی آنکھیں بچھاتا ہوںمگر جو تارا آتا ہے زمیں تک آ نہیں پاتا
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
یہاں تو دونوں میں آپس میں ہو رہی یہ جنگادھر سے آیا جو اک شوخ با رخ گل رنگہزاروں نازنیں معشوق اور اس کے سنگنشے میں مست کھلی زلف جوڑے رنگ برنگکہا کہ پوچھو تو کیا ہے یہ حال ہولی میں
مجھے علم ہےیہی علم میرا سرور ہے یہ علم میرا عذاب ہےیہی علم مرا نشہ ہےاور مجھے علم ہےکہ جو زہر ہے وہ نشے کا دوسرا نام ہےمیں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوں
جب خوباں آئے رنگ بھرے پھر کیا کیا ہولی جھمک اٹھیکچھ حسن کی جھمکیں ناز بھریں کچھ شوخی ناز اداؤں کیسب چومنے والے گرد دکھڑے نظارہ کرتے ہنسی خوشیمحبوب نشے کی خوبی میں پھر عاشق اوپر گھڑی گھڑیہیں رنگ چھڑکتے سرخی کے کچھ لپک لپک کچھ جھپک جھپک
ہڑتال کرنے سے نہ ٹلو میں نشے میں ہوںاے غیر ملکیوں کی کلو میں نشے میں ہوںمیرا جلوس لے کے چلو میں نشے میں ہوںپھر خاک سب کے منہ پہ ملو میں نشے میں ہوں''یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں''''اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں''
ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیںکسی سمے میں وہ تھی ست ونتیکہیں ساوتریکہیں تھی میراہر ایک یگ میںعقیدتوں کی لہر میں بھیگیتپسیا کے سحر میں گم سمروایتوں کے نشے میں ڈوبیتمہارے قدموں کی گرد کو وہ تلک بناتیدئے جلاتی تھی نقش پا پرجنم جنم کا اٹوٹ رشتہنباہے جاتیہزاروں صدیوں سفر کیا ہےنظر جمائےتمہارے پیچھےتمہارے دکھ پر دکھی ہوئی ہےتمہارے سکھ پر سکھی ہوئی ہےمگر بتاؤہزاروں صدیوں کے درمیاں کوئی ایسا لمحہجو تم نے اس کے لیے جیا ہوسوائے آنسو کے کوئی جگنوکبھی جو آنچل میں جڑ دیا ہوپرانے برگد پہ ایک دھاگاکہیں تو اس کے بھی نام کا ہواندھیری طاقوں پہ اس کی خاطررکھا ہوا بھی تو اک دیا ہونہیں ہے کچھ بھیکہیں نہیں ہےوہ اپنی تاریخ میں تمہارالکھے بھی گر نامکس طرح سے
میں تھم سے گر گئیلگا انہیں میں مر گئیسب جانے لگےتو میرے پتی میرے پاس آنے لگےمجھ سے پیار جو کرتے تھےمجھے کھونے سے جو ڈرتے تھےمجھے پیار سے آ کر وہ کوسنے لگےبے جان شریر کو پھر وہ نوچنے لگےشراب کے نشے میں وہیں پڑے ڈولنے لگےہاتھ مروڑ کرخراب رات کو بولنے لگے
خدائے برترتیری وحدانیت کی قسمجب بھی تیرے آگے سر بہ سجود ہوئیتو نیت کیکہ زمین کے ان تمام خداؤں کو رد کرتی ہوںجو اپنے عہدوں کے آگےمجھے جھکانے پر بضد رہےاے ہمیشہ رہنے والی ذاتجب کوئی جسم خاکی طاقت کے نشے میںکسی کمزور کو کچلتا ہےتب گزرتا وقت اس پر بہت ہنستا ہےاے رازق رحیمہم ایسے نظام کو بھوگ رہے ہیںجہاں ایک کی بقا دوسرے کی بھوک پر قابض ہونے میں ہےتو کہ واقف ہے دلوں کے بھید سےایسے حالات آ جاتے ہیں کہسچ گوشہ نشین ہو جاتا ہےشرافت اور حیا پہسنگ باری ہوتی ہےاے خالق کائناتتو نے اپنے کلام میں زمین کا دکھ بیان کیا ہےجو ان گنت مظالم اپنے اوپر جھیلتی ہےاس زمین کی خاموشی کی قسمسارے ظالم اپنی دشت اپنی سفاکیوں کا کھیل رچاتے رچاتےایک دن زمین کے اندر چلے جاتے ہیںاے خدائے عظیمیہ زمین میرا بچھونامیں نے اس کی خامشی کو اپنے سینے میں اتاراتیرے عطا کیے ہوئے حوصلے نےمیرے قدم اکھڑنے نہیں دیئےورنہکسی ڈرل مشین کی طرحجملے دل میں سوراخ کرتے گئےتشنج زدہ چہروں پر ہنسی تب دکھائی دیجب آنکھوں سے خواب چھین لیے گئےاے میرے پروردگارہمیں ایک ایسا معاشرہ دیا گیاجہاں ہمارے پھیپڑوں پہ پاؤں رکھ کے حکمرانی کرنے والےہماری سانس کے چلنے رکنے کا تماشا دیکھتے ہیںتماشہ بینوں کی آنکھوں اس انت کی منتظر ہوتی ہیںکہ جب ان سے زندہ رہنے کی بھیک مانگی جائےاے میرے معبودمیں نے ایسے ہی کگار پہتیری برتری طلب کیاے میرے دکھوں کے رازداںتو واقف ہےجب میرے ارد گرد گریۂ وحشت طاری تھااور مجھے بتایا جا رہا تھاکہ سرطان میرے باپ کو کھا رہا ہےوہ وقت تھا کہ نہ کوئی حرف تسلی کام آ سکتا تھا نہ کوئی امید باقی رہ گئی تھیمیری آنکھیں خشک تھیںمیرے سارے آنسو میرے اندر گرتے گئےوہ وقت تھا میرے معبودجب تو نے میرے قلب کو غم سے لبریز کر کےمیری تربیت کی تھیمجھے باور ہواکہ آنے والے وقت میں قدم قدم پہمجھے سرطان کا سامان کرنا ہوگافقروں میں قہقہوں میںاس شیطان کو کنکری کون مارےجو تاریک دلوں کے منا میں بیٹھا ہےمیرے مولامیں کسی معجزے کی منتظر نہیںبس اتنی ہمت دے مجھےکہ تیرگی کے مقابلروشنی کو ہمیشگی دے دوں
شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرفلوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدمبارہ گھنٹوں کی مشقت اور تھکنبڑھ کے لے لیتی ہے مجھ کو گود میںاور سیل تیرگی میں ڈوب جاتی ہے امید و شوق کی اک اک کرنرہ گزار آرزو پر چار سو اڑتی ہے دھولاور اک آواز آتی ہے کہیں سےجو کہ انجانی بھی پہچانی بھی ہےزندگی کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیںاک مسلسل مرگ، اک سیل بلا، نیزوں کے بنآہوں، کراہوں کے سواپھر اسی تاریک لمحے، پھر اسی نازک گھڑیآرزو کی رہ گزر پر چند نقش پا ابھرتے ہیں ستاروں کی طرحلہلہاتا ہے کوئی آنچل بہاروں کی طرحپھیل جاتی ہے کسی گیسو کی نکہت چار سوایک فردوسی تبسم کی سنہری چاندنیدھیمے دھیمے، زینہ زینہگنگناتی، رقص فرماتی ہوئیبام غم سے خانۂ دل میں اتر کرتھپتھپاتی ہے مجھےگیت گاتی ہے، کبھی لوری سناتی ہے مجھےاور پھر جب صبح کو خورشید عالم تاب کی پہلی کرنگدگداتی ہے مجھےکار گاہ دہر میں واپس بلاتی ہے مجھےآرزو و جستجو دل میں جواں پاتا ہوں میںشوق کی مے کے نشے میں چور ہو جاتا ہوں میں!!
وہ گلابی عکس میں ڈوبی ہوئی چشم حباباور نشے میں مست وہ سرمست موجوں کے رباب
یہیں تو کہیں پرتمہارے لبوں نےمرے سرد ہونٹوں سے برفیلے ذرے چنے تھےاسی پیڑ کی چھال پر ہاتھ رکھ کرہم اک دن کھڑے تھےیہیں برف باری میں ہم لڑکھڑاتے ہوئے جا رہے تھےبہک تازہ بوسوں کی سر میں سمائےہم آغوشی جسم و جاں کے نشے میںگئی برف باری کی رتاور پگھلتی ہوئی برف بھی بہہ گئی سبیہاں کچھ نہیں ابکہ ہر شے نئی ہےہٹا کر ردا برف کی گھاس لہرا رہی ہےہری پتیوں کی گھنی ٹہنیوں میںہوا جب چلے توگئے موسموں سے گزرتیہماری ہنسی گونجتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books