ADVERTISEMENT

اقوال پرمعاشرہ

پہلے مذہب سینوں میں ہوتا تھا آج کل ٹوپیوں میں ہوتا ہے۔ سیاست بھی اب ٹوپیوں میں چلی آئی ہے۔ زندہ باد ٹوپیاں!

سعادت حسن منٹو

دنیا میں جتنی لعنتیں ہیں، بھوک ان کی ماں ہے۔

سعادت حسن منٹو

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیئے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں، وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔۔۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں۔ جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔

سعادت حسن منٹو

ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

بھوک کسی قسم کی بھی ہو، بہت خطرناک ہے۔

سعادت حسن منٹو

ویشیا اور باعصمت عورت کا مقابلہ ہرگز ہرگز نہیں کرنا چاہیئے۔ ان دونوں کا مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ویشیا خود کماتی ہے اور با عصمت عورت کے پاس کما کر لانے والے کئی موجود ہوتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

اگر ایک ہی بار جھوٹ نہ بولنے اور چوری نہ کرنے کی تلقین کرنے پر ساری دنیا جھوٹ اور چوری سے پرہیز کرتی تو شاید ایک ہی پیغمبر کافی ہوتا۔

سعادت حسن منٹو

سوسائٹی کے اصولوں کے مطابق مرد مرد رہتا ہے خواہ اس کی کتاب زندگی کے ہر ورق پر گناہوں کی سیاہی لپی ہو۔ مگر وہ عورت جو صرف ایک مرتبہ جوانی کے بے پناہ جذبے کے زیر اثر یا کسی لالچ میں آ کر یا کسی مرد کی زبردستی کا شکار ہو کر ایک لمحے کے لئے اپنے راستے سے ہٹ جائے، عورت نہیں رہتی۔ اسے حقارت و نفرت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ سوسائٹی اس پر وہ تمام دروازے بند کر دیتی ہے جو ایک سیاہ پیشہ مرد کے لئے کھلے رہتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

زبان بنائی نہیں جاتی، خود بنتی ہے اور نہ انسانی کوششیں کسی زبان کو فنا کر سکتی ہیں۔

سعادت حسن منٹو

ویشیا پیدا نہیں ہوتی، بنائی جاتی ہے۔ یا خود بنتی ہے۔ جس چیز کی مانگ ہوگی منڈی میں ضرور آئے گی۔ مرد کی نفسانی خواہشات کی مانگ عورت ہے۔ خواہ وہ کسی شکل میں ہو۔ چنانچہ اس مانگ کا اثر یہ ہے کہ ہر شہر میں کوئی نہ کوئی چکلہ موجود ہے۔ اگر آج یہ مانگ دور ہو جائے تو یہ چکلے خود بخود غائب ہو جائیں گے۔

سعادت حسن منٹو

سچ بول کر ذلیل خوار ہونے کی بہ نسبت جھوٹ بول کر ذلیل و خوار ہونا بہتر ہے۔ آدمی کو کم از کم صبر تو آجاتا ہے کہ کس بات کی سزا مل رہی ہے۔

مشتاق احمد یوسفی

یہ لوگ جنہیں عرف عام میں لیڈر کہا جاتا ہے، سیاست اور مذہب کو لنگڑا، لولا اور زخمی آدمی تصور کرتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔۔۔ میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا، اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا ہے۔ لوگ مجھے سیاہ قلم کہتے ہیں، میں تختہ سیاہ پر کالی چاک سے نہیں لکھتا، سفید چاک استعمال کرتا ہوں کہ تختہ سیاہ کی سیاہی اور بھی زیادہ نمایاں ہو جائے۔ یہ میرا خاص انداز، میرا خاص طرز ہے جسے فحش نگاری، ترقی پسندی اور خدا معلوم کیا کچھ کہا جاتا ہے۔ لعنت ہو سعادت حسن منٹو پر، کم بخت کو گالی بھی سلیقے سے نہیں دی جاتی۔

سعادت حسن منٹو

اگر ہم صابن اور لیونڈر کا ذکر کر سکتے ہیں تو ان موریو ں اور بدروؤں کا ذکر کیو ں نہیں کر سکتے جو ہمارے بدن کا میل پیتی ہیں۔ اگر ہم مندروں اور مسجدوں کا ذکر کر سکتے ہیں تو ان قحبہ خانوں کا ذکر کیوں نہیں کر سکتے جہاں سے لوٹ کر کئی انسان مندروں اور مسجدوں کا رخ کرتے ہیں۔۔۔ اگر ہم افیون، چرس، بھنگ اور شراب کے ٹھیکو ں کا ذکر کر سکتے ہیں تو ان کوٹھوں کا ذکر کیوں نہیں کر سکتے جہاں ہر قسم کا نشہ استعمال کیا جاتا ہے؟

سعادت حسن منٹو

اس زمانہ میں سو فیصد سچ بول کر زندگی کرنا ایسا ہی ہے جیسے بجری ملائے بغیر صرف سیمنٹ سے مکان بنانا۔

مشتاق احمد یوسفی

ویشیا پیدا نہیں ہوتی، بنائی جاتی ہے۔ یا خود بنتی ہے۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

مڈل کلاس غریبی کی سب سے قابل رحم اور لا علاج قسم وہ ہے جس میں آدمی کے پاس کچھ نہ ہو لیکن اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔

مشتاق احمد یوسفی

میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔

سعادت حسن منٹو

مذہب خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، اگر اس میں لپیٹ کر کسی اور مسئلے کو دیکھا جائے تو ہمیں بہت ہی مغز دردی کرنی پڑے گی۔

سعادت حسن منٹو

چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔ میری ہیروئن چکلے کی ایک ٹکھیائی رنڈی ہو سکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور دن کو سوتے میں کبھی کبھی ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آ رہا ہے۔۔۔ اس کے بھاری بھاری پپوٹے جن پر برسوں کی اچٹی ہوئی نیندیں منجمد ہو گئی ہیں، میرے افسانوں کا موضوع بن سکتے ہیں۔ اس کی غلاظت، اس کی بیماریاں، اس کا چڑچڑاپن، اس کی گالیاں یہ سب مجھے بھاتی ہیں۔۔۔ میں ان کے متعلق لکھتا ہوں اور گھریلو عورتوں کی شستہ کلامیوں، ان کی صحت اور ان کی نفاست پسندی کو نظر انداز کر جاتا ہوں۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

گداگری قانوناً بند کر دی جاتی ہے مگر وہ اسباب و علل دور کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی جو انسان کو اس فعل پر مجبور کرتے ہیں۔ عورتوں کو سر بازار جسم فروشی کے کاروبار سے روکا جاتا ہے مگر اس کے محرکات کے استیصال کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔

سعادت حسن منٹو

میں تو بعض اوقات ایسا محسوس کرتا ہوں کہ حکومت اور رعایا کا رشتہ روٹھے ہوئے خاوند اور بیوی کا رشتہ ہے۔

سعادت حسن منٹو

یاد رکھیے غربت لعنت نہیں ہے جو اسے لعنت ظاہر کرتے ہیں وہ خود ملعون ہیں۔ وہ غریب اس امیر سے لاکھ درجے بہتر ہے جو اپنی کشتی خود اپنے ہاتھوں سے کھیتا ہے۔۔۔

سعادت حسن منٹو

میرے افسانے تندرست اور صحت مند لوگوں کے لئے ہیں۔ نورمل انسانوں کے لئے۔ جو عورت کے سینے کو عورت کا سینہ ہی سمجھتے ہیں اور اس سے زیادہ آگے نہیں بڑھتے۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

موجودہ نظام کے تحت جس کی باگ ڈور صرف مردوں کے ہاتھ میں ہے، عورت خواہ وہ عصمت فروش ہو یا باعصمت، ہمیشہ دبی رہی ہے۔ مرد کو اختیار ہوگا کہ وہ اس کے متعلق جو چاہے رائے قائم کرے۔

سعادت حسن منٹو

ویشیا کا وجود خود ایک جنازہ ہے جو سماج خود اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہے۔ وہ اسے جب تک کہیں دفن نہیں کرے گا، اس کے متعلق باتیں ہوتی رہیں گی۔

سعادت حسن منٹو

مجھے نام نہاد کمیونسٹوں سے بڑی چڑ ہے۔ وہ لوگ مجھے بہت کھلتے ہیں جو نرم نرم صوفوں پر بیٹھ کر درانتی اور ہتھوڑے کی ضربوں کی باتیں کرتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

جس طرح باعصمت عورتیں ویشیاؤں کی طرف حیرت اور تعجب سے دیکھتی ہیں، ٹھیک اسی طرح وہ بھی ان کی طرف اسی نظر سے دیکھتی ہیں۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

ویشیا کو صرف باہر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے رنگ روپ، اس کی بھڑکیلی پوشاک، آرائش و زیبائش دیکھ کر یہی نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ وہ خوش حال ہے۔ لیکن یہ درست نہیں۔

سعادت حسن منٹو

جسمانی حسیات سے متعلق چیزیں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں مگر جن چیزوں کا تعلق روح سے ہوتا ہے، دیر تک قائم رہتی ہیں۔

سعادت حسن منٹو

چور اچکے رہزن اور ویشیائیں بغیر شراب کے زندہ نہیں رہ سکتیں۔

سعادت حسن منٹو

استبداد کی آندھیاں ٹمٹاتے چراغوں کو گل کر سکتی ہیں مگر انقلاب کے شعلوں پر ان کا کوئی بس نہیں چلتا۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

عصمت فروش عورت ایک زمانے سے دنیا کی سب سے ذلیل ہستی سمجھی جاتی رہی ہے۔ مگر کیا ہم نے غور کیا ہے کہ ہم میں سے اکثر ایسی ذلیل و خوار ہستیوں کے در پر ٹھوکریں کھاتے ہیں! کیا ہمارے دل میں یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ ہم بھی ذلیل ہیں۔

سعادت حسن منٹو

جب تک سماج اپنے قوانین پر از سر نو غور نہ کرے گا وہ ’’نجاست‘‘ دور نہ ہوگی جو تہذیب و تمدن کے اس زمانے میں ہر شہر اور ہر بستی کے اندر موجود ہے۔

سعادت حسن منٹو

جس طرح گھر کے نوکر جھٹ پٹ اپنے آقاؤں کے بستر لگا کر اپنے آرام کا خیال کرتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ویشیا بھی اپنے گاہکوں کو نمٹا کر اپنی خوشی اور راحت کی طرف پلٹ آتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

میرا خیال ہے کہ کوئی بھی چیز فحش نہیں، لیکن گھر کی کرسی اور ہانڈی بھی فحش ہو سکتی ہے اگر ان کو فحش طریقے پر پیش کیا جائے۔۔۔ چیزیں فحش بنائی جاتی ہیں، کسی خاص غرض کے ماتحت۔ عورت اور مرد کا رشتہ فحش نہیں، اس کا ذکر بھی فحش نہیں، لیکن جب اس رشتے کو چوراسی آسنوں یا جوڑ دار خفیہ تصویروں میں تبدیل کر دیا جائے تو میں اس فعل کو صرف فحش ہی نہیں بلکہ نہایت گھناؤنا، مکروہ اور غیر صحت مند کہوں گا۔

سعادت حسن منٹو

بازاری عورتیں سماج کی پیداوار ہیں اور سماج کے وضع کردہ قوانین کی کھاد ان کی پرورش کرتی ہے۔ اگر ان کو اچھا بنانا درکار ہے تو سارے جسم کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک سماج اپنے قوانین پر از سر نو غور نہ کرے گا، وہ ’’نجاست‘‘ دور نہ ہوگی جو تہذیب و تمدن کے اس زمانے میں ہر شہر اور ہر بستی کے اندر موجود ہے۔

سعادت حسن منٹو

جہالت صرف اسی صورت میں دور ہو سکتی ہے جب دانشگاہوں کے سب دروازے عوام پر کھول دیے جائیں گے۔

سعادت حسن منٹو

اگر ویشیا کا ذکر فحش ہے تو اس کا وجود بھی فحش ہے۔ اگر اس کا ذکر ممنوع ہے تو اس کا پیشہ بھی ممنوع ہونا چاہئے۔ اس کا ذکر خود بخود مٹ جائے گا۔

سعادت حسن منٹو

میرا خیال ہے کہ کوئی بھی چیز فحش نہیں، لیکن گھر کی کرسی اور ہانڈی بھی فحش ہو سکتی ہے اگر ان کو فحش طریقے پر پیش کیا جائے۔

سعادت حسن منٹو

آرٹ خواہ وہ تصویر کی صورت میں ہو یا مجسمے کی شکل میں۔ سوسائٹی کے لئے قطعی طور پر ایک پیشکش ہے۔

سعادت حسن منٹو

طعن و تشنیع سے اگر دوسروں کی اصلاح ہو جاتی تو بارود ایجاد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

مشتاق احمد یوسفی

جب تک عورتوں اور مردوں کے جذبات کے درمیان ایک موٹی دیوار حائل رہے گی، عصمت چغتائی اس کے چونے کو اپنے تیز ناخنوں سے کریدتی رہے گی، جب تک کشمیر کے حسین دیہاتوں میں شہروں کی گندگی پھیلی رہے گی، غریب کرشن چندر ہولے ہولے روتا رہے گا۔ جب تک انسانوں میں اور خاص طور پر سعادت حسن منٹو میں کمزوریاں موجود ہیں، وہ خوردبین سے دیکھ دیکھ کر باہر نکالتا اور دوسروں کو دکھاتا رہے گا۔۔۔

سعادت حسن منٹو

ویشیا ارادتاً یا کسی انتقامی جذبے کے زیر اثر مردوں کے مال و زر پر ہاتھ نہیں ڈالتی۔ وہ سودا کرتی ہے اور کماتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

جب تک انسانوں میں اور خاص طور پر سعادت حسن منٹو میں کمزوریاں موجود ہیں، وہ خوردبین سے دیکھ دیکھ کر باہر نکالتا اور دوسروں کو دکھاتا رہے گا۔۔۔

سعادت حسن منٹو

بیسوائیں اب سے نہیں ہزارہا سال سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان کا تذکرہ الہامی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب چونکہ کسی الہامی کتاب یا کسی پیغمبر کی گنجائش نہیں رہی، اس لئے موجودہ زمانے میں ان کا ذکر آپ آیات میں نہیں بلکہ ان اخباروں، کتابوں یا رسالوں میں دیکھتے ہیں جنہیں آپ عود اور لوبان جلائے بغیر پڑھ سکتے ہیں اور پڑھنے کے بعد ردی میں بھی اٹھوا سکتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

ہمارے افسانہ نگاروں کی سب سے مضحکہ خیز تخلیق ولن ہے۔ جس کی ساری عمر گناہ میں بسر کرائی جاتی ہے اور آخر میں اسے نیکی کے سمندر میں غوطہ دے دیا جاتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

کون نہیں جانتا کہ رنڈی کے کوٹھے پر ماں باپ اپنی اولاد سے پیشہ کراتے ہیں اور مقبروں اور تکیوں میں انسان اپنےخدا سے۔

سعادت حسن منٹو

عورت ایک کٹھ پتلی ہےجس کی ڈور سماج کے کوڑھی ہاتھوں میں ہے اور ان کوڑھی ہاتھوں میں جب چل ہونے لگتی ہے تو ڈور کے جھٹکوں سے یہ کٹھ پتلی نچائی جاتی ہے۔

ہاجرہ مسرور

طوائفیت کا مسئلہ طوائفوں کو گالی دینے سے حل نہ ہوگا بلکہ عورتوں کو تعلیم دینے سے، عورتوں کی بھوک مٹانے سے، عورتوں پر دنیا کے دروازے کھولنے سے حل ہوگا۔ جب تک یہ کام حکومت نہیں کرے گی طوائفیں قائم رہیں گی۔

مہندر ناتھ