Azhar Faragh's Photo'

پاکستان کی نئی نسل کے مشہور شاعر، ’میں کسی داستان سے ابھروں گا‘ کے نام سے شعری مجموعہ شائع ہوا

پاکستان کی نئی نسل کے مشہور شاعر، ’میں کسی داستان سے ابھروں گا‘ کے نام سے شعری مجموعہ شائع ہوا

1.58K
Favorite

باعتبار

دیواریں چھوٹی ہوتی تھیں لیکن پردہ ہوتا تھا

تالوں کی ایجاد سے پہلے صرف بھروسہ ہوتا تھا

دفتر سے مل نہیں رہی چھٹی وگرنہ میں

بارش کی ایک بوند نہ بیکار جانے دوں

تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول

یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے

جب تک ماتھا چوم کے رخصت کرنے والی زندہ تھی

دروازے کے باہر تک بھی منہ میں لقمہ ہوتا تھا

میں جانتا ہوں مجھے مجھ سے مانگنے والے

پرائی چیز کا جو لوگ حال کرتے ہیں

یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے ریاضت کس کی

لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو

بتا رہا ہے جھٹکنا تری کلائی کا

ذرا بھی رنج نہیں ہے تجھے جدائی کا

اس سے ہم پوچھ تھوڑی سکتے ہیں

اس کی مرضی جہاں رکھے جس کو

اچھے خاصے لوگوں پر بھی وقت اک ایسا آ جاتا ہے

اور کسی پر ہنستے ہنستے خود پر رونا آ جاتا ہے

مل گیا تو مجھے میرا نہیں رہنے دے گا

وہ سمندر مجھے قطرہ نہیں رہنے دے گا

اسے کہو جو بلاتا ہے گہرے پانی میں

کنارے سے بندھی کشتی کا مسئلہ سمجھے

خطوں کو کھولتی دیمک کا شکریہ ورنہ

تڑپ رہی تھی لفافوں میں بے زبانی پڑی

آنکھ کھلتے ہی جبیں چومنے آ جاتے ہیں

ہم اگر خواب میں بھی تم سے لڑے ہوتے ہیں

ہائے وہ بھیگا ریشمی پیکر

تولیا کھردرا لگے جس کو

یہ اعتماد بھی میرا دیا ہوا ہے تمہیں

جو میرے مشورے بیکار جانے لگ گئے ہیں

وہ دستیاب ہمیں اس لئے نہیں ہوتا

ہم استفادہ نہیں دیکھ بھال کرتے ہیں

کچھ نہیں دے رہا سجھائی ہمیں

اس قدر روشنی کا کیا کیجے

ایسی غربت کو خدا غارت کرے

پھول بھجوانے کی گنجائش نہ ہو

یہ کچے سیب چبانے میں اتنے سہل نہیں

ہمارا صبر نہ کرنا بھی ایک ہمت ہے

کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے

کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے

وصل کے ایک ہی جھونکے میں

کان سے بالے اتر گئے

ہمارے ظاہری احوال پر نہ جا ہم لوگ

قیام اپنے خد و خال میں نہیں کرتے

ہم اپنی نیکی سمجھتے تو ہیں تجھے لیکن

شمار نامۂ اعمال میں نہیں کرتے

بہت غنیمت ہیں ہم سے ملنے کبھی کبھی کے یہ آنے والے

وگرنہ اپنا تو شہر بھر میں مکان تالے سے جانا جائے

تیز آندھی میں یہ بھی کافی ہے

پیڑ تصویر میں بچا لیا جائے

بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب تخت

جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے

ٹھہرنا بھی مرا جانا شمار ہونے لگا

پڑے پڑے میں پرانا شمار ہونے لگا

یہ خموشی مری خموشی ہے

اس کا مطلب مکالمہ لیا جائے

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے

ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے

گیلے بالوں کو سنبھال اور نکل جنگل سے

اس سے پہلے کہ ترے پاؤں یہ جھرنا پڑ جائے

ایک ہی وقت میں پیاسے بھی ہیں سیراب بھی ہیں

ہم جو صحراؤں کی مٹی کے گھڑے ہوتے ہیں

میری نمو ہے تیرے تغافل سے وابستہ

کم بارش بھی مجھ کو کافی ہو سکتی ہے

خود پر حرام سمجھا ثمر کے حصول کو

جب تک شجر کو چھاؤں کے قابل نہیں کیا

ایک ہونے کی قسمیں کھائی جائیں

اور آخر میں کچھ دیا لیا جائے

یہ لوگ جا کے کٹی بوگیوں میں بیٹھ گئے

سمے کو ریل کی پٹری کے ساتھ چلنے دیا

ہماری معذرت اے غم کہ مسکرا رہے ہیں

ہم اپنا ہاتھ تری پشت سے ہٹا رہے ہیں

محسوس کر لیا تھا بھنور کی تھکان کو

یونہی تو خود کو رقص پہ مائل نہیں کیا

دلیل اس کے دریچے کی پیش کی میں نے

کسی کو پتلی گلی سے نہیں نکلنے دیا

ویسے تو ایمان ہے میرا ان بانہوں کی گنجائش پر

دیکھنا یہ ہے اس کشتی میں کتنا دریا آ جاتا ہے

گرتے پیڑوں کی زد میں ہیں ہم لوگ

کیا خبر راستہ کھلے کب تک

بہت سے سانپ تھے اس غار کے دہانے پر

دل اس لئے بھی خزانہ شمار ہونے لگا

یہ جو رہتے ہیں بہت موج میں شب بھر ہم لوگ

صبح ہوتے ہی کنارے پہ پڑے ہوتے ہیں

منظر شام غریباں ہے دم رخصت خواب

تعزیے کی طرح اٹھا ہے کوئی بستر سے

ازالہ ہو گیا تاخیر سے نکلنے کا

گزر گئی ہے سفر میں مرے قیام کی شام