عیادت پر شاعری

عیادت پر کی جانے والی شاعری بہت دلچسپ اور مزے دار پہلو رکھتی ہے ۔ عاشق بیمار ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ معشوق اس کی عیادت کیلئے آئے ۔ اس لئے وہ اپنی بیماری کے طول پکڑنے کی دعا بھی مانگتا ہے لیکن معشوق ایسا جفا پیشہ ہے کہ عیادت کیلئے بھی نہیں آتا ۔ یہ رنگ ایک عاشق کا ہی ہو سکتا ہے کہ وہ سو بار بیمار پڑنے کا فریب کرتا ہے لیکن اس کا مسیح ایک بار بھی عیادت کو نہیں آتا ۔ یہ صرف ایک پہلو ہے اس کے علاوہ بھی عیادت کے تحت بہت دلچسپ مضامین باندھے گئے ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔

پوچھ لیتے وہ بس مزاج مرا

کتنا آسان تھا علاج مرا

فہمی بدایونی

دیکھنے آئے تھے وہ اپنی محبت کا اثر

کہنے کو یہ ہے کہ آئے ہیں عیادت کر کے

حسرتؔ موہانی

آج اس نے ہنس کے یوں پوچھا مزاج

عمر بھر کے رنج و غم یاد آ گئے

احسان دانش

عیادت کو مری آ کر وہ یہ تاکید کرتے ہیں

تجھے ہم مار ڈالیں گے نہیں تو جلد اچھا ہو

داغؔ دہلوی

آیا نہ ایک بار عیادت کو تو مسیح

سو بار میں فریب سے بیمار ہو چکا

امیر مینائی

آتے ہیں عیادت کو تو کرتے ہیں نصیحت

احباب سے غم خوار ہوا بھی نہیں جاتا

فانی بدایونی

اپنی زباں سے کچھ نہ کہیں گے چپ ہی رہیں گے عاشق لوگ

تم سے تو اتنا ہو سکتا ہے پوچھو حال بیچاروں کا

ابن انشا

بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ

دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ

مومن خاں مومن

آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئی

لب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہوا

ابن انشا

اک بار اور میری عیادت کو آئیے

اچھی طرح سے میں ابھی اچھا ہوا نہیں

رنج میرٹھی

تندرستی سے تو بہتر تھی مری بیماری

وہ کبھی پوچھ تو لیتے تھے کہ حال اچھا ہے

حفیظ جونپوری

وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے

اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا

عرش صدیقی

آنے لگے ہیں وہ بھی عیادت کے واسطے

اے چارہ گر مریض کو اچھا کیا نہ جائے

حمید جالندھری

وہ عیادت کے لئے آئے ہیں لو اور سہی

آج ہی خوبیٔ تقدیر سے حال اچھا ہے

نامعلوم

جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیے

تم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھا

حفیظ جونپوری

کبھو بیمار سن کر وہ عیادت کو تو آتا تھا

ہمیں اپنے بھلے ہونے سے وہ آزار بہتر تھا

شیخ ظہور الدین حاتم

وہ عیادت کو نہ آیا کریں میں در گزرا

حال دل پوچھ کے اور آگ لگا جاتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

کون آتا ہے عیادت کے لیے دیکھیں فراغؔ

اپنے جی کو ذرا ناساز کیے دیتے ہیں

فراغ روہوی

لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کر

بیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کر

تاباں عبد الحی

ایک دن پوچھا نہ حاتمؔ کو کبھو اس نے کہ دوست

کب سے تو بیمار ہے اور کیا تجھے آزار ہے

شیخ ظہور الدین حاتم

متعلقہ موضوعات