Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مذہب پر اشعار

مذہب پر گفتگو ہماری

عمومی زندگی کا ایک دلچسپ موضوع ہے ۔ سبھی لوگ مذہب کی حقیقت ، انسانی زندگی میں اس کے کردار ، اس کے اچھے برے اثرات پر سوچتے اور غور وفکر کرتے ہیں ۔ شاعروں نے بھی مذہب کو موضوع بنایا ہے اور اس کے بہت سے پہلوؤں پر اپنی تخلیقی فکر کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مذہب کے حوالے سے ایک نئے مکالمے سے متعارف کرائے گی ۔

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

اکبر الہ آبادی

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں سوال کرنے والوں پر طنز ہے کہ میرؔ کی مذہبی شناخت اب پوچھنے کی چیز نہیں رہی۔ “دیر” اور “قشقہ” ایسے استعارے ہیں جو سرحدیں پار کرنے اور ایک نئے رُخ اختیار کرنے کی علامت بنتے ہیں۔ اصل جذبہ عشق کی شدت ہے جو رسم و رواج اور مذہبی خانوں کو بے معنی کر دیتی ہے۔ لہجہ بے نیازی اور تلخ مزاح کا ہے۔

میر تقی میر

شیخ اپنی رگ کو کیا کریں ریشے کو کیا کریں

مذہب کے جھگڑے چھوڑیں تو پیشے کو کیا کریں

اکبر الہ آبادی

مجھ سے کہا جبریل جنوں نے یہ بھی وحی الٰہی ہے

مذہب تو بس مذہب دل ہے باقی سب گمراہی ہے

مجروح سلطانپوری

مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستی

دنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے

Interpretation: Rekhta AI

یہ شعر آسان الزام تراشی کو رد کرتا ہے کہ دنیا کی خرابی مذہب یا اخلاق سے ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دکھوں کی جڑ کہیں اور ہے—یعنی وہ پوشیدہ محرکات جو لوگ ماننا نہیں چاہتے، جیسے مفاد، طاقت کی ہوس یا ریاکاری۔ لہجہ سنجیدہ اور تنقیدی ہے، اور مقصد حقیقت پسندانہ تشخیص ہے۔

فراق گورکھپوری

اگر مذہب خلل انداز ہے ملکی مقاصد میں

تو شیخ و برہمن پنہاں رہیں دیر و مساجد میں

اکبر الہ آبادی

رہ گئے سبحہ و زنار کے جھگڑے باقی

دھرم ہندو میں نہیں دین مسلماں میں نہیں

نامعلوم

کچھ انساں تھے کچھ مذہب تھے ایک خدا تھا

اور اس ایک خدا کے کارن سب جھگڑا تھا

اندر موہن مہتا کیف
بولیے