تجربہ شاعری

زخم لگا کر اس کا بھی کچھ ہاتھ کھلا

میں بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ہوا

زیب غوری

ہماری راہ سے پتھر اٹھا کر پھینک مت دینا

لگی ہیں ٹھوکریں تب جا کے چلنا سیکھ پائے ہیں

نفس انبالوی

متعلقہ موضوعات