Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ali Akbar Natiq's Photo'

علی اکبر ناطق

1976 | لاہور, پاکستان

معروف پاکستانی شاعر اور افسانہ نگار، خوبصورت اور بامعنی نظمیں کہتے ہیں، اپنے ناول "نولکھی کوٹھی" کے لیے مشہور

معروف پاکستانی شاعر اور افسانہ نگار، خوبصورت اور بامعنی نظمیں کہتے ہیں، اپنے ناول "نولکھی کوٹھی" کے لیے مشہور

علی اکبر ناطق کے اشعار

428
Favorite

باعتبار

حجاب آ گیا تھا مجھ کو دل کے اضطراب پر

یہی سبب ہے تیرے در پہ لوٹ کر نہ آ سکا

کوئی نہ رستہ ناپ سکا ہے، ریت پہ چلنے والوں کا

اگلے قدم پر مٹ جائے گا پہلا نقش ہمارا بھی

اتنا آساں نہیں پانی سے شبیہیں دھونا

خود بھی روئے گا مصور یہ قیامت کر کے

سرد راتوں کی ہوا میں اڑتے پتوں کے مثیل

کون تیرے شب نوردوں کو سنبھالے شہر میں

آدھے پیڑ پہ سبز پرندے آدھا پیڑ آسیبی ہے

کیسے کھلے یہ رام کہانی کون سا حصہ میرا ہے

غبار شہر میں اسے نہ ڈھونڈ جو خزاں کی شب

ہوا کی راہ سے ملا، ہوا کی راہ پر گیا

مختصر بات تھی، پھیلی کیوں صبا کی مانند

درد مندوں کا فسانہ تھا، اچھالا کس نے

چراغ بانٹنے والوں پہ حیرتیں نہ کرو

یہ آفتاب ہیں، شب کی دعا میں شاد رہیں

بستیوں والے تو خود اوڑھ کے پتے، سوئے

دل آوارہ تجھے رات سنبھالا کس نے

کسی کا سایہ رہ گیا گلی کے عین موڑ پر

اسی حبیب سائے سے بنی ہماری داستاں

زرد پھولوں میں بسا خواب میں رہنے والا

دھند میں الجھا رہا نیند میں چلنے والا

آسماں کے روزنوں سے لوٹ آتا تھا کبھی

وہ کبوتر اک حویلی کے چھجوں میں کھو گیا

وہ شخص امر ہے، جو پیوے گا دو چاندوں کے نور

اس کی آنکھیں سدا گلابی جو دیکھے اک لال

دھوپ پھیلی تو کہا دیوار نے جھک کر مجھے

مل گلے میرے مسافر، میرے سائے کے حبیب

فاختائیں بولتی ہیں بجروں کے دیس میں

تو بھی سن لے آسماں یہ گیت میرے نام کا

Recitation

بولیے