بسمل آغائی کے اشعار
ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم
اب گھر سا نظر آنے لگا ہے مرا گھر بھی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہوتی رہی آنکھوں سے جو یوں خون کی بارش
دل ختم نہ ہو جائے جگر ختم نہ ہو جائے
سمٹا ترا خیال تو دل میں سما گیا
پھیلا تو اس قدر کہ سمندر لگا مجھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہر نشتر تفریق نے مرہم کا کیا کام
توڑے گئے لیکن مرے احباب نہ ٹوٹے
پھر گردش دوراں سے الجھنا نہیں مشکل
غربت میں جو پندار تب و تاب نہ ٹوٹے
-
موضوع : مفلسی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
گھر میں بھی نظر آئیں گے انداز بیاباں
جب تک مری وحشت کا اثر ختم نہ ہو جائے