Hasrat Mohani's Photo'

حسرتؔ موہانی

1878 - 1951 | دلی, ہندوستان

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

آئینے میں وہ دیکھ رہے تھے بہار حسن

آیا مرا خیال تو شرما کے رہ گئے

تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال

دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کی

دشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا

she was so annoyed she did not even torment me

in doing so denied what was due to enmity

she was so annoyed she did not even torment me

in doing so denied what was due to enmity

دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر

کہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے

کہنے کو تو میں بھول گیا ہوں مگر اے یار

ہے خانۂ دل میں تری تصویر ابھی تک

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود

رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

غم آرزو کا حسرتؔ سبب اور کیا بتاؤں

مری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندی

مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے

ترے حسن کو بے وفا کہتے کہتے

مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو

ہے انتہائے یاس بھی اک ابتدائے شوق

پھر آ گئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم

مانوس ہو چلا تھا تسلی سے حال دل

پھر تو نے یاد آ کے بدستور کر دیا

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی

خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی

دامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کی

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں

دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستم

ہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو جائیے

حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا

کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا

ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہار

جس قدر چاہنا پھر بعد میں برسا کرنا