شہر کی بھیڑ میں شامل ہے اکیلا پن بھی
آج ہر ذہن ہے تنہائی کا مارا دیکھو
-
موضوع : تنہائی
اب اس مقام پہ ہے موسموں کا سرد مزاج
کہ دل سلگنے لگے اور دماغ جلنے لگے
آ گئے دل میں وسوسے کتنے
وقت جب اعتبار کا آیا
دماغ و دل کی تھکان والا
کڑا سفر ہے گمان والا
مرے داغ جگر کو پھول کہہ کر
مجھے کانٹوں میں کھینچا جا رہا ہے
بے دماغ خجلت ہوں رشک امتحاں تا کے
ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی گلی میں بار بار کے امتحان اور رقیبوں سے مقابلے کی ذلت سے تنگ آ چکا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اس شرمندگی کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے وہ اپنی 'بیکسی' (لاچاری) کو گلے لگاتا ہے کیونکہ وہی ایک ایسی حقیقت ہے جو پوری دنیا میں عام ہے اور سب کو جانتی ہے۔