تجاہل عارفانہ پر شاعری

کسی امرسے واقف ہونےکے باوجود اس سےشعوری طوراپنی لاعلمی کا اظہارکرنا تجاہل کہلاتا ہے۔ تجاہل کلاسیکی شاعری کے معشوق کی خاص صفت ہے۔معشوق عاشق کوسرمجلس دیکھتا بھی ہے،اس کے دکھوں،تکلیفوں اورہجرکےنالوں سےبھی واقف ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اپنی مکمل بے خبری کا اظہارکرتا ہے۔ معشوق کا یہ تجاہل عاشق کے دکھ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔عشق کے ان دلچسپ حصوں کی کہانی ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے۔

بھری دنیا میں فقط مجھ سے نگاہیں نہ چرا

عشق پر بس نہ چلے گا تری دانائی کا

احمد ندیم قاسمی

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا

یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں

امیر مینائی

انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے

کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

بیخود دہلوی

متعلقہ موضوعات