بساط شاعری

دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں

اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

سیماب اکبرآبادی

زندگی کی بساط پر باقیؔ

موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ

باقی صدیقی

لگی تھی جان کی بازی بساط الٹ ڈالی

یہ کھیل بھی ہمیں یاروں نے ہارنے نہ دیا

ظفر اقبال

ترے انتظار میں اس طرح مرا عہد شوق گزر گیا

سر شام جیسے بساط دل کوئی خستہ حال سمیٹ لے

رام ریاض

یہ کائنات مرے سامنے ہے مثل بساط

کہیں جنوں میں الٹ دوں نہ اس جہان کو میں

اختر عثمان

متعلقہ موضوعات