Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Bismil Aghai's Photo'

بسمل آغائی

1931 | حیدر آباد, انڈیا

بسمل آغائی کے اشعار

ہر سمت ہے ویرانی سی ویرانی کا عالم

اب گھر سا نظر آنے لگا ہے مرا گھر بھی

ہوتی رہی آنکھوں سے جو یوں خون کی بارش

دل ختم نہ ہو جائے جگر ختم نہ ہو جائے

سمٹا ترا خیال تو دل میں سما گیا

پھیلا تو اس قدر کہ سمندر لگا مجھے

ہر نشتر تفریق نے مرہم کا کیا کام

توڑے گئے لیکن مرے احباب نہ ٹوٹے

پھر گردش دوراں سے الجھنا نہیں مشکل

غربت میں جو پندار تب و تاب نہ ٹوٹے

گھر میں بھی نظر آئیں گے انداز بیاباں

جب تک مری وحشت کا اثر ختم نہ ہو جائے

Recitation

بولیے