Hasrat Mohani's Photo'

حسرتؔ موہانی

1875 - 1951 | دلی, ہندوستان

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن

آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے

ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کی

دشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا

she was so annoyed she did not even torment me

in doing so denied what was due to enmity

she was so annoyed she did not even torment me

in doing so denied what was due to enmity

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود

رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے

دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر

کہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے

غم آرزو کا حسرتؔ سبب اور کیا بتاؤں

مری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندی

ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق

پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا

کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا

کہنے کو تو میں بھول گیا ہوں مگر اے یار

ہے خانۂ دل میں تری تصویر ابھی تک

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی

دامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کی

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں

دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل

پھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا

مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے

ترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے

مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستم

ہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو جائیے

تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال

دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہار

جس قدر چاہنا پھر بعد میں برسا کرنا

Added to your favorites

Removed from your favorites