دلّی پر منتخب اشعار
شاعروں نے دلی کو عالم میں انتخاب ایک شہر بھی باندھا ہے اور بھی طرح طرح سے اس کے قصیدے پڑھے گئے ہیں لیکن تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس شہر کی ساری رونقیں ختم کر دی گئیں ، اس کے گلی کوچے ویران ہو گئے اور اس کی ادبی وتہذیبی مرکزیت ختم ہوگئی، بے حالی کے عالم میں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے اور پورے شہر پر ایک مردمی چھا گئی۔ اس صورتحال نے سب سے زیادہ گہرا اور دیر پا اثر تخلیق کاروں پر چھوڑا ۔ شاعروں نے دلی کو موضوع بنا کر جو شعر کہے وہ بیشتر دلی کی اس صورتحال کا نوحہ ہیں ۔
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں کل کی شان و شوکت اور آج کی محتاجی کا سخت تضاد دکھایا گیا ہے۔ تاج و تخت اقتدار اور غرور کی علامت ہیں، اور بھیک نہ ملنا انتہائی بے بسی کی تصویر۔ شاعر طنزیہ انداز میں بتاتا ہے کہ زمانے کی گردش کس طرح اونچوں کو پست کر دیتی ہے۔ اصل کرب یہ ہے کہ زوال اتنا شدید ہے کہ اب درِ در بھی کوئی آسرا نہیں۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں کل کی شان و شوکت اور آج کی محتاجی کا سخت تضاد دکھایا گیا ہے۔ تاج و تخت اقتدار اور غرور کی علامت ہیں، اور بھیک نہ ملنا انتہائی بے بسی کی تصویر۔ شاعر طنزیہ انداز میں بتاتا ہے کہ زمانے کی گردش کس طرح اونچوں کو پست کر دیتی ہے۔ اصل کرب یہ ہے کہ زوال اتنا شدید ہے کہ اب درِ در بھی کوئی آسرا نہیں۔
-
موضوعات : دہلیاور 1 مزید
ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن
کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ دکن میں شعراء کی سرپرستی اور عزت دلی کے مقابلے میں زیادہ ہے، جہاں زوال آ چکا ہے۔ اس کے باوجود شاعر کا دلی سے عشق اتنا گہرا ہے کہ وہ بہتر مستقبل کی خاطر بھی اپنے شہر کی گلیوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے کو تیار نہیں ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ دکن میں شعراء کی سرپرستی اور عزت دلی کے مقابلے میں زیادہ ہے، جہاں زوال آ چکا ہے۔ اس کے باوجود شاعر کا دلی سے عشق اتنا گہرا ہے کہ وہ بہتر مستقبل کی خاطر بھی اپنے شہر کی گلیوں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے کو تیار نہیں ہے۔
-
موضوع : دہلی
امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور
کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے
EXPLANATION #1
دہلی کے امیر لوگوں کے بیٹوں سے میرا ملنا جلنا بس میں نہیں۔
کیونکہ انہی کی دولت نے ہمیں فقیر بنا دیا ہے۔
میر تقی میر اس شعر میں طبقاتی فاصلے کی کڑوی حقیقت دکھاتے ہیں۔ امیروں کی محفلیں شاعر کی دسترس سے باہر ہیں، مگر وجہ کم مائیگی نہیں بلکہ وہ ناانصافی ہے جو امیروں کی دولت کے ساتھ جڑی ہے۔ یہاں “انہی کی دولت” میں طنزیہ اشارہ ہے کہ اسی نظامِ دولت نے غریبی کو جنم دیا۔ لہجہ شکوہ بھی ہے اور خاموش الزام بھی۔
شفق سوپوری
EXPLANATION #1
دہلی کے امیر لوگوں کے بیٹوں سے میرا ملنا جلنا بس میں نہیں۔
کیونکہ انہی کی دولت نے ہمیں فقیر بنا دیا ہے۔
میر تقی میر اس شعر میں طبقاتی فاصلے کی کڑوی حقیقت دکھاتے ہیں۔ امیروں کی محفلیں شاعر کی دسترس سے باہر ہیں، مگر وجہ کم مائیگی نہیں بلکہ وہ ناانصافی ہے جو امیروں کی دولت کے ساتھ جڑی ہے۔ یہاں “انہی کی دولت” میں طنزیہ اشارہ ہے کہ اسی نظامِ دولت نے غریبی کو جنم دیا۔ لہجہ شکوہ بھی ہے اور خاموش الزام بھی۔
شفق سوپوری
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 2 مزید
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر دِلّی کی ایسی ویرانی دکھاتے ہیں کہ شہر جیتا جاگتا محسوس نہیں ہوتا۔ کوچے “اوراقِ مصور” بن گئے ہیں، یعنی زندگی کے بجائے صرف نقش و نگار رہ گئے۔ ہر منظر تصویر کی طرح ساکن اور بے جان دکھائی دیتا ہے۔ اس میں نقصان، یادِ ماضی اور دل کی ٹوٹ پھوٹ کی کیفیت چھپی ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر دِلّی کی ایسی ویرانی دکھاتے ہیں کہ شہر جیتا جاگتا محسوس نہیں ہوتا۔ کوچے “اوراقِ مصور” بن گئے ہیں، یعنی زندگی کے بجائے صرف نقش و نگار رہ گئے۔ ہر منظر تصویر کی طرح ساکن اور بے جان دکھائی دیتا ہے۔ اس میں نقصان، یادِ ماضی اور دل کی ٹوٹ پھوٹ کی کیفیت چھپی ہے۔
-
موضوعات : تصویراور 1 مزید
اے وائے انقلاب زمانے کے جور سے
دلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر زمانے کی کروٹ اور اس کے ظلم پر ماتم کرتا ہے۔ دہلی یہاں صرف شہر نہیں بلکہ اختیار، وطن اور پہچان کی علامت ہے جو اچانک چھن گئی۔ “پل میں” کا اظہار اس بات کو تیز کر دیتا ہے کہ حالات کس برق رفتاری سے بدلتے ہیں اور انسان بے بس رہ جاتا ہے۔
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر زمانے کی کروٹ اور اس کے ظلم پر ماتم کرتا ہے۔ دہلی یہاں صرف شہر نہیں بلکہ اختیار، وطن اور پہچان کی علامت ہے جو اچانک چھن گئی۔ “پل میں” کا اظہار اس بات کو تیز کر دیتا ہے کہ حالات کس برق رفتاری سے بدلتے ہیں اور انسان بے بس رہ جاتا ہے۔
-
موضوع : دہلی
-
موضوع : دہلی
-
موضوع : دہلی
-
موضوع : دہلی
-
موضوع : دہلی
دل ربا تجھ سا جو دل لینے میں عیاری کرے
پھر کوئی دلی میں کیا دل کی خبرداری کرے
-
موضوع : دہلی