Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Akbar Hyderabadi's Photo'

اکبر حیدرآبادی

1925 | لندن, برطانیہ

اکبر حیدرآبادی کے اشعار

3.4K
Favorite

باعتبار

چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہی

جلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا

دل دبا جاتا ہے کتنا آج غم کے بار سے

کیسی تنہائی ٹپکتی ہے در و دیوار سے

چھوڑ کے مال و دولت ساری دنیا میں اپنی

خالی ہاتھ گزر جاتے ہیں کیسے کیسے لوگ

خود پرستی خدا نہ بن جائے

احتیاطاً گناہ کرتا ہوں

آنکھ میں آنسو کا اور دل میں لہو کا کال ہے

ہے تمنا کا وہی جو زندگی کا حال ہے

لبوں پر تبسم تو آنکھوں میں آنسو تھی دھوپ ایک پل میں تو اک پل میں بارش

ہمیں یاد ہے باتوں باتوں میں ان کا ہنسانا رلانا رلانا ہنسانا

ہمت والے پل میں بدل دیتے ہیں دنیا کو

سوچنے والا دل تو بیٹھا سوچا کرتا ہے

مسافرت کا ولولہ سیاحتوں کا مشغلہ

جو تم میں کچھ زیادہ ہے سفر کرو سفر کرو

آنکھوں کو دیکھنے کا سلیقہ جب آ گیا

کتنے نقاب چہرۂ اسرار سے اٹھے

برے بھلے میں فرق ہے یہ جانتے ہیں سب مگر

ہے کون نیک کون بد نظر نظر کی بات ہے

رت بدلی تو زمیں کے چہرے کا غازہ بھی بدلا

رنگ مگر خود آسمان نے بدلے کیسے کیسے

رستے ہی میں ہو جاتی ہیں باتیں بس دو چار

اب تو ان کے گھر بھی جانا کم کم ہوتا ہے

مبہم تھے سب نقوش نقابوں کی دھند میں

چہرہ اک اور بھی پس چہرہ ضرور تھا

وہ پاس ہو کے دور ہے تو دور ہو کے پاس

فراق اور وصال ہیں عجیب عجیب سے

پہنچ کے جو سر منزل بچھڑ گیا مجھ سے

وہ ہم سفر تھا مگر ہم نظر نہ تھا میرا

نہ جانے کتنی بستیاں اجڑ کے رہ گئیں

ملے ہیں راستے میں کچھ مکاں جلے جلے

ہر دکاں اپنی جگہ حیرت نظارہ ہے

فکر انساں کے سجائے ہوئے بازار تو دیکھ

مری شکست بھی تھی میری ذات سے منسوب

کہ میری فکر کا ہر فیصلہ شعوری تھا

یہی سوچ کر اکتفا چار پر کر گئے شیخ جی

ملیں گی وہاں ان کو حور اور پریاں وغیرہ وغیرہ

مشکل ہی سے کر لیتی ہے دنیا اسے قبول

ایسی حقیقت جس میں فسانہ کم کم ہوتا ہے

بے سال و سن زمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ہم

بے رنگ و نسل نام میں تو بھی ہے میں بھی ہوں

Recitation

بولیے