مذہب پر شاعری

مذہب پر گفتگو ہماری عمومی زندگی کا ایک دلچسپ موضوع ہے ۔ سبھی لوگ مذہب کی حقیقت ، انسانی زندگی میں اس کے کردار ، اس کے اچھے برے اثرات پر سوچتے اور غور وفکر کرتے ہیں ۔ شاعروں نے بھی مذہب کو موضوع بنایا ہے اور اس کے بہت سے پہلوؤں پر اپنی تخلیقی فکر کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مذہب کے حوالے سے ایک نئے مکالمے سے متعارف کرائے گی ۔

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

from sectarian debate refrained

for I was not so scatter-brained

from sectarian debate refrained

for I was not so scatter-brained

اکبر الہ آبادی

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

Why is it you seek to know, of Miir's religion, sect, for he

Sits in temples, painted brow, well on the road to heresy

Why is it you seek to know, of Miir's religion, sect, for he

Sits in temples, painted brow, well on the road to heresy

میر تقی میر

شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں

مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

اکبر الہ آبادی

اگر مذہب خلل انداز ہے ملکی مقاصد میں

تو شیخ و برہمن پنہاں رہیں دیر و مساجد میں

اکبر الہ آبادی

مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی

دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

فراق گورکھپوری

مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الٰہی ہے

مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے

مجروح سلطانپوری

رہ گئے سبحہ و زنار کے جھگڑے باقی

دھرم ہندو میں نہیں دین مسلماں میں نہیں

نامعلوم

متعلقہ موضوعات